اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4065
سعید بن حُریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا ہے آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم میں سے جس کسی نے گھر یا
زمین (بغیر ضرورت) فروخت کی تو وہ اس بات کا سزاوار ہے کہ اس (زمین یا گھر بیچنے سے جو رقم
حاصل ہو) اس میں اس کو برکت نہ دی جائے گی مگر یہ کہ وہ اس (رقم کو) اسی قسم کے کام (یعنی گھر یا
زمین خریدنے) میں لگائے۔ اس کی روایت ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 2490 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) “Deserves no blessing…”: Selling lands or houses and spending their price on movables is disliked, as immovables have many benefits, little risk, and are not easily stolen or raided, unlike movables. It is better not to sell, but if sold, the price should be reinvested in land or houses. [From Al-Marqah].
Note 1
(۱) قوله: قمن أن لا يبارك له إلخ : يعني بيع الأراضي والدور وصرف ثمنها إلى المنقولات غير مستحب؛ لأنها كثيرة المنافع قليلة الآفة لا يسرقها سارق، ولا يلحقها غارة، بخلاف المنقولات، فالأولى أن لا تباع، وإن باعها فالأولى صرف ثمنها إلى أرض أو دار. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین یا مکان کو بلا ضرورت فروخت کر کے حاصل شدہ رقم کو منقولہ جائیداد کی خریدی میں صرف کرنا غیر مستحب ہے اس لئے کہ غیر منقولہ جائیداد کے فائدے منقولہ ساز و سامان کے مقابلہ میں زیادہ ہوتے ہیں اور ان پر آفتیں بھی کم آتی ہیں کہ وہ چوری اور ڈاکہ سے محفوظ رہتے ہیں اس لئے مناسب یہ ہے کہ غیر منقولہ جائیداد کو نہ بیچا جائے اور اگر فروخت کرنا ضروری ہو تو حاصل شدہ رقم کو زمین یا گھر کی خریدی میں لگایا جائے۔ مرقات اور اشعۃ اللمعات۔