Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں اللہ تعالیٰ کے ناموں کی فضیلتوں کا بیان ہے)

Hadith 2902

(اس باب میں ان دعاؤں کا ذکر ہے جن کا مختلف اوقات میں پڑھنا مسنون ہے)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں اللہ تعالیٰ کے ناموں کی فضیلتوں کا بیان ہے)

(اس باب میں ان دعاؤں کا ذکر ہے جن کا مختلف اوقات میں پڑھنا مسنون ہے)

Zujajat al-Masabih 2902Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3418
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو یوں دعاء فرماتے سنا: (یا الٰہی! میں آپ سے نعمت تمام مانگتا ہوں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے دریافت کیا تمام نعمت کیا چیز ہے؟ اس نے جواب دیا کہ وہ ایسی دعاء ہے جس سے میں امید کرتا ہوں کہ مجھے مال کثیر مل جائے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نعمت تمام تو دخولِ جنت اور دوزخ سے نجات ہے! اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک (دوسرے) شخص کو ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ (اے بزرگی اور بخشش کے مالک) کہتے ہوئے سنا تو آپ نے ارشاد فرمایا: تیرے یہ کلمات قبول ہوگئے (یعنی اللہ تعالیٰ تیری طرف متوجہ ہیں) اب (تجھے جو مانگنا ہے) مانگ لے! اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اور (تیسرے) شخص کو یہ دعاء کرتے سنا: اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ (یا الٰہی میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تو نے اللہ تعالیٰ سے مصیبت مانگ لی ہے! تو اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگ!۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3527 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

so rather ask Him for well-being

(1) The statement "so rather ask Him for well-being" applies before trials occur. After trials begin, there is no prohibition in asking for patience - rather it is recommended, as in Allah's saying: "Pour upon us patience" (Quran 2:250). As mentioned in Al-Maraqi.

Note 1

قوله فاسأله العافية محل هذا إنما هو قبل وقوع البلاء، وما بعده فلا منع من سؤال الصبر، بل مستحب؛ لقوله تعالى

(۱) قوله فاسأله العافية محل هذا إنما هو قبل وقوع البلاء، وما بعده فلا منع من سؤال الصبر، بل مستحب؛ لقوله تعالى: ﴿أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا﴾ (البقرة: ٢٥٠). قاله في «المرقاة».

Note 1

ف: حدیث شریف میں یہ مذکور ہے کہ ایک شخص دنیا کو نعمتِ تام سمجھ کر اس کے حصول کی دعاء مانگ رہا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا کی نعمت فانی ہے اور نعمت تام کی حقیقت تو دخولِ جنت اور دوزخ سے نجات ہے۔ اور دوسرے شخص نے صبر مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عافیت مانگ اس لئے کہ صبر تو بلاء کے بعد مانگنا چاہئے اور بلاء سے پہلے عافیت مانگنی چاہئے۔ مرقات 12