Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Pilgrimage Rites

Hadith 3098

Chapter: The Sacrificial Animal (Hady)

In this book

Current reading

Pilgrimage Rites

Chapter: The Sacrificial Animal (Hady)

Zujajat al-Masabih 3098Volume 2

English

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) sent sixteen camels with a man (Najiyah al-Aslami), instructing him: 'If any are lost, mark them by soaking their sandals in blood and smearing it on their humps. Neither you nor your companions may eat from them.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۰۹۸ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ(رضي الله عنهما) قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ ﷺ سِتَّةَ عَشَرَ بَدَنَةً مَعَ1 رَجُلٍ وَأَمَّرَهُ فِيهَا، فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا أُبْدِعَ عَلَيَّ مِنْهَا؟ قَالَ: «الْحَرْهَا، ثُمَّ اصْبُعْ نَعْلَيْهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ»2. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3675
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک صحابی (یعنی ناجیہ اسلمی رضی اللہ عنہ) کے ہمراہ سولہ (16) اونٹ بطور ہدی کے (نفل قربانی کے لئے مکہ معظمہ) روانہ فرمائے اور ان کو ان جانوروں پر امیر بھی بنایا (تاکہ ان کی نگرانی کریں) تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر ان میں سے کوئی جانور (تھکن یا بیماری کی وجہ سے) چل نہ سکے تو میں اس کے ساتھ کیا کروں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا (ایسی صورت میں) تم اس کو ذبح کر دو، اور اس کے نعلین کو (جو بطور قلادہ کے اس کے گلے میں ڈالے گئے ہیں) اس کے خون میں رنگ کر ان کو اس کے کوہان کے اوپر رکھ دو (تاکہ فقراء اور راہرو اس سے واقف ہو جائیں کہ یہ ہدی کا جانور ہے اور وہ اس کے گوشت کو کھا لیں) لیکن تم اور تمہارے (تونگر) ساتھی اس کو نہ کھائیں (حضرت ناجیہ اور ان کے ساتھیوں کو اس جانور کے گوشت کھانے سے اس لئے بھی منع کیا گیا کہ ان کو تہمت سے بچایا جائے کہ انہوں نے اس کے کھانے کے لئے اس کو ذبح کیا ہے۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (4)

Note 1

(1) With Najiyah: (Al-Maraqi)

Note 2

If a voluntary sacrifice is lost en route, slaughter it and mark it as described - the wealthy cannot eat it. For obligatory sacrifices, replace it.

(2) Companions: Referring to wealthy travelers, as Najiyah's group were affluent and abstained voluntarily. Hence Al-Hidayah rules: "If a voluntary sacrifice is lost en route, slaughter it and mark it as described - the wealthy cannot eat it. For obligatory sacrifices, replace it." (Fath al-Qadir)

Note 1

قوله

(۱)قوله: مع رجل : أي ناجية الأسلمي. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲)قوله: من أهل رفقتك أي من الأغنياء؛ لأن ناجيةً ومَن ذُكر تهوا عن الأكل؛ لأنهم كانوا أغنياء. قاله في فتحالقدير» لذلك في «الهداية»: وإذا عطبت البدنة في الطريق، فإن كان تطوعًا، نحرها وصبغ نعلها بدمها، وضرب بها صفحة سنامها، ولا يأكل هو ولا غيره من الأغنياء، فإن كانت واجبة أقام غيرها مقامها، وصنع بها ما شاء.