English
Ubaid ibn Umayr reported: I saw Ibn Umar (may Allah be pleased with them) pushing through the crowd at the two corners (Black Stone and Yemeni Corner) in a way I never saw any other Companion do. He said, "If I do so, it is because I heard the Prophet (ﷺ) say, 'Touching them erases sins,' and I heard him say, 'Whoever performs Tawaf properly, it is like freeing a slave,' and I heard him say, 'No one lifts a foot or places it down except that Allah erases a sin and records a good deed.'" [Narrated by At-Tirmidhi]
In a narration by Ahmad: Sa‘id ibn Al-Musayyab reported that Umar (may Allah be pleased with him) said to him, "You are a strong man—do not push at the Stone and harm the weak. If you find space, touch it; otherwise, face it and say Takbir and Tahlil."
العربية
Typed, pending editorial approval
۳۰۳۰ - وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ (رضي الله عنه)كَانَ يُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنَيْنِ زِحَامًا1 مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ لا يُرَاحِمُ عَلَيْهِ ، قَالَ: إِنْ أَفْعَلْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «إِنَّ مَسْحَهُمَا كَفَّارَةُ لِلْخَطَايَا وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ أُسْبُوعًا فَأَحْصَاهُ كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ وَسَمِعْتُهُ يَقُوْلُ: «لَا يَضَعُ قَدَمًا وَلَا يَرْفَعُ أُخْرَى إِلَّا حَطَّ اللهُ عَنْهُ خَطِيئَةً وَكَتَبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةً». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ .
وَفِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ عُمَرَ (رضي الله عنه)أَنَّهُ لا قَالَ لَهُ: «إِنَّكَ رَجُلٌ قَوِيٌّ لَا تُرَاحِمْ عَلَى الْحَجَرِ فَتُؤْذِي الضَّعِيفَ إِنْ وَجَدْتَ خَلْوَةً فَاسْتَلِمْهُ، وَإِلَّا فَاسْتَقْبِلْهُ وَكَبِّرْ وَهَلَّلْ».
اردو
عبید بن عمیر رحمہ اللہ (جو مشہور تابعی اور قاضی مکہ تھے) سے روایت ہے کہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بڑے جوش اور ولولہ کے ساتھ آگے بڑھ کر دونوں رکنوں یعنی حجر
اسود اور رکن یمانی پر (بوسہ دیتے اور چھونے کے لئے لوگوں کے مجمع میں) گھس جاتے تھے (اس
طرح کہ لوگوں کو اذیت نہ ہو) راوی حدیث کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمرؓ سے عرض کیا کہ
(دونوں رکنوں تک پہنچنے کے لئے آپ جس جوش و خروش کا اظہار کرتے ہیں میں نے کسی صحابی کو
ایسا اہتمام کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا، سنو! اگر میں ایسا کرتا ہوں تو اس کی وجہ
یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بھی فرماتے سنا ہے کہ ان کو چھونا گناہوں کا کفارہ
ہے، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بھی فرماتے سنا ہے کہ جو شخص اس گھر یعنی بیت
اللہ شریف کے سات چکر (اس کے واجبات، سنن اور آداب کا خیال رکھ کر) کرے تو اس کا ایسا کرنا
(ثواب میں) ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہوگا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بھی
فرماتے سنا ہے کہ جب بھی وہ (طواف کی حالت میں) ایک قدم رکھتا ہے اور ایک قدم اٹھاتا ہے تو
(ہر قدم پر) اللہ تعالیٰ نے اس کا ایک گناہ معاف کرتے ہیں اور ایک نیکی اس کے نامہ اعمال میں لکھ
دیتے ہیں۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
اور امام احمد کی ایک روایت میں جو سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے
اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر رضی
اللہ عنہ کو فرمایا (اے عمر!) تم ایک طاقتور آدمی ہو (دوران طواف میں تم اس بات کا خیال رکھو کہ حجر
اسود تک پہنچنے میں تمہاری طرف سے کسی کمزور کو ایذاء نہ پہنچے اور تکلیف نہ ہو، اگر بھیڑ نہ ہو،
اور راستہ مل جائے تو) حجر اسود کو چھولو، ورنہ اس کی طرف رخ کر کے تکبیر اور تہلیل یعنی اَللّٰهُ أَكْبَرُ اور
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کہہ لیا کرو۔ اس لئے کہ یہ عمل بھی استلام کے قائم مقام ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حجر
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 959 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement "pushing through": Meaning without harming others.
Note 1
(۱) قوله : زحاما : أي غير مؤذ. قاله في «المرقاة».
Note 1
اسود کے استلام کے لئے لوگوں کو ایذا پہنچانا منع ہے۔