Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

Hadith 3171

(اس باب میں حرم مکہ کی حرمت اور فضیلت کا بیان ہے)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

(اس باب میں حرم مکہ کی حرمت اور فضیلت کا بیان ہے)

Zujajat al-Masabih 3171Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3769Noor 3770
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (جب کہ آپ فتح مکہ کے بعد مدینہ منورہ واپس تشریف لے جا رہے تھے) مکہ معظمہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: تو کتنا اچھا اور پاکیزہ شہر ہے اور تو مجھے کس قدر عزیز ہے! اگر میری قوم۔ یعنی قریش۔ مجھے یہاں سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کہیں اور سکونت اختیار نہیں کرتا۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔ اور عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں روایت کیا ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حج مناسک کے پورے ہو جانے کے بعد حاجیوں میں ردہ لئے ہوئے پھرتے اور (مختلف مقامات میں ان حضرات سے) یوں فرماتے اے یمن والو! تم اپنے ملک یمن کو چلے جاؤ۔ اے شام والو! تم ملک شام کو روانہ ہو جاؤ۔ اور اے عراق والو! تم اپنے ملک عراق کو واپس ہو جاؤ (حج سے فراغت کے بعد تمہارا اپنے اپنے ملکوں کو روانہ ہو جانا) تمہارے دلوں میں کعبۃ اللہ شریف کی عظمت کو باقی رکھنے کا سبب ہوگا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب (دوسرے ملکوں سے مکہ معظمہ) حج کے لئے تشریف لاتے اور پھر واپس ہو جاتے اور (درمیان سال میں پھر) عمرہ کے لئے مکہ معظمہ آتے پھر یہاں سے واپس ہو جاتے اور (مکہ معظمہ) میں (مستقل) سکونت (اختیار نہیں کرتے تھے (تاکہ اشتیاق باقی رہے جو بقاء عظمت کا سبب ہے) جیسا کہ کسی شاعر کہا ہے: جب تک ملے نہ تھے تو جدائی کا تھا ملال اب یہ ملال ہے کہ تمنا نکل گئی
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3926 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Had my people not driven me out...

(1) The statement: "Had my people not driven me out..." - Scholars agree that Makkah and Madinah are the best lands, but differ over which is superior. Three Imams and some Companions held Makkah superior (this hadith supports them), while some Malikis and Shafi'is held Madinah superior - perhaps specifically during the Prophet's life or for the Muhajirun. (Rad al-Muhtar) Ibn al-Humam mentioned scholars differed about the dislike of residing in Makkah - some Shafi'is considered it recommended unless one fears falling into sin (Abu Yusuf and Muhammad's view), while Abu Hanifah and Malik disliked it. (Al-Durr al-Mukhtar adds: Residing in Madinah is not disliked, nor in Makkah for those confident in themselves). Some said the dislike was due to multiplying sins or lacking proper reverence. (Al-Hamawi said this applies to Makkah's Haram, not Madinah which has no Haram). The cautious position is dislike (Abu Hanifah's view), though people commonly reside there following Abu Yusuf and Muhammad's view. (Multaqat)

Note 1

قوله

(۱)قوله : ما سكنت غيرك وفي آخر الباب وشرحه : أجمعوا على أن أفضل البلاد مكة والمدينة - زادهما الله تعالى شرفا وتعظيما - واختلفوا أيهما أفضل؟ فقيل: مكة، وهو مذهب الأئمة الثلاثة، والمروي عن بعض الصحابة، (وهذا الحديث دليل لهم ، وقيل : المدينة، وهو قول بعض المالكية والشافعية. قيل: وهو المروي عن بعض الصحابة، ولعل هذا مخصوص بحياته و أو بالنسبة إلى المهاجرين من مكة. كذا في رد المحتار»، وقال ابن الهمام: اختلف العلماء في كراهة المجاورة بمكة وعدمها، فذكر بعض الشافعية أن المختار استحبابها إلا أن يغلب على ظنه الوقوع في المحذور، وهذا قول أبي يوسف ومحمد رحمها ، وذهب أبو حنيفة ومالك إلى كراهتها، انتهى. وفي الدر المختار ولا تكره المجاورة بالمدينة، وكذا بمكة لمن يثق بنفسه، وقال في رد المحتار: وقيل: تكره كمكة، وقيل: إنها على الخلاف بين أبي حنيفة وصاحبيه، فإن تضاعف السيئات أو تعاظمهما إن فقد فيهما فمخافة السامة وقلة الأدب المفضي إلى الإخلال بواجب التوفير، والإجلال قائم، وقال في موضع آخر : ولا يظن أن كراهة القيام تناقض فضل البقعة؛ لأن هذه الكراهة علتها ضعف الخلق وقصورهم عن القيام بحق الموضع انتهى. وقال الحموي في شرح الأشباه والنظائر وتكره المجاورة به أي بالحرم، والمراد به حرم مكة؛ إذ المدينة لا حرم لها، وإن كان تكره المجاورة بها وعلة الكراهة خوف سقوط حرمة البيت في نظره القاصر كسائر البيوت والعياذ بالله تعالى أو تنقص الهيبة والحرمة الأولى في نظره كما هو شأن كثير والقول بالكراهة مذهب الإمام الأعظم وجميع من المحتاطين في الدين، ووقال أبو يوسف ومحمد لا بأس بالمجاورة، وهو الأفضل، وعليه عمل الناس. كذا في الملتقطات ونقل الفارسي أن الفتوى على قولهما.

Note 1

ف: واضح ہو کہ صدر کی حدیث جس کی روایت ترمذی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کی ہے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر قریش مکہ معظمہ سے مجھے نہ نکالے ہوتے تو میں مکہ معظمہ کے سوا کہیں اور سکونت اختیار نہ کرتا۔ اس بارے میں لباب اور اس کی شرح میں علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دنیا کے سارے شہروں میں مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کو فضیلت حاصل ہے (اللہ تعالیٰ ان دونوں پاک شہروں کی عظمت کو زائد فرمائے) البتہ اختلاف اس بات میں ہے کہ ان دونوں شہروں میں افضلیت کس شہر کو حاصل ہے؟ ایک قول یہ ہے کہ مکہ معظمہ افضل ہے اور یہ تینوں ائمہ کا مذہب ہے، اور بعض صحابہ کرام سے بھی مروی ہے اور صدر کی حدیث بھی اس کی دلیل ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مدینہ منورہ افضل ہے اور یہ بعض مالکی اور بعض شافعی حضرات کا قول ہے اور بعض صحابہ کرام سے بھی یہی منقول ہے اور غالباً مکہ معظمہ پر مدینہ منورہ کی فضیلت اس زمانہ کی بات تھی جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ پاک میں رونق افروز تھے یا مہاجرین رضی اللہ عنہم کے لئے مکہ معظمہ پر مدینہ منورہ کو فضیلت حاصل تھی۔ یہ رد المحتار میں مذکور ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ حرم مکہ یا حرم مدینہ کی مجاورت یعنی یہاں سکونت کا اختیار کرنا تو اس بارے میں بعض شافعی حضرات کا قول یہ ہے کہ مجاورت حرمین ایسے حضرات کے لئے مستحب ہے جن کو اس بات کا یقین ہو کہ یہاں قیام کے درمیان وہ کسی برائی کے مرتکب نہیں ہوں گے اور امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ البتہ امام ابو حنیفہ اور امام مالک رحمہما اللہ کا قول یہ ہے کہ مجاورت حرمین مطلقاً مکروہ ہے یہ درمختار میں مذکور ہے۔ اور رد المحتار میں لکھا ہے کہ امام اعظم رحمہ اللہ کے پاس حرمین میں سکونت اختیار کرنا اس لئے مکروہ ہے کہ مستقل سکونت سے قلت ادب اور بیزارگی کا اندیشہ لگا رہتا ہے اور اس کے علاوہ حرم مبارک کے جو لوازم ہیں اس کی پابجائی مستقلاً رہنے والے پر دشوار ہو جاتی ہے۔ اسی لئے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ امت کے محتاط علماء نے حرمین میں مستقلاً سکونت مطلقاً مکروہ قرار دیا ہے، البتہ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ نے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا۔ یہاں مستقلاً سکونت کو مباح قرار دیا ہے۔ چنانچہ اس پر لوگوں کا عمل بھی ہے اور علامہ قاری نے بیان کیا ہے کہ اس بارے میں فتویٰ صاحبین کے قول پر ہے۔ یہ ملتقطات سے ماخوذ ہے۔12