اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3333
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم فرمائے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ نے (فرشتوں سے لوح محفوظ میں میں ان اعمال کو) لکھوا دیا
ہے جن پر (بندہ مومن کو) نیکیاں ملتی ہیں اور ثواب حاصل ہوتا ہے (اسی طرح اللہ تعالیٰ نے لوح
محفوظ ان اعمال کو بھی لکھوا دیا ہے جن کے کرنے پر بندہ مومن کو گناہ ہوتا ہے اور سزا ملتی ہے) پس
اگر کوئی بندہ کسی نیکی کا پکا ارادہ کر لیتا ہے اور (کسی عذر) کی وجہ سے اس کو انجام نہ دے سکا تو بھی اللہ
تعالیٰ (اس کی نیت کی وجہ سے) اس کو پوری نیکی کا ثواب عطا فرماتے ہیں اور جو شخص ارادہ کے ساتھ
ساتھ اس نیک عمل کو کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ (اپنے فضل سے) اس کے لئے (نامہ اعمال میں کبھی)
دس اور (کبھی) سات سو اور (کبھی) اس سے زائد بھی (اس کے خلوص کے مطابق) نیکیاں
لکھوا دیتے ہیں اور اس کے برخلاف جو شخص کسی برائی کا ارادہ کرے اور (اللہ تعالیٰ کے ڈر سے) اس
کو روبہ عمل نہ لائے تو اللہ تعالیٰ (اس کے خوف کی وجہ سے) اس برائی کے معاوضہ میں پوری نیکی لکھ
دیتے ہیں اور جو شخص برائی کا ارادہ کر کے اس پر عمل بھی کر لے تو ایک برائی کے بدلہ ایک ہی گناہ (اس
کے نامہ اعمال میں) لکھا جاتا ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 6491 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 131a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: صاحب مرقات نے امام نووی سے نقل کیا ہے کہ: سبحان اللہ! اس حدیث شریف میں اللہ تعالیٰ کی رحمت بے پایاں کا اظہار ہے کہ برائی کے قصد کو نامہ اعمال میں لکھوایا نہ جائے اور نیکی کے قصد کو بغیر عمل کئے کے بھی ایک نیکی لکھوا دی جاتی ہے اور برائی کے کرنے کے بعد ایک ہی برائی لکھوائی جائے اور ایک نیکی کے بدلہ میں دس گنا، سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ نیکیاں لکھوائی جائیں۔ البتہ کوئی شخص برائی کا قصد کر کے اور خوف کے علاوہ خدا کے کسی اور مجبوری سے اس برائی کو نہ کر سکے تو ایسے شخص کے لئے ایک برائی کی نیت کے بدلے ایک گناہ لکھا جائے گا۔ جیسے کسی نے رات کو اپنے دل میں یہ عزم کرلیا کہ فلاں کو قتل کردوں گا اور اسی رات کو وہ مرگیا تو اس پر قتل کے قصد کی وجہ سے قتل کا گناہ لکھا جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے (سورہ بنی اسرائیل، آیت نمبر:36) ”اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا“، بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے (قیامت کے دن) پوچھ ہوگی (کہ آنکھ کا استعمال کہاں کیا، کان کا استعمال کہاں کیا اور دل میں بے دلیل بات کا کیوں خیال جمایا) اور عُجب، کبر اور ریا یہ دل کی بیماریاں ہیں اور ان پر بھی مؤاخذہ ہے۔ یہ مضمون مرقات سے ماخوذ ہے۔