Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) sent us (the young boys of Banu Abdul-Muttalib) ahead from Muzdalifah at night on donkeys. He patted our thighs and said: 'O my young ones! Do not stone the Jamrah until the sun rises.'"
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے (وہ کہتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع
پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ کی رات: بنو عبدالمطلب کے بچوں کو پہلے روانہ کر دیا اور
ہم گدھوں پر سوار تھے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (از راہ شفقت) ہماری رانوں پر
ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا اے میرے بچو! سورج نکلنے سے پہلے جمرہ پر کنکریاں نہ مارو۔ اس کی روایت
ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
And the words of Allah Almighty: "Whoever hastens [his departure] in two days - there is no sin upon him; and whoever delays - there is no sin upon him - for those who fear Allah." (Al-Baqarah 2:203)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1940 (unverified) 95% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 3025 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Note 1
On donkeys
(1) "On donkeys": In Al-Bahr al-Ra'iq, it is stated that riding camels is preferable, while riding pack animals is disliked. This indicates the recommendation of better alternatives. (Al-Maraqi)
Note 2
O my young ones
(2) "O my young ones": The word is pronounced with a dammah on the hamzah, fathah on the ba', and kasrah on the nun. It is a term of endearment for a group.
Note 3
Until the sun rises
(3) "Until the sun rises": In Al-'Alamgiriyyah, the times for stoning are categorized:
Disliked: From Fajr until sunrise
Recommended: From sunrise until zawal (midday)
Permissible: From zawal until sunset
Strongly disliked: At night (Muhit al-Sarakhsi)
Note 1
قوله
(۱)قوله: على حمرات وفي البحر الرائق: وركوب الجمل أفضل، ويكره الحج على الحمال، والظاهر أنها تنزيهية بدليليل أفضلية ما قابله، انتهى. وقال في المرقاة: وهذا بدل على أن الحج غير مكروه في السفر القريب.
Note 2
قوله
(۲) قوله : أبيين: صحح بضم الهمرة وفتح الباء وكسر النون وفتح الياء المددة في الآخر، قيل: إنه تصغير أبني كأعمى وهو اسم بدل على الجمع، وقيل: إن الابن يجمع على أبناء مقصورًا وممدودا.
Note 3
قوله
(۳) قوله: تطلع الشمس: قال في العالمكيرية ووقت الرمي فيه ثلاثة أنواع مكروه ومسنون ومباح فما بعد طلوع الفجر إلى وقت الطلوع مكروه وما بعد طلوع الشمس إلى زوالها وقت مسنون وبعد زوال الشمس إلى غروب الشمس وقت مباح والليل وقت مكروه. كذا في محيط السرخسي».
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated:
"The Messenger of Allah (ﷺ) would send his weak family members before dawn and instruct them not to stone until sunrise."
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم اپنے اہل بیت کے ضعیف لوگوں کو (جن میں بچے اور عورتیں تھے حجۃ الوداع کے موقع
پر مزدلفہ سے منیٰ کو) اندھیرے میں روانہ فرما دیئے اور ان کو یہ حکم دیئے کہ سورج نکلنے تک جمرات پر
کنکریاں نہ ماریں۔ اس کی روایت ابوداؤد اور اصحاب سنن نے کی ہے اور بخاری نے بھی ایسی ہی
روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1940 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ فتاویٰ عالمگیری میں لکھا ہے کہ دسویں ذوالحجہ کو رمی کے چار اوقات ہیں:
(1) مکروہ (2) مسنون
(3) مباح (4) ممنوع
صبح صادق کے بعد سے طلوع آفتاب تک کنکریاں مارنا مکروہ ہے، اور طلوع آفتاب کے بعد
سے زوال تک مسنون ہے اور زوال کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک مباح یعنی جائز ہے اور اگر
کسی نے رات میں یعنی صبح صادق سے پہلے کنکریاں ماریں تو درست نہیں اس کو دن میں لوٹانا پڑے گا۔
اب رہا گیارہ اور بارہ ذوالحجہ تو رمی کے اوقات تین ہیں:
(1) مسنون (2) مکروہ (3) ممنوع۔
(1) زوال کے بعد سے غروب آفتاب تک مسنون ہے۔
(2) غروب آفتاب سے صبح صادق تک مکروہ ہے۔
(3) طلوع آفتاب سے زوال تک ممنوع ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ دسویں ذوالحجہ کو صرف جمرۂ کبریٰ پر سات سات کنکریاں مارنا واجب ہے
اور بقیہ دو دنوں یعنی گیارہ اور بارہ ذوالحجہ کو تینوں جمرات پر کنکریاں مارنا واجب ہے۔
Urwah ibn Mudarris (may Allah be pleased with him) narrated: "I saw the Messenger of Allah (ﷺ) standing at Muzdalifah. He said: 'Whoever prays this prayer with us here, stays with us, and had already stood at Arafah by night or day - his Hajj is complete.'"
عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ (حجۃ الوداع
کے موقع پر) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایسے وقت پہنچا کہ آپ
مزدلفہ میں قیام فرمائے ہوئے تھے (اور نماز کے لئے نکل رہے تھے میں نے عرض کیا کہ وہ دور دراز سے
یعنی طی کی پہاڑیوں سے اس وقت مزدلفہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں کیا میرا حج ہوا یا
نہیں؟) تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے یہاں (مزدلفہ میں) نماز ادا کی اور پھر ہمارے ساتھ
وقوف کیا اور اس سے پہلے (نویں ذوالحجہ کو) رات میں یا دن میں (زوال کے بعد سے لے کر دسویں
کی صبح صادق تک) عرفات میں تھوڑا سا قیام بھی کر لے تو اس کا حج ادا ہو جائے گا۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
His Hajj is complete
(1) "His Hajj is complete": This links the validity of Hajj to standing at Muzdalifah, suggesting its obligation (not just recommendation). This is supported by Ibn Umar's narration about sending the weak ahead - if it were a pillar (rukn), this wouldn't be permitted. (Fath al-Qadir, Al-'Inayah)
Note 1
قوله
(۱)قوله : فقد تم حجه علق بالوقوف تمام الحج، وهو يصلح؛ لإفادة الوجوب؛ لعدم القطعية، فكيف مع حديث البخاري عن ابن عمر أنه كان يقدم ضعفة أهله، فعلم من هذا الحديث أن المراد من تعليق تمام الحج في قوله ﷺ : من وقف معنا هذا الموقف إلخ من حيث الكمال، وهو الإتيان بالواجب، لا من حيث الجواز، «فتح القدير» والعناية» ملتقط منهما.
Note 1
(اس سے معلوم ہوا کہ وقوف عرفہ فرض ہے اور وقوف مزدلفہ واجب ہے) اس حدیث کی
روایت نسائی نے اصحاب سنن، ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور حاکم
نے کہا ہے کہ یہ حدیث تمام ائمہ حدیث کے شرائط کے مطابق صحیح ہے۔
Muhammad ibn Qubays ibn Makhramah narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The people of Jahiliyyah would depart from Arafah when the sun looked like turbans on their faces (before sunset), and from Muzdalifah after sunrise when it looked the same. But we depart from Arafah after sunset and from Muzdalifah before sunrise - our way contradicts the way of idol-worshippers.'"
محمد بن قیس بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ایک مرتبہ) خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ لوگ ایام جاہلیت میں عرفات سے
اس وقت نکلتے تھے جب کہ سورج غروب ہونے سے پہلے ان کے سروں پر عماموں کی طرح دکھائی
دیتا تھا (یعنی سورج کا کچھ حصہ غروب ہوتا اور کچھ باہر رہتا تھا) اور مزدلفہ سے بھی ایسے وقت روانہ
ہوتے جب کہ سورج نکلتا رہتا اور ان کے چہروں پر عماموں کی طرح دکھائی دینے لگتا۔ اس کے بر
خلاف ہم عرفات سے ایسے وقت نکلتے ہیں جب کہ سورج ڈوب چکا ہو، اور مزدلفہ سے اس وقت نکلتے
ہیں جب کہ سورج نکلا نہ ہو (یعنی نمازِ فجر کو اول وقت ادا کرتے ہی نماز کے بعد اسفار میں مزدلفہ سے
روانہ ہوتے ہیں) اور ہمارا یہ طریقہ بت پرستوں اور مشرکین کے طریقہ کے خلاف ہے۔ اس کی
روایت بیہقی نے کی ہے۔
Ya'qub ibn 'Asim ibn Urwah narrated that he heard al-Sharid say: "I departed from Arafah with the Messenger of Allah (ﷺ). His feet didn't touch the ground until he reached Muzdalifah."
یعقوب بن عاصم بن عروہ رحمہم اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے شرید رضی
اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں (حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات سے مزدلفہ کو واپسی تک) رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا (میں نے دیکھا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عرفات
سے) مزدلفہ کو سواری کی حالت میں پہنچے اور کہیں بھی آپ پیدل نہیں چلے۔
اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
His feet didn't touch the ground
(1) "His feet didn't touch the ground": This emphasizes that the Prophet (ﷺ) rode the entire distance without walking. It doesn't mean he never dismounted, as other narrations mention him descending to relieve himself. (Bazl al-Majhud)
Note 1
قوله
(۱) قوله : مما مست قدماه حاصله : أنه بالغ في ركوب النبي الله في السير من عرفات إلى مزدلفة، بأنه قطع تلك المسافة راكبا، ولم يمش على الأرجل في تلك المسافة شيئًا يسيرا، وليس معناه أنه لم ينزل عن الناقة، فلا يعارض ما في حديث أسامة من إنه نزل في الشعب، فبال وتوضأ. كذا في بذل المجهود».
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفات سے مزدلفہ
تک پوری مسافت سواری پر طے فرمائی اور راستہ میں کہیں قیام نہیں فرمایا۔ حتیٰ کہ نماز مغرب بھی راستہ
میں نہیں پڑھی۔ اب رہا بخاری میں حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے جو مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے راستہ میں ایک گھاٹی میں اتر کر پیشاب کیا اور وضو فرمایا۔ اس حدیث کے معارض نہیں
اس لئے کہ ضرورۃً راستہ میں کہیں رک جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ البتہ کہیں قیام نہ کیا جائے جیسا کہ
بذل المجہود میں مذکور ہے۔12
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "I saw the Prophet (ﷺ) stoning on the Day of Sacrifice while mounted, saying: 'Learn your rituals from me, for I do not know if I will perform Hajj after this one.'"
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر)
میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ قربانی کے دن یعنی دسویں ذوالحجہ کو (جمرۂ
اولیٰ پر) سواری کی حالت میں کنکریاں مار رہے تھے اور (کنکریاں مارنے کے بعد) آپ نے یہ بھی
ارشاد فرمایا تم لوگ حج کے مناسک مجھے دیکھ کر سیکھ لو شاید کہ اس حج کے بعد میں پھر حج نہ کر سکوں۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1297 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
While mounted
(1) "While mounted": Abu Hanifah and Muhammad held that stoning while riding is superior, based on these narrations. Abu Yusuf considered it a situational act for visibility. Later scholars preferred walking for humility, especially in crowded times. (Fatawa Qadi Khan, Al-Maraqi)
Note 1
قوله
(۱) قوله : يرمي على راحلته وفي فتاوى قاضى خان: قال أبو حنيفة ومحمد عمها : الرمي كله راكبا أفضل؛ لأنه روي ركوبه فيه كله، وكان أبو يوسف يحمل ما روي من ركوبه الله في رمي الجمار كلها على أنه ليظهر فعله، فيقتدى به، ويسئل ويحفظ عنه المناسك، كما ذكر في طوافه راكبا، في الظهيرية» أطلق استحباب المشي، قال: يستحب المشي إلى الجمار، وإن ركب إليها فلا بأس به، والمشي أفضل، وتظهر أولويته؛ لأنا إذا حملنا ركوبه ، على ما قلنا: يبقى كونه مؤديا عبادة، وأداؤها ماشيا أقرب إلى التواضع والخشوع، وخصوصا في هذا الزمان؛ فإن عامة المسلمين مشاة في جميع الرمي، فلا يأمن الأذى بالركوب بينهم بالزحمة. كذا في «المرقاة».
Note 1
واضح ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سواری کی حالت میں جو رمی فرمائی ہے اس کی وجہ یہ
تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فعل کو صحابہ دیکھ سکیں اور رمی کے طریقہ کو آپ سے سیکھ لیں مظہریہ
میں پیدل رمی کرنے کو مطلقاً مستحب قرار دیا ہے اس لئے کہ اس میں تواضع خشوع اور انکساری زیادہ
ہوتی ہے جو عبادت میں مقصود ہے اور ظہیریہ میں یہ بھی مذکور ہے کہ اس زمانہ میں پیدل رمی کرنا افضل
ہے، اس لئے کہ عامۃ المسلمین پیدل رمی کرتے ہیں اور سب پیدل رمی کریں تو ایذاء اور تکلیف کا
اندیشہ نہیں رہتا۔ چنانچہ اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ صحیح احادیث میں مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم صرف دسویں ذوالحجہ کو بغرض تعلیم سواری پر رمی فرمائی اور بقیہ دنوں میں پیدل رمی فرمائی۔12
Qudamah ibn Abdullah ibn Ammar narrated: "I saw the Prophet (ﷺ) stoning on the Day of Sacrifice on a reddish she-camel, without pushing or shouting 'Make way!'"
قدامہ بن عبداللہ بن عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (حجۃ
الوداع کے موقع پر) دسویں ذوالحجہ کے دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سرخ و سفید
اونٹنی پر سوار جمرۂ اولیٰ پر کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے
(لوگوں کو راستہ سے ہٹانے کے لئے) نہ تو لوگوں کو کوئی مار رہا تھا اور نہ ہٹا رہا تھا اور نہ ہٹو بچو کہا جا رہا
تھا (جیسا کہ عام طور پر امراء اور بادشاہوں کے لئے اہتمام کیا جاتا ہے)۔ اس حدیث کی روایت
امام شافعی، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 903 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 3035 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی عبادتوں کے موقع پر کسی فرد کے لئے ایسا اہتمام
جس سے اس کی بڑائی ظاہر ہوتی ہو اور لوگوں کو ایذاء پہنچتی ہو ممنوع ہے۔12
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو چنے کے دانوں کے برابر چھوٹی کنکریوں سے جمرہ پر رمی کرتے دیکھا ہے۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) stoned on the Day of Sacrifice at mid-morning (Dhuha), but on subsequent days he stoned after zawal (midday)." [Agreed upon]
Al-Bayhaqi's version from Ibn Abbas adds: "When the day has advanced (after sunrise) on the day of departure, stoning and leaving are permitted."
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے دسویں ذوالحجہ کو جمرۂ اولیٰ پر چاشت کے وقت یعنی دن چڑھے رمی فرمائی اور اس کے بعد کے
دنوں میں آپ نے (تینوں جمرات پر) زوال آفتاب کے بعد رمی فرمائی۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
اور بیہقی کی روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مروی ہے کہ
تیرہویں ذوالحجہ کو (اگر کوئی شخص صبح صادق تک ٹھہر جائے تو) اس کے لئے آفتاب بلند ہونے کے بعد
اس دن بھی (تینوں جمرات پر) رمی کرنا درست ہے اور وہ (منی سے) واپس ہوسکتا ہے۔
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: "When he reached the largest Jamrah, he positioned the Ka'bah to his left and Mina to his right. He threw seven pebbles, saying Takbir with each, then said: 'This is how the one upon whom Surah al-Baqarah was revealed stoned.'"
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے (عبدالرحمن بن یزید) روایت کرتے ہیں کہ
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ (دسویں ذوالحجہ کو) جمرۂ کبری پر رمی کے لئے پہنچے تو (رمی کرتے
وقت اس طرح کھڑے رہے کہ) بیت اللہ شریف آپ کے بائیں جانب تھا اور منی سیدھے جانب
(اور جمرہ سامنے تھا) پھر آپ نے جمرے پر سات کنکریاں ماریں اور کنکری کے پھینکنے وقت آپ اللہ
اکبر فرما رہے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا (میرا عمل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں ہے)
کیونکہ آپ نے بھی اسی طرح رمی فرمائی ہے۔ اور یہ وہی ذات گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، جن
پر سورہ بقرہ نازل ہوئی (جس میں مناسک حج تفصیلاً مذکور ہیں)۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے
متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1748 (unverified) 94% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1296a (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) Positioning: One should face Jamrat al-Aqabah with Mina to the right and the Ka'bah to the left, standing where the pebbles land. (Fatawa Qadi Khan)
Note 2
(2) Takbir: This is the established practice. (Al-'Alamgiriyyah)
Note 1
قوله
(۱) قوله : فجعل البيت إلخ ويستقبل في الرمي جمرة العقبة يجعل منى عن يمينه والكعبة عن يساره ويقوم حيث يرى موقع حصاته. كذا في فتاوى قاضيخان». قاله في العالمگيرية».
Note 2
قوله
(۲) قوله: يكبر مع كل حصاة: كذا في العالمگيرية».
Note 1
ف: واضح ہو کہ مرقات میں علامہ سیوطی کی درمنثور کے حوالہ سے بیہقی کی سنن سے یہ روایت
مذکور ہے کہ سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے ہر کنکری پھینکتے وقت اس طرح دعا فرمائی:
” اَللّٰهُ اَكْبَرُ، اَللّٰهُ اَكْبَرُ، اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ حَجًّا مَبْرُوْرًا، وَذَنْبًا مَغْفُوْرًا، وَعَمَلًا
مَشْكُوْرًا “۔ اللہ بڑا ہے، اللہ بڑا ہے۔ اے اللہ! میرے حج کو قبول فرما۔ اور میرے گناہوں کو بخش
دے۔ اور میرے عمل کو مقبول فرما۔
حضرت سالم نے فرمایا کہ ان کے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہر کنکری پھینکتے وقت اسی طرح دعا فرمایا کرتے تھے۔12
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"Stoning is an odd number (of pebbles), the millstone of a donkey is an odd number, Sa'i is an odd number, Tawaf is an odd number. When you stone, do so with an odd number."
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ استنجاء کے لئے طاق عدد ڈھیلے لینے چاہئیں اور اسی طرح رمی جمار بھی طاق
ہونا چاہئے (یعنی ہر جمرہ پر سات سات کنکریاں مارنا چاہئے) اور اسی طرح صفا و مروہ کے درمیان
دوڑنا بھی طاق ہے (یعنی سات چکر کرنا چاہئے) اور طواف کعبہ بھی طاق ہے (یعنی بیت اللہ شریف
کے گرد سات مرتبہ چکر لگانا چاہئے اور جب تم میں سے کوئی استنجاء کے لئے ڈھیلے لے تو اس کو چاہئے
کہ طاق عدد میں لے (یعنی حسب ضرورت تین یا پانچ یا سات لے)۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1300 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
An odd number
(1) "An odd number": The recommendation isn't strictly three pebbles, though it's preferable. The command to use odd numbers indicates recommendation, not obligation, as there's no evidence of strict requirement. (Al-Durr al-Mukhtar, Radd al-Muhtar)
Note 1
قوله
(۱) قوله: الاستجمار تو وليس العدد ثلاثا بمسنون فيه، بل مستحب. قاله في الدر المختار». وقال في رد المحتار» أشار أي أن المراد نفي السنة المؤكدة لا أصلها؛ لما ورد من الأمر بالاستنجاء بثلاثة أحجار، ولم ينقل أن الأمر للوجوب كما قال الإمام الشافعي؛ لأن قوله : من استجمر فليوتر، فمن فعل فحسن، ومن لا فلا حرج، دليل على عدم الوجوب، فحمل الأمر على الاستحباب توقيفا.
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Prophet (ﷺ) said:
"Stoning and Sa'i were only instituted to establish the remembrance of Allah."
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم سے روایت فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا رمی جمار اور صفا و مروہ
کے درمیان دوڑنا اللہ تعالیٰ کی یاد (اور دعاء) کے لئے مقرر کئے گئے ہیں (اس لئے ہر کنکری کے پھینکتے
وقت اللہ اکبر کہنا چاہئے اور ہر سعی کے وقت دعاء کرنا چاہئے)۔
اس کی روایت ترمذی اور دارمی نے کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Nafi' narrated: "Ibn Umar would stand for a long time at the first two Jamarat, making Takbir, Tasbih, Tahmid, and dua', but not at Jamrat al-Aqabah." [Narrated by Malik. Bukhari narrated something similar as marfu']
Aisha's narration in Abu Dawud adds: "He would return to Mina during the Days of Tashriq, stoning each Jamrah with seven pebbles after zawal, saying Takbir with each. He would stand at the first two for lengthy supplication, but not at the third."
She also reported: "We said: 'O Messenger of Allah, shall we build a shelter for you at Mina?' He replied: 'No, Mina is a resting place for whoever arrives first.'"
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما (دسویں
ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں) جمرہ اولی اور جمرہ وسطی پر رمی کے بعد بہت دیر تک ٹھہرتے اور تکبیر،
تسبیح، اور تحمید فرماتے رہتے اور دعا میں مشغول رہتے (اتنی دیر ٹھہرتے جتنی دیر سورہ بقرہ پڑھی جاتی
ہے اور چونکہ جمرہ عقبہ کے بعد رمی نہیں ہے اس لئے) جمرہ عقبہ پر رمی کے بعد وہاں نہیں ٹھہرتے
(اس لئے کہ جس رمی کے بعد رمی نہیں ہے وہاں ٹھہرنا اور دعا کرنا مستحب نہیں ہے۔ اس کی روایت
امام مالک نے کی ہے۔
اور بخاری نے بھی مرفوعاً اسی طرح روایت کی ہے۔
اور ابوداؤد کی روایت میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (دسویں ذوالحجہ کو طواف
زیارت کے بعد مکہ معظمہ سے پھر منیٰ واپس تشریف لائے اور) منیٰ میں ایام تشریق کے دنوں میں
قیام فرمائے اور (گیارہ و بارہ ذوالحجہ کو) آفتاب ڈھلنے کے بعد تینوں جمرات پر سات سات کنکریاں
اس طرح ماریں کہ ہر کنکری کے پھینکتے وقت اللہ اکبر فرماتے تھے اور پہلے اور دوسرے جمرہ پر رمی کے
بعد ٹھیر جاتے اور دیر تک ٹھیرتے اور گڑگڑا کر دعا فرماتے اور تیسرے جمرہ عقبہ پر رمی فرماتے تو رمی
کے بعد وہاں نہ ٹھیرتے (اس لئے کہ یہ آخری جمرہ ہے اور اس کے بعد کوئی رمی نہیں ہے)۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ ہم
نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا منیٰ میں آپ کے قیام کے لئے کوئی سایہ دار عمارت نہ بنا دیں تو آپ
نے ارشاد فرمایا نہیں منیٰ تو (ادائی مناسک کی جگہ ہے اور) اس شخص کے اونٹ بٹھانے یعنی قیام
کرنے کی جگہ ہے جو یہاں پہلے پہنچے۔
اس کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1751 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Note 1
(1) Standing at Jamarat: The wisdom is that standing with dua' occurs where another stoning follows, marking continuation of worship. No standing after the final stoning concludes the ritual. (Al-Hidayah)
Note 2
(2) Malik's narration: This is the position of Abu Hanifah and Muhammad.
Note 3
No
(3) "No": Because Mina isn't for permanent structures - it's a worship site for all pilgrims. Building would lead to crowding. Abu Hanifah held Haram land cannot be privately owned. (Al-Maraqi)
Note 1
قوله
(۱)قوله: عند الجمرتين الأوليين إلخ الأصل فيه أن كل رمي بعده رمي يستحب فيه الوقوف والدعاء؛ لأنه في وسط العبادة، فيأتي بالدعاء فيه، وكل رمي ليس بعده رمي لا وقوف فيه؛ لأن العبادة قد انتهت. كذا في «الهداية». قاله في التعليق الممجد».
Note 2
قوله
(۲) قوله : رواه مالك : وقال محمد: بهذا نأخذ، وهو قول أبي حنيفة رحمه الله.
Note 3
قوله
(۳) قوله : قال لا : لأن منى ليس مختصا بأحد، إنما هو موضع العبادة من الرمي وذبح الهدي والحلق ونحوها، فلو أجيز البناء فيها لأدى إلى كثرة الأبنية تأسيا به، فتضيق على الناس كذلك حكم الشوارع ومقاعد الأسواق، وعند أبي حنيفة أرض الحرم موقوفة، فلا يجوز أن يملكها أحد قاله الطيبي. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: صاحب مرقات نے طیبی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ منیٰ ادائی مناسک یعنی رمی، ذبح، حلق
وغیرہ عبادتوں کے ادا کرنے کی جگہ ہے اگر یہاں عمارتیں بنائی جائیں تو حجاج کو ادائی مناسک میں د
شواری ہوگی اور سڑکوں اور بازاروں کا بھی یہی حکم ہے کہ وہاں رہنے کے لئے مکانات نہ بنائے جائیں
اور امام اعظم رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حرم کی زمین وقف ہے اس لئے کوئی شخص اس کا مالک نہیں
ہوسکتا۔ اور جب کوئی مالک نہیں ہوسکتا تو تعمیر کیسے کرسکتا ہے۔12
Commentary and footnotes (6)
Note 1
(1) "On donkeys": In Al-Bahr al-Ra'iq, it is stated that riding camels is preferable, while riding pack animals is disliked. This indicates the recommendation of better alternatives. (Al-Maraqi)
Note 2
(2) "O my young ones": The word is pronounced with a dammah on the hamzah, fathah on the ba', and kasrah on the nun. It is a term of endearment for a group.
Note 3
(3) "Until the sun rises": In Al-'Alamgiriyyah, the times for stoning are categorized: Disliked: From Fajr until sunrise Recommended: From sunrise until zawal (midday) Permissible: From zawal until sunset Strongly disliked: At night (Muhit al-Sarakhsi)
Note 1
(۱)قوله: على حمرات وفي البحر الرائق: وركوب الجمل أفضل، ويكره الحج على الحمال، والظاهر أنها تنزيهية بدليليل أفضلية ما قابله، انتهى. وقال في المرقاة: وهذا بدل على أن الحج غير مكروه في السفر القريب.
Note 2
(۲) قوله : أبيين: صحح بضم الهمرة وفتح الباء وكسر النون وفتح الياء المددة في الآخر، قيل: إنه تصغير أبني كأعمى وهو اسم بدل على الجمع، وقيل: إن الابن يجمع على أبناء مقصورًا وممدودا.
Note 3
(۳) قوله: تطلع الشمس: قال في العالمكيرية ووقت الرمي فيه ثلاثة أنواع مكروه ومسنون ومباح فما بعد طلوع الفجر إلى وقت الطلوع مكروه وما بعد طلوع الشمس إلى زوالها وقت مسنون وبعد زوال الشمس إلى غروب الشمس وقت مباح والليل وقت مكروه. كذا في محيط السرخسي».