العربية
Typed, pending editorial approval
٣٠٢٧ – وَعَنْهُ(رضي الله عنهما)قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: نَزَلَ الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ وَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ فَسَوَّدَتْهُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثُ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 877 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 2577 (unverified) 85% confidence
Mishkat (candidate) 2577
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ حجر اسود ایک جنتی پتھر تھا اور جنت کی برکتیں اور کمالات اس میں موجود تھے، چونکہ یہ انسانوں کے گناہوں کو جذب کرتا رہا اور اس کی روشنی اور سفیدی ختم ہوتی گئی۔ یہاں ایک بات قابل عبرت یہ ہے کہ گناہ جب جمادات کو بھی متغیر کر دیتے ہیں تو دلوں کا کیا حال ہو گا۔ علامہ فاسی رحمہ اللہ نے تاریخ مکہ میں لکھا ہے کہ انہوں نے (579ھ) میں حجر اسود میں ایک سفید نقطہ کو دیکھا تھا اور فقیہ سلیمان عسقلانی رحمہ اللہ نے اپنی مناسک میں لکھا ہے کہ (708ھ) میں انہوں نے حجر اسود میں تین جگہ سفیدی دیکھی تھی اور ہر وقت اس کی روشنی اور سفیدی میں کمی کو بھی محسوس کیا تھا۔ مرقات اور اشعۃ اللمعات۔12