English
‘Ali (may Allah be pleased with him) said: "If you assume Ihram for Hajj and ‘Umrah, perform two Tawafs and two Sa‘is between As-Safa and Al-Marwah." Mansur said: "I met Mujahid, who was issuing Fatwa that Qiran requires only one Tawaf. I mentioned this Hadith to him, and he said, ‘Had I heard it, I would have only issued Fatwa for two.’"
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٠١٦ - وَعَنْ عَليٍّ(رضي الله عنه)قَالَ: إِذَا أَهْلَلْتَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَطُفْ لَهُمَا طَوَافَيْنِ وَاسْعَ لَهُمَا سَعْيَيْنِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ. قَالَ مَنْصُورُ: فَلَقِيْتُ مُجَاهِدًا وَهُوَ يُفْتِي بِطَوَافٍ وَاحِدٍ لِمَنْ قَرَنَ، فَحَدَّثْتُهُ بِهَذَا الْحَدِيْثِ، فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ سَمِعْتُهُ لَمْ أُفْتِ إِلَّا بِطَوَافَيْنِ، وَأَمَّا بَعْدَهُ فَلَا أُفْتِي إِلَّا بِهِمَا رَوَاهُ1 مُحَمَّدُ فِي كِتَابِ الْآثَارِ، وَرَوَى الطَّحَاوِيُّ نَحْوَهُ.
وَذَكَرَ أَبُو2 عُمَرَ فِي الْتَمْهِيْدِ حَدِيثَ أَبِي نَصْرٍ عَنْ عَلِيٍّ (رضي الله عنه)، ثُمَّ قَالَ: وَرَوَى الْأَعْمَشُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَمَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا (رضي الله عنه)فَذَكَرَهُ، وَهَذَا أَيْضًا إِسْنَادُ جَيْدٌ.
اردو
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا جب تم حج اور عمرہ کا
(قرآن کی نیت سے) ایک ساتھ احرام باندھو تو تم دو طواف کرو اور دو مرتبہ سعی بین الصفا والمروہ ادا
کرو (ایک طواف اور ایک سعی عمرہ کی اور اسی طرح دوسرا طواف حج کا طواف زیارہ اور حج کی سعی)
منصور کہتے ہیں کہ میں مجاہد سے ملا تو (دیکھا کہ) وہ قارن کے لئے ایک ہی طواف کا فتویٰ دے رہے
تھے تو میں نے ان سے (حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر میں
اس حدیث کو پہلے سن لیا ہوتا تو (قارن کے لئے) دو طواف کا فتویٰ دیتا اب (جب کہ مجھے معلوم
ہو چکا ہے اس لئے) آئندہ سے (قارن کے لئے) دو طواف اور دو سعی کا فتویٰ دوں گا۔ اس کی
روایت امام محمد نے کتاب الآثار میں کی ہے اور امام طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
اور ابو عمر نے التمہید میں اس حدیث کو ابو نضر کے واسطہ سے حضرت علی رضی
اللہ عنہ سے بیان کیا ہے اور ابو عمر نے یہ بھی کہا ہے کہ اعمش نے اس حدیث کو ابراہیم نخعی سے اور مالک
بن حارث نے عبدالرحمن بن اذینہ سے روایت کی ہے اور عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی
رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا تو آپ نے ایسا ہی بیان کیا (کہ قارن کو دو طواف اور دو سعی ادا کرنے
چاہئے) اور یہ سند بھی جید ہے۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(۱) قوله: رواه محمد: قال الشيخ ابن الهمام: لا شبهة في هذا السند، مع أنه روي عن علي له بطرق كثيرة مضعفة ترتقي إلى الحسن، غير أنا تركناها واقتصرنا على ما هو الحجة بنفسه بلا ضم.
Note 2
(۲) قوله : وذكر إلخ : كذا في الجوهر النقي».