Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Sales

Hadith 3044a

Chapter on Bankruptcy and Deferment

In this book

Current reading

Sales

Chapter on Bankruptcy and Deferment

Zujajat al-Masabih 3044aVolume 2

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) was brought a deceased person with a debt, and he would ask: “Did he leave anything to pay his debt?” If he was told he left something to cover his debt, he prayed. Otherwise, he said to the Muslims: “Pray over your companion.” When Allah granted him conquests, he stood and said: “I am more entitled to the believers than themselves. Whoever dies among the believers and leaves a debt, its repayment is on me, and whoever leaves wealth, it is for his heirs.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٠٤٤ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه)قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّى عَلَيْهِ الدَّيْنُ، فَيَسْأَلُ: «هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ قَضَاءً؟» فَإِنْ حُدَّثَ أَنَّهُ تَرَكَ لِدَيْنِهِ وَفَاءً صَلَّى، وَإِلَّا قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ: صَلُّوْا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَلَمَّا فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ، قَامَ فَقَالَ: «أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ تُوُفِّيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَتَرَكَ دَيْنًا1 فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3999
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں جب کبھی کوئی جنازہ لایا جاتا اور وہ مقروض ہوا کرتا تو حضور ﷺ یہ دریافت فرما لیتے کہ کیا یہ شخص اپنے قرض کی ادائی کے لئے کچھ چھوڑ کر مرا ہے! اگر یہ بیان کیا جاتا کہ اس نے اتنا مال چھوڑا ہے جو قرض کی ادائی کے لئے کافی ہو تو آپ ﷺ اس کی نماز جنازہ پڑھ لیتے ورنہ آپ ﷺ صحابہ کرام سے فرماتے کہ تم اپنے بھائی کی نماز پڑھ لو۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر مال غنیمت (کے دروازے) کھول دیئے (اور کشادگی نصیب ہوئی) تو حضور ﷺ نے منبر پر چڑھ کر یوں خطبہ ارشاد فرمایا کہ (سنو!) میں مسلمانوں کے لئے ان کی جانوں سے زیادہ عزیز ہوں تو جو (نادار) شخص اس حالت میں مر جائے کہ اس پر قرض ہو تو اس کے قرض کو ادا کرنے کا میں زیادہ ذمہ دار ہوں اور جو شخص متروکہ چھوڑ کر مرے تو وہ مال اس کے وارثوں کا ہوگا (یہ رحمة للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی امت پر ایک بڑا احسان اور کرم ہے جس پر یہ امت جتنا فخر کرے کم ہے!)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2298 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1619a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Leaves a debt, its repayment is on me

(1) The statement: “Leaves a debt, its repayment is on me”: In Umdat Al-Qari, Ibn Battal said: This abrogates his not praying over someone who died with a debt. I say: This is because he did not pray over them before the conquests. When Allah granted the conquests, he prayed over them, so this act abrogated his earlier act, as Ibn Battal said. Bukhari indicated this with the chapter title.

Note 1

قوله

(۱)قوله : فترك دينا فعلي قضاؤه: قال في عمدة القاري: قال ابن بطال : هذا ناسخ لتركه الصلاة على من مات وعليه دين. قلت: وذلك لأنه كان لا يصلي عليه قبل فتح الفتوحات. فلما فتح الله منها ما فتح صار يصلي عليه، فصار فعله هذا ناسخا لفعله الأول، كما قال ابن بطال، وأشار البخاري بالترجمة إلى ذلك.

Note 1

ف: اس حدیث میں ارشاد ہے کہ جو نادار شخص مقروض مرے تو میں اس کا کفیل ہوں۔ علامہ ابن بطال رحمة اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث ناسخ ہے اس حدیث کی جس میں یہ ارشاد فرمایا گیا تھا کہ نادار شخص کی نماز جنازہ تم لوگ ادا کر لو میں نہیں پڑھاؤں گا اور امام بخاری نے بھی ترجمۃ الباب میں اس مضمون کا اشارہ کیا ہے جیسا کہ عمدۃ القاری میں مذکور ہے۔