English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when brought the first fruits, place them on his eyes and lips, saying: “O Allah, as You have shown us its beginning, show us its end.” Then he would give it to the children around him.
العربية
Typed, pending editorial approval
٣١٤٧ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه)، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ إِذَا أُتِيَ بِبَاكُورَةِ الْفَاكِهَةِ وَضَعَهَا عَلَى عَيْنَيْهِ وَعَلَى شَفَتَيْهِ، وَقَالَ: «اللَّهُمَّ كَمَا أَرَيْتَنَا أَوَّلَهُ فَأَرِنَا آخِرَهُ، ثُمَّ يُعْطِيْهَا مَنْ يَكُوْنُ عِنْدَهُ مِنَ الصَّبْيَانِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ».
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4135
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول
اللہﷺ کو دیکھا ہے کہ جب آپ کی خدمت میں (موسم کا) پہلا میوہ لایا جاتا تو اس کو آپ (اللہ
تعالیٰ کی تازہ نعمت کی تعظیم اور شکر کے خیال سے) اپنی مبارک آنکھوں اور شیریں لبوں پر رکھتے
(اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ نعمت درگاہ حق سے ابھی آئی ہے) اور یوں دعا فرماتے کہ اے اللہ!
جیسے آپ نے ہم کو اس میوہ کی ابتداء دکھائی ہے اس کی انتہا بھی دکھا دے! پھر اس (میوہ) کو
چھوٹے بچوں کو جو آپ کے ہاں موجود ہوتے ان کو عطا فرماتے (اس لئے کہ بچے دلوں کا پھل ہیں
اور آدمی بھی ابتداء میں بچہ ہی ہوتا ہے اور بچے ایسی چیزوں سے بہت خوش ہوتے ہیں)۔
اس حدیث کی روایت بیہقی نے ’’الدعوات الکبیر‘‘ میں کی ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موسم کے پہلے میوہ کے آنے پر یوں دعاء فرمائی کہ اے اللہ جیسے تو نے ہمیں اس کی ابتداء دکھائی ہے اس کی انتہا بھی دکھا۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اس میوہ کو زیادہ دنوں تک باقی رکھ، دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ میوہ اور اسی قسم کی نعمتوں سے تو ہمیں آخرت میں بھی سرفراز فرما اس لئے کہ زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے اور دنیا کی نعمتیں تو زائل ہونے والی ہیں۔ (مرقات)۔