English
Safiyyah bint Shaybah reported: A woman from Quraysh told me, "I entered a house with other women to observe the Prophet (ﷺ) performing Sa‘i between Safa and Marwah. I saw him walking so vigorously that his lower garment swayed, and I heard him say, 'Perform Sa‘i, for Allah has prescribed it for you.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٠٣٩ - وَعَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي بِنْتُ أَبِي تِجْرَاةَ قَالَتْ: دَخَلْتُ مَعَ نِسْوَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ دَارَ آلِ أَبِي حُسَيْنٍ نَنْظُرُ إِلَى رَسُوْلِ اللهِ ﷺ، وَهُوَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَرَأَيْتُهُ يَسْعَى، وَإِنَّ مِثْزَرَهُ لَيَدُورُ1 مِنْ شِدَّةِ السَّعْيِ، وَسَمِعْتُهُ يَقُوْلُ: «اسْعَوْا2فَإِنَّ اللهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ». رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ، وَرَوَى أَحْمَدُ مَعَ اخْتِلَافِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3603
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ مجھے بنت ابی تجراۃ
نے خبر دی کہ وہ چند قریشی خواتین کے ساتھ آل ابوالحسین کے گھر گئیں تا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی فرماتے ہوئے دیکھیں، وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سعی فرماتے ہوئے دیکھا کہ آپ (میلین اخضرین میں) ایسی تیزی سے دوڑ رہے
تھے کہ جس کی وجہ سے مئزر یعنی وہ چادر جس کو آپ اوڑھے ہوئے تھے، تیز دوڑنے کی وجہ سے پھر
رہی تھی اور میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے بھی سنا (لوگو!) سعی کرو، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے
تم پر سعی کو واجب کیا ہے۔ اس کی روایت شرح السنہ میں کی ہے اور امام احمد نے بھی اسی کے قریب
قریب روایت کی ہے۔ (جیسا کہ اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 2581 (unverified) 50% confidence
Mishkat (candidate) 2581
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) The statement "his lower garment swayed": This indicates he was walking, not running.
Note 2
(2) The statement "Perform Sa‘i...": This indicates obligation, though not a pillar (rukn) of Hajj.
Note 1
(۱) قوله: ليدور من شدة السعي: يَدُلُّ على أنه كان ماشيا، وجاء ذلك صريحا في حديث حسن. قاله في «المرقاة»، ولذلك قال في الدر المختار والمشي في السعي لمن ليس له عذر واجب.
Note 2
(۲) قوله: اسعوا فإن الله كتب عليكم السعي : أي السعي بين الصفا والمروة واجب، وليس بركن. وقال الشافعي : إنه ركن لهذا الحديث، وإنا قد قلنا أيضًا بموجبه؛ إذ مثله لا يزيد على إفادة الوجوب؛ لأن الحديث آحاد، فلا يثبت به الفرضية، وإنما يثبت به الوجوب، وقد قلنا به، أما الركن فإنما يثبت عندنا بدليل مقطوع به، فإثباته بهذا الحديث إثبات بغير دليل، فحقيقة الخلاف في أن مفاد هذا الدليل ماذا؟ والحق فيه ما قلنا؛ لأن نفس الشيء ليس إلا ركنه وحده أو مع شيء آخر، فإذا كان ثبوت ذلك الشيء قطعيا لزم في ثبوت أركانه القطع؛ لأن ثبوتها هو ثبوته، فإذا فرض القطع به كان ذلك للقطع بها، وتقدم مثل هذا في مسألة قراءة الفاتحة في الصلاة، «الهداية» و«فتح القدير» و«شرح النقاية» ملخصا.
Note 1
ف(1): اس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ”اسعوا“ (اے لوگو! سعی کرو) یہ صیغہ امر کا ہے اور امر سے وجوب نکلتا ہے۔ اس لئے اس سے ثابت ہوا کہ سعی واجب ہے اور یہی مذہب حنفی ہے۔ ہدایہ، فتح القدیر۔12 ف(2): اس حدیث شریف سے میلین اخضرین میں تیز دوڑنے کا ثبوت ملتا ہے اور بی بی ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی اتباع میں یہ مسنون ہے کہ آپ حضرت اسمعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جب کعبہ اللہ شریف کے پاس چھوڑ کر پانی کی تلاش میں نکلیں تو وادی کے نشیبی حصہ میں جس کو اب میلین اخضرین کہتے ہیں تیزی سے دوڑیں تاکہ وادی کے بالائی حصہ پر جلد پہونچ کر اپنے صاحبزادہ کو دیکھ سکیں۔ اھ) اور امام احمد رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ حضرت ابراہیم علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جب مناسک حج کا حکم ہوا تو سعی کے موقع پر اسی جگہ یعنی میلین اخضرین کے پاس شیطان نے آپ کو روکنا چاہا لیکن آپ دوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ مرقات۔12