اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3622
عمرو بن عبداللہ بن صفوان رحمہ اللہ (جو تابعین میں سے ہیں) اپنے ماموں سے
جن کا نام یزید بن شیبان رضی اللہ عنہ ہے (جو صحابی ہیں) روایت کرتے ہیں، یزید بن شیبان فرماتے
ہیں کہ ہم عرفات میں اس مقام پر ٹھہرے ہوئے تھے، (جو زمانہ جاہلیت میں ہمارے قبیلہ کے لئے
مخصوص تھا اور یہ مقام امام سے بہت دور تھا تو راوی حدیث) عمرو بن عبداللہ اس جگہ کو امیر حج کی جگہ
سے بہت دور پا رہے تھے (انہوں نے اس دوری کو اپنے ماموں یزید بن شیبان سے بیان کیا تو انہوں
نے کہا کہ ہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عرفات میں اسی جگہ جو دور تھی قیام کئے تھے اور
چاہتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریب ہوجائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب
ہمارے اس خیال کی اطلاع ملی تو آپ نے ہمارے اس اشکال کو دور کرنے کے لئے ابن مربع انصاری
رضی اللہ عنہ کو ہمارے پاس بھیجا اور) ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ، ہمارے پاس آئے اور کہا کہ میں
آپ حضرات کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد ہوں۔ (اور یہ پیام لایا ہوں) حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم اس وقت جہاں ٹھہرے ہوئے ہو وہیں ٹھہرے رہو (پورا
میدان عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے) اور تم اپنے اس وقوف میں اپنے باپ حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ
الصلوٰۃ والسلام کی میراث یعنی سنت پر ہو (اس لئے امام سے دوری کے باوجود وقوفِ عرفات کی فرضیت
ادا ہوجائے گی، اس لئے تم عرفات میں جہاں بھی ٹھہرے ہو، اس کو حقیر مت جانو)۔ اس حدیث کی
روایت ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 883 (unverified) 96% confidence · Validation similarity: 0.657
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1919 (unverified) 94% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 3011 (unverified) 85% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 3014 (unverified) 82% confidence · Validation similarity: 0.759
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) "Stand at your places of ritual" means adhere to your traditional sites of worship, inherited from Ibrahim. Do not belittle your standing place simply because it is far from the Imam's position. (Al-Luma'at)
Note 1
(۱)قوله : قفوا على مشاعركم أي مواضع نسككم ومواقفكم القديمة؛ فإنها جائتكم من إرث أبيكم إبراهيم، ولا تحقروا شأن موقفكم بسبب بعده عن موقف الإمام. كذا في «اللمعات».