اردو
عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (مسلمانوں کے مال کو) لوٹ کھسوٹ کرنے سے اور مثلہ (یعنی کسی کو
ہلاک کرنے کے بعد ناک) کان وغیرہ کاٹنے سے منع فرمایا ہے (البتہ قصاص میں ایسا کرنا حرام
نہیں ہے)۔
اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
اور ابن ابی شیبہ نے حسن بصری رحمہ اللہ علیہ سے روایت فرمائی ہے کہ شادی
اور ولیمہ کے موقع پر (جو چیزیں لٹائی جاتی ہیں ان کے) لوٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ امام شعبی کا
بھی یہی قول ہے۔
اور امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، اور امام محمد بن الحسن رحمۃ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔ امام طحا
وی فرماتے ہیں کہ ہم نے احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں اس کا
جواز پایا ہے چنانچہ
عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ دنوں میں سب سے محبوب دن اللہ تعالیٰ کے پاس یوم
النحر یعنی دسویں ذوالحجہ کا دن ہے پھر اس کے بعد عرفہ کا دن یعنی نویں ذوالحجہ کا دن (اللہ تعالیٰ کو
محبوب) ہے پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں پانچ یا چھ اونٹنیاں
(قربانی دینے کے لئے) قریب کیں تو وہ اونٹنیاں (ذبح ہونے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت
کرتے ہوئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریب ہونے لگیں کہ حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ
وَسَلَّمَ کس کو پہلے ذبح فرمائیں گے جب ساری اونٹنیاں ذبح ہو گئیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے خفی آواز میں کچھ ارشاد فرمایا جس کو میں نہیں سمجھ سکا تو میں نے اپنے ساتھی سے جو میرے قریب
تھا دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا ارشاد فرمایا؟ جواب دیا کہ حضور ﷺ نے
فرمایا کہ جو چاہے (ان اونٹنیوں کے گوشت کو) کاٹ کر لے جائے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) Ibn Battal said prohibited robbery refers to Arab raids, as in the pledge of Ubadah. Ibn Al-Mundhir said it is taking someone’s property without permission, against their will. The prohibition may apply to a group taking from spoils without division. Scholars differ on scattering items for children or at weddings. Malik and Ash-Shafi‘i disliked it; Hanafis permitted it. [From Umdat Al-Qari and Al-Marqah].
Note 1
(۱)قوله: النهبة قال ابن بطال الانتهاب المحرم هو ما كانت العرب عليه من الغارات، وعليه وقعت البيعة في حديث عبادة، وقال ابن المنذر النهبة المحرمة أن ينهب مال الرجل بغير إذنه، وهو له كاره، انتهى. وقد يؤول النهي في هذا الحديث على الجماعة ينتهبون من الغنيمة، ولا يدخلونها في القسمة، واختلف العلماء فيما ينثر على رؤوس الصبيان وفي الأعراس، فيكون فيه النهبة، فكرهه مالك والشافعي، وأجازه الحنفية، «عمدة القاري» و«المرقاة» ملتقط منهما .
Note 1
نے اس حدیث شریف میں جب فرما دیا کہ جو چاہے۔ (گوشت) کاٹ کر لے جائے (تو اس طرح لوٹ لینے کی) اجازت دے دی اس سے اس بات پر دلیل لی گئی کہ مالک لوگوں کو کسی قسم کے کھانے یا کسی اور چیز (کے لوٹ لینے) کی اجازت دیدے تو وہ اس کو لے لے سکتے ہیں اور اس طرح سے (مالک کے لوٹ لینے کی اجازت دینے پر) لوٹ لینا جائز ہے اور یہ لوٹ اس عام لوٹ کھسوٹ سے جدا ہے جو منع ہے اور جس کا ذکر اس حدیث سے پہلے والی حدیث (جس کے راوی عبداللہ بن یزید ہیں) میں کیا گیا ہے تو ثابت ہوگیا کہ پہلی حدیث میں جس لوٹ کا ذکر ہے وہ ایسی لوٹ کھسوٹ ہے جس کی اجازت نہ دی گئی ہو اور جس لوٹ کی اجازت دی گئی ہو اور وہ جائز ہو یہ وہی اجازت جو اس دوسری حدیث میں مذکور ہے۔ (جو حضرت عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے) ف: ابن بطال رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ حرام لوٹ وہ ہے جو زمانہ جاہلیت میں عربوں میں رائج تھی کہ دوسروں پر حملہ کرتے اور مال واسباب لوٹ لیتے چنانچہ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اسی طرح کی لوٹ اور غارت گری نہ کرنے کی بیعت لی گئی ہے، البتہ بچوں پر اور شادیوں میں جو چیزیں پھینکی جاتی ہیں ان میں علماء کا اختلاف ہے امام مالکؒ اور امام شافعیؒ نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے اور احناف نے اس کو جائز رکھا ہے۔ یہ مضمون عمدۃ القاری اور مرقات سے ماخوذ ہے۔