Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Pilgrimage Rites

Hadith 3179

Chapter: The Virtues of Madinah – May Allah Increase Its Honor and Sanctity

In this book

Current reading

Pilgrimage Rites

Chapter: The Virtues of Madinah – May Allah Increase Its Honor and Sanctity

Zujajat al-Masabih 3179Volume 2

English

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, “Whoever can die in Madinah, let them do so, for I will intercede for those who die there.”

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۱۷۹ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ فَإِنِّي أَشْفَعُ1 لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثُ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ إِسْنَادا.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3780
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس کسی شخص کے لئے یہ ممکن ہو کہ وہ مدینہ منورہ میں وفات پاسکے تو (اس کی یہ نیت مبارک ہے، وہ مدینہ منورہ کو اپنی قیام گاہ بنائے تاکہ) اس کی وفات وہاں ہوسکے۔ اس لئے کہ جو مدینہ منورہ میں وفات پاتے ہیں میں ان کی (خصوصی) شفاعت کروں گا۔ اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3917 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

I will intercede...

(2) The statement: “I will intercede...”: This is not explicit proof of Madinah’s absolute superiority over Makkah, as a lesser place may excel in specific aspects—like Al-Baqi’s virtue over Hajun due to its proximity to the Prophet’s (ﷺ) grave or its soil holding many companions. Alternatively, it may specifically address the Migrants (Muhajirun), as dying in Makkah was discouraged for them. This is in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله : فإني أشفع إلخ وليس هذا صريحًا في أفضلية المدينة على مكة مطلقا؛ إذ قد يكون في المفضول مزية على الفاضل من حيثية، وتلك بسبب تفضيل بقعة البقيع على الحجون، إما لكونه تربة أكثر الصحابة الكرام أو لقرب ضجيعه عليه الصلاة والسلام، ولا يبعد أن يراد به المهاجرين فإنه ذم لهم الموت بمكة، كما قرر في محله. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص مدینہ منورہ میں مستقل سکونت اختیار نہ کرے تو مدینہ پاک کی موت حاصل کرنے کے لئے اس کو چاہئے کہ عمر کے آخری حصہ میں یا جب امراض کا ہجوم ہوجائے اور موت کا اندیشہ ہو تو وہ مدینہ منورہ چلا جائے تاکہ وہاں وفات پاسکے، اگر وہ اس نیت سے راستہ میں بھی مر جائے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو یہی اجر عطا فرمائیں گے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ مَوْتِي بِبَلَدِ رَسُولِكَ الٰہی! تو مجھے اپنی راہ میں شہادت دے اور آپ کے رسول کے شہر میں میری موت دے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ مدینہ منورہ میں وفات پانے والے کو خصوصی شفاعت ملے گی یا اس مبارک شہر میں وفات پانے والے کے لئے یہ خوش خبری ہے کہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہوگا۔ ماخوذ از: ”مرقات“۔12