English
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) stoned on the Day of Sacrifice at mid-morning (Dhuha), but on subsequent days he stoned after zawal (midday)." [Agreed upon]
Al-Bayhaqi's version from Ibn Abbas adds: "When the day has advanced (after sunrise) on the day of departure, stoning and leaving are permitted."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٠٨٤ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: رَمَى رَسُولُ اللهِ اللهِ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى، وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِي رِوَايَةِ الْبَيْهَقِيَّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا إِذَا انْتَفَحَ1 النَّهَارُ مِنْ يَوْمِ النَّفَرِ فَقَدْ حَلَّ الرَّمْيُ وَالصَّدْرُ.
اردو
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے دسویں ذوالحجہ کو جمرۂ اولیٰ پر چاشت کے وقت یعنی دن چڑھے رمی فرمائی اور اس کے بعد کے
دنوں میں آپ نے (تینوں جمرات پر) زوال آفتاب کے بعد رمی فرمائی۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
اور بیہقی کی روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مروی ہے کہ
تیرہویں ذوالحجہ کو (اگر کوئی شخص صبح صادق تک ٹھہر جائے تو) اس کے لئے آفتاب بلند ہونے کے بعد
اس دن بھی (تینوں جمرات پر) رمی کرنا درست ہے اور وہ (منی سے) واپس ہوسکتا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1299 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) "When the day has advanced": Hence Al-Hidayah states Abu Hanifah permits stoning before zawal on the fourth day (unlike his students). (Al-Maraqi)
Note 1
(۱) قوله : إذا انتفخ النهار إلخ لذلك قال في الهداية»: وأما اليوم الرابع، فيجوز الرمي قبل الزوال عند أبي حنيفةخلافا لهما. كذا في «المرقاة».