Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الْبُيُوعِ

Hadith 3071a

بَابُ الْغَصَبِ وَالْعَارِيَةِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الْبُيُوعِ

بَابُ الْغَصَبِ وَالْعَارِيَةِ

Zujajat al-Masabih 3071aVolume 2

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۰۷۱ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ (رضي الله عنه) عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ نَهَى عَنِ النُّهْبَةِ1 وَالْمُثْلَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَرَوَى ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِالنَّهْبِ فِي الْعَرْسَاتِ وَالْوَلَائِمِ، وَكَذَلِكَ الشَّعْبِيُّ. وَهَذَا قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوْسُفَ وَمُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ. قَالَ الطَّحَاوِيُّ: وَقَدْ وَجَدْنَا مِثْلَ ذَلِكَ قَدْ أَبَاحَهُ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ. وَرَوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرَطٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أَحَبُّ الْأَيَّامِ إِلَى اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ عَرَفَةَ فَقُرِبَتْ إِلَى رَسُوْلِ اللهِ البُدْنَاتٍ خَمْسًا أَوْ سِرًّا فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ، بِأَيَّتِهِنَّ يَبْدَأُ، فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا قَالَ كَلِمَةً خَفِيفَةٌ لَمْ أَفْهَمْهَا، فَقُلْتُ لِلَّذِي كَانَ إِلَى جَنْبِي مَا قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ ؟ فَقَالَ: قَالَ: «مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ». فَلَمَّا قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: «مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ ذَلِكَ دَلَّ هَذَا أَنَّ مَا أَبَاحَهُ رَبُّهِ لِلنَّاسِ مِنْ طَعَامٍ أَوْ غَيْرِهِ فَلَهُمْ أَنْ يَأْخُذُوا مِنْ ذَلِكَ، وَهَذَا خِلَافُ النُّهْبَةِ الَّتِي نُهِيَ عَنْهَا فِي الْأَثَرِ الْأَوَّلِ، فَثَبَتَ بِمَا ذَكَرْنَا أَنَّ النُّهْبَةَ الَّتِي فِي الْأَثَرِ الْأَوَّلِ هِيَ نُّهْبَةُ مَا لَمْ يُؤْذَنْ فِيْهِ، وَإِنَّ مَا أُبِ مَا أُبِيْحَ مِنْ ذَلِكَ وَأُذِنَ أذِنَ فِيْهِ فَعَلَى مَا فِي هَذَا الا الأثر الثاني.
Commentary and footnotes (3)

Note 1

(1) Ibn Battal said prohibited robbery refers to Arab raids, as in the pledge of Ubadah. Ibn Al-Mundhir said it is taking someone’s property without permission, against their will. The prohibition may apply to a group taking from spoils without division. Scholars differ on scattering items for children or at weddings. Malik and Ash-Shafi‘i disliked it; Hanafis permitted it. [From Umdat Al-Qari and Al-Marqah].

Note 1

قوله

(۱)قوله: النهبة قال ابن بطال الانتهاب المحرم هو ما كانت العرب عليه من الغارات، وعليه وقعت البيعة في حديث عبادة، وقال ابن المنذر النهبة المحرمة أن ينهب مال الرجل بغير إذنه، وهو له كاره، انتهى. وقد يؤول النهي في هذا الحديث على الجماعة ينتهبون من الغنيمة، ولا يدخلونها في القسمة، واختلف العلماء فيما ينثر على رؤوس الصبيان وفي الأعراس، فيكون فيه النهبة، فكرهه مالك والشافعي، وأجازه الحنفية، «عمدة القاري» و«المرقاة» ملتقط منهما .

Note 1

نے اس حدیث شریف میں جب فرما دیا کہ جو چاہے۔ (گوشت) کاٹ کر لے جائے (تو اس طرح لوٹ لینے کی) اجازت دے دی اس سے اس بات پر دلیل لی گئی کہ مالک لوگوں کو کسی قسم کے کھانے یا کسی اور چیز (کے لوٹ لینے) کی اجازت دیدے تو وہ اس کو لے لے سکتے ہیں اور اس طرح سے (مالک کے لوٹ لینے کی اجازت دینے پر) لوٹ لینا جائز ہے اور یہ لوٹ اس عام لوٹ کھسوٹ سے جدا ہے جو منع ہے اور جس کا ذکر اس حدیث سے پہلے والی حدیث (جس کے راوی عبداللہ بن یزید ہیں) میں کیا گیا ہے تو ثابت ہوگیا کہ پہلی حدیث میں جس لوٹ کا ذکر ہے وہ ایسی لوٹ کھسوٹ ہے جس کی اجازت نہ دی گئی ہو اور جس لوٹ کی اجازت دی گئی ہو اور وہ جائز ہو یہ وہی اجازت جو اس دوسری حدیث میں مذکور ہے۔ (جو حضرت عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے) ف: ابن بطال رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ حرام لوٹ وہ ہے جو زمانہ جاہلیت میں عربوں میں رائج تھی کہ دوسروں پر حملہ کرتے اور مال واسباب لوٹ لیتے چنانچہ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اسی طرح کی لوٹ اور غارت گری نہ کرنے کی بیعت لی گئی ہے، البتہ بچوں پر اور شادیوں میں جو چیزیں پھینکی جاتی ہیں ان میں علماء کا اختلاف ہے امام مالکؒ اور امام شافعیؒ نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے اور احناف نے اس کو جائز رکھا ہے۔ یہ مضمون عمدۃ القاری اور مرقات سے ماخوذ ہے۔