Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

Hadith 3159

(اس باب میں محرم کے حج یا عمرہ سے روک دیئے جانے پر جو پابندیاں اس پر عاید

In this book

Current reading

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

(اس باب میں محرم کے حج یا عمرہ سے روک دیئے جانے پر جو پابندیاں اس پر عاید

Zujajat al-Masabih 3159Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3752
سالم رحمہ اللہ اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (احرام باندھتے وقت احرام کو) کسی شرط سے مشروط کرنا ناجائز سمجھتے تھے اور یوں فرماتے کہ کیا تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کافی نہیں کہ حضور احرام کو کسی شرط سے مشروط نہیں فرماتے تھے (اور یہ بھی ارشاد فرماتے کہ) کوئی چیز کسی کو (احرام باندھنے کے بعد) حج سے روک دے تو (احرام کھولنے کا طریقہ یہ ہے کہ) وہ کعبۃ اللہ آئے، طواف کرے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرے، سر مونڈھائے یا بال کتروائے پھر احرام کھول دے اور آئندہ سال اس حج کی قضاء کرے۔ اس کی روایت نسائی، دار قطنی نے کی ہے اور ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ اہل علم کی ایک جماعت نے حج میں احرام کو مشروط کرنا درست قرار نہیں دیا اور تابعین کی ایک جماعت اور امام مالک کی بھی یہی رائے ہے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے بھی فرمایا ہے کہ حج میں احرام باندھتے وقت کوئی شرط لگانا درست نہیں ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 942 (unverified) 65% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

قوله

(۱)قوله: إنه لم يشترط : اختلفوا في مشروعية الاشتراط، فقيل: واجب لظاهر الأمر، وهو قول الظاهرية، وقيل: مستحب، وهو قول أحمد وغلط من حكى الإنكار عنه، وقيل: جائز، وهو المشهور عند الشافعية، وقطع به الشيخ أبو حامد، ولما روى الترمذي حديث ضباعة بنت الزبير، قال: والعمل على هذا عند بعض أهل العلم، يرون الاشتراط في الحج، ويقولون إن اشترط لغرض له كمرض أو عذر فله أن يحل ويخرج من إحرامه، وهو قول الشافعي وأحمد وإسحاق، وذهب بعض التابعين ومالك وأبو حنيفة إلى أنه لا يصح الاشتراط. وقال الترمذي: ولم ير بعض أهل العلم الاشتراط في الحج، وقالوا: إن اشترط فليس له أن يخرج من إحرامه، فيرونه كمن لم يشترط، فمن لم ير الإحصار بالمرض يستدل بحديث ضباعة بنت الزبير بأن يقول: لو كان المرض ينتج التحلل لم يأمرها بالاشتراط؛ لعدم الإفادة، ومن يرى الإحصار بالمرض، وهو مذهب أبي حنيفة يالله يستدل بحديث الحجاج بن عمرو الأنصاري، وحملوا حديث ضباعة بنت الزبير على أنه قضية عين، وإن ذلك مخصوص بها، كما أذن النبي لأصحابه في رفض الحج، وليس يضرهم ذلك، أو أنه قال لها لتسلية نفسها، ولا أثر للاشتراط إلا هذا ، عمدة القاري» و «المرقاة» ملتقط منهما.