اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4066
عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص بیری کے درخت کو کاٹے گا تو اللہ تعالیٰ سر کے
بل اس کو دوزخ میں ڈالیں گے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور ابوداؤد نے کہا ہے کہ حدیث
مختصر ہے (جس کی تفصیل اس طرح ہے یعنی) جو شخص جنگل میں کسی بیری کے ایسے درخت کو ناحق
ظلم اور زیادتی سے کاٹے جس کے سایہ میں مسافر اور جانور پناہ لیتے ہوں تو اللہ تعالیٰ اس کو (اس ظلم
و زیادتی کی سزا میں) سر کے بل دوزخ میں ڈالیں گے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 5239 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) “Cuts a sidr tree…”: The sidr’s shade is cooler, but the ruling applies to any tree providing shade for people or animals. The hadith is shaky, as its narrator Urwah cut sidr for doors, and scholars agree cutting it is permissible. [From Al-Marqah and Al-Luma‘at].
Note 1
(۱) قوله: من قطع سدرة إلخ لعل وجه تخصيصها أن ظلها أبرد من ظل غيرها، وإلا فالحكم غير مختص بها، بل عام في كل شجر يستظل به الناس والبهائم بالجلوس تحته. قاله في المرقاة». وقال في اللمعات والحديث مضطرب فإن راويه عروة كان يقطعه ويتخذ منه أبوابا، وأجمعوا على إباحة قطعه.
Note 1
ف: حدیث شریف میں بیری کے درخت کا ذکر اس لئے ہے کہ بیری کا سایہ اور درختوں کے مقابلہ زیادہ ٹھنڈا ہوتا ہے ورنہ ہر سایہ دار درخت کا یہی حکم ہوگا کہ ہر ایسا سایہ دار درخت جس کے سایہ سے انسان اور جانور فائدہ اٹھاتے ہوں اس کو نہ کاٹا جائے۔ مرقات۔