Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Pilgrimage Rites · Chapter 15

Chapter: The Virtues of Madinah – May Allah Increase Its Honor and Sanctity

26 narrations · In source reading order

Hadith 3174

Volume 2

English

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: When the Prophet (ﷺ) arrived in Madinah, he ordered the construction of the mosque and said, “O Banu Najjar! Name your price for this land.” They replied, “We do not seek any price except from Allah.” He then commanded that the graves of the polytheists be dug up, the ruins be leveled, and the date palms be cut. They aligned the cut palms towards the qibla of the mosque. [Agreed upon] ———————————————————————————

العربية

Typed, pending editorial approval
٣١٧٤ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ للهِ الْمَدِينَةَ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: «يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي، قَالُوا: لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللهِ، فَأَمَرَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ، ثُمَّ بِالْخِرَبِ فَسُوِّيَتْ، وَبِالنَّخْلِ1 فَقُطِعَ، فَصَفُوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3773
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جب مکہ معظمہ سے ہجرت فرما کر) مدینہ منورہ تشریف لائے تو مسجد کی تعمیر کا حکم فرمایا اور بنونجار (کی جس زمین کو پسند فرمایا تو ان) سے ارشاد فرمایا کہ تم اس کی قیمت لے لو۔ انہوں نے عرض کیا ہم اس کی قیمت تو اللہ تعالیٰ ہی سے لیں گے (یعنی دنیا میں ہم کو اس کا معاوضہ مطلوب نہیں ہے، جب یہاں مسجد کی تعمیر کا آغاز ہوا تو) اس زمین میں مشرکین کی قبریں تھیں ان کو اکھاڑ دیا گیا اور اس میں جو ٹیلے تھے ان کو برابر کیا گیا اور کھجور کے جو پیڑ تھے ان کو کاٹ دیا گیا اور کھجور کے تنوں کو مسجد کے قبلہ کی جگہ جما دیا گیا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 428 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 524a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

And the date palms were cut

(1) The statement: “And the date palms were cut”: According to their [scholars’] view, cutting the palms of the Haram is impermissible. Had Madinah been a Haram, he would not have ordered their cutting based on their principle. This is mentioned in Al-Mirqat.

Note 2

If you were to go to Al-Aqiq...

(2) The statement: “If you were to go to Al-Aqiq...” In Al-Nukhbah, it is said: “This is a clear indication from the Prophet (ﷺ) of the permissibility of hunting in Madinah, for the scholars unanimously agree that Al-Aqiq is part of Madinah, with no disagreement. The Prophet’s (ﷺ) encouragement to hunt there over other places is due to the superiority of its game, as the animals feed on the vegetation of Madinah, making their meat superior to game from elsewhere—just as its fruits are superior to others.” This is also in (Al-Mirqat).

Note 1

قوله

(۱) قوله : وبالنخل فقطع : فعندهم لا يجوز قطع نخل الحرم، فلو كان حرما لما أمر بالقطع على أصلهم. قاله في «المرقاة».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ مسجد نبوی کی تعمیر کے وقت اس زمین میں کھجور کے جو پیڑ تھے ان کو کاٹ دیا گیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر مدینہ منورہ میں درختوں کا کاٹنا حرام ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ان درختوں کو کاٹنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مدینہ منورہ میں شکار کرنے اور درختوں کو کاٹنے کی ممانعت ایسی نہیں ہے جیسے مکہ معظمہ میں ہے (ماخوذ از: مرقات)۔12

Hadith 3175

Volume 2

English

Maslamah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) asked me, “Where were you?” I said, “Hunting.” He asked, “Where?” I informed him of the area, and he seemed displeased with it, saying, “If you had gone to Al-Aqiq, I would have escorted you when you left and welcomed you when you returned, for I love Al-Aqiq.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٣١٧٥ - وَعَنْ سلمة [بن الأكوع] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : أَيْنَ كُنْتَ؟» قُلْتُ: فِي الصَّيْدِ قَالَ: «أَيْنَ؟» فَأَخْبَرْتُهُ بِالنَّاحِيَةِ الَّتِي كُنْتُ فِيْهَا، فَكَأَنَّهُ كَرِهَ تِلْكَ النَّاحِيَةَ، وَقَالَ: «لَوْ كُنْتَ1 تَذْهَبُ إِلَى الْعَقِيقِ لَشَيَّعْتُكَ إِذَا ذَهَبْتَ، وَتَلَقَّيْتُكَ إِذَا جِئْتَ فَإِنِّي أُحِبُّ الْعَقِيقَ». رَوَاهُ ابْن أَبِي شَيْبَةَ وَالصَّحَاوِيُّ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ أَيْضًا بِسَنَدٍ حَسَّنَهُ الْمُنْذِرِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3774Noor 3775
سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے (ایک مرتبہ) دریافت فرمایا تم کہاں تھے (وہ کہتے ہیں) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں شکار کرنے کے لئے باہر نکل گیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر دریافت فرمایا کہاں (شکار کر کے آئے ہو) میں نے جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے شکار کی جگہ بتائی تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ حضور ﷺ کو وہ جگہ زیادہ پسند نہ تھی۔ چنانچہ آپ نے ارشاد فرمایا اگر تم (شکار کے لئے) عقیق جاتے تو میں بھی تمہارے ساتھ شکار میں رہتا (یا اگر تمہارے ساتھ نہ چل سکتا اور تم عقیق سے شکار کر کے) واپس ہوتے تو تم سے ملتا۔ اس لئے کہ عقیق کی سر زمین مجھے بہت محبوب ہے (اور وہاں کا شکار مجھے بے حد پسند ہے)۔ اس کی روایت ابن ابی شیبہ اور طحاوی نے کی ہے۔ اور طبرانی نے بھی اس کی روایت ایسی سند کے ساتھ کی ہے جس کو امام منذری نے حُسن قرار دیا ہے۔
Commentary and footnotes (2)

Note 1

قوله

(۱) قوله: لو كنت تذهب إلى العقيق إلخ : قال في «النخبة»: وهذا تصريح من النبي له على جواز صيد المدينة، فإن الأئمة اتفقوا على أن العقيق من المدينة، ولم يخالف فيه مخالف، وزيادة ترغيب النبي ﷺ في صيدها عن غيرها، والله تعالى أعلم؛ لكون لحمها تربى من نبات المدينة، فكان للحمها مزية على لحوم الصيد الذي ليس عنها، كما أن الثمرها مزية على بقية الأثمار. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: واضح ہو کہ صاحب نخبہ نے کہا ہے کہ اس حدیث شریف سے صراحت کے ساتھ واضح ہے کہ مدینہ منورہ میں شکار جائز ہے۔ اس لئے کہ سرزمین عقیق مدینہ منورہ میں داخل ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عقیق کا شکار اس لئے پسند تھا کہ یہاں کے جانور مدینہ منورہ کی نباتات کھاتے ہیں اس لئے عقیق کے شکار کو دوسرے مقامات کے شکار پر فوقیت ہے جیسے مدینہ منورہ کے پھلوں کو دوسرے مقامات کے پھلوں پر فضیلت حاصل ہے جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔ اھ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اگر مدینہ منورہ کا شکار جائز نہ ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عقیق میں شکار کرنے کو پسند نہیں فرماتے۔ اور اس حدیث سے مذہب حنفی کی تائید ہوتی ہے کہ مدینہ منورہ میں شکار حلال ہے۔12

Hadith 3176

Volume 2

English

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, “Uhud is a mountain that loves us and is loved by us. When you go there, eat from its trees—even from its thorny bushes.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٣١٧٦ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: أُحُدٌ جَبَلُ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، فَإِذَا جِئْتُمُوهُ فَكُلُوا1 مِنْ شَجَرِهِ وَلَوْ مِنْ عِضَاهِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ». وَفِيْهِ كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، وَثَقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَرَوَى ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ مِثْلَهُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3776
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ کوہ احد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں، اس لئے جب کبھی تم وہاں (یعنی کوہ احد کے پاس) پہنچو تو اس کی بوٹی اگرچہ کہ خاردار ہو، کھا لیا کرو۔ اس کی روایت طبرانی نے اوسط میں کی ہے اور طبرانی سند میں کثیر بن زید ایک راوی ہیں جس کو امام احمد اور دیگر ائمہ محدثین نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابن شیبہ نے بھی ایسی ہی روایت کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)

Note 1

Eat from its trees

(1) The statement: “Eat from its trees”: This is only permissible by cutting or uprooting, yet we unanimously agree this is impermissible in the Haram of Makkah. Thus, the prohibition elsewhere (outside Uhud) is either recommendatory (not obligatory) or meant to prevent commercial exploitation (not personal consumption), to avoid scarcity and preserve game—similar to the interpretation of the prohibition regarding Wajj Valley’s trees. This is mentioned in Sharh Al-Sunnah: “The Prophet (ﷺ) protected Wajj for public welfare (e.g., charity camels), so hunting there is allowed, as the restriction aimed to prevent public misuse.” Al-Khattabi in Ma’alim Al-Sunan said, “I find no basis for its prohibition unless it was a temporary protection for communal benefit.” If the prohibition was absolute, Al-Tahawi suggested it may have been due to the obligation of migration (Hijrah) to Madinah, ensuring its appeal for settlers. After migration ceased, the ruling lapsed.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فكلوا من شجره والأكل منها لا يصح إلا بقطع أو قلع، وقد اتفقنا على عدم جواز ذلك في الحرم المكي، فعلم أن المراد من المنع في غير أحد منع استحباب لا تحريم أو كان ينهى عن ذلك للبيع لا للأكل؛ لئلا يضيق عليهم، ولتتوفر الصيود بها، فنهاهم على وجه التشديد إرادة للتوسعة عليهم في الاصطياد والانتفاع به، كما قال المنازعون في تأويل حديث صيد «وج» وأشجاره، وهو ما قاله في شرح السنة»: حماه أي وادى وج رسول الله ﷺ نظرا لعامة المسلمين لإبل الصدقة ونعم الجزية، فيجوز الاصطياد فيه؛ لأن المقصود منع الكلاً من العامة، وقال الخطابي في معالم السنن»: ولا أعلم التحريمه وجا معنى إلا أن يكون على سبيل الحمى لنوع من منافع المسلمين، إلى أن قال ما حاصله: وقد يحتمل أنه كان ذلك للتحريم، ثم فسخ فكما أولوا ذلك الحديث، لنا أن نؤول هذا. ثم إن صح مراد التحريم، فقال الطحاوى يحتمل أن يكون سبب النهي عن صيد المدينة وقطع شجرها كون الهجرة إليها واجبة، فكان يفعله بقاء لزينتها ليستطيبوها ويألفوها؛ لأن بقاء ذلك مما يزيد في زينتها ويدعوا إليها، كما روى ابن عمر لما أن النبي الله نهى عن هضم آطام المدينة، فإنها من زينتها. فلما انقطعت الهجرة زال ذلك، فكذا هذا. فإن قيل: فصار الأمر محتملا أجيب فعاد على ما كان هو عدم التحريم؛ لأنه الأصل، وإنما أطنبنا الكلام مع أنه خلاف المراد ردا للجاهل بعلم الإمام الأعظم والمجتهد الأعلم الذي صار عياله في الفقه جميع الفقهاء، وقد انفرد بكونه تابعيا من بين المجتهدين عن العلماء حيث قال في حقه لم يبلغه حديث المنع، أو بلغه فخالفه بالرأي والدفع والله سبحانه وتعالى أعلم، هذا كله من المرقاة».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ کوہ احد کے درختوں کی بوٹیاں کاٹی جا سکتی ہیں اور کوہ اُحد مدینہ منورہ میں واقع ہے، اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مدینہ منورہ کے درختوں کو کاٹا جا سکتا ہے اور یہی مذہب حنفی ہے۔12

Hadith 3177

Volume 2

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, “No one among my Ummah endures the hardships of Madinah except that I will be their intercessor or witness on the Day of Resurrection.” [Narrated by Muslim] In another narration: “No one leaves Madinah out of dislike for it except that Allah replaces them with someone better. And no one steadfastly endures its hardships except that I will intercede or testify for them on the Day of Resurrection.”

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۱۷۷ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْ شَهِيدًا». رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: «لَا يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3777Noor 3778
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ میری امت میں سے جو بھی شخص مدینہ منورہ کی سختی (اور بھوک، سردی یا گرمی) پر صبر کرے گا تو میں اس کے لئے قیامت کے دن شفاعت کروں گا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ اور مسلم کی ایک روایت میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ، سے اس طرح مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (مدینہ منورہ میں جو لوگ سکونت اختیار کرتے ہیں دین و دنیا کی بھلائی کے لئے) مدینہ ان کے لئے بہتر ہے، اگر وہ یہاں کے برکات اور یہاں کے قیام کی فضیلتوں کو) محسوس کریں۔ (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ) اگر کوئی شخص بے رغبتی سے (بلا کسی ضرورت کے) مدینہ منورہ کو چھوڑ دے (تو وہ اپنا ہی نقصان کرے گا) اور اللہ تعالیٰ اس سے بہتر شخص کو (وہاں کے قیام کے لئے) اس شخص کی جگہ بسا دے گا اور (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ) جو شخص (مدینہ منورہ میں قیام کرے اور) یہاں کی سختی، مشقت (اور بھوک پیاس کو) برداشت کرے اور ثابت قدم رہے تو میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا اور (اس کی ثابت قدمی پر) گواہ ہونگا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1374a (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1374b (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 2

No one endures the hardships of Madinah...

(2) The statement: “No one endures the hardships of Madinah...” Al-Nawawi said: “These hadiths, along with others in this chapter, clearly indicate the virtue of residing in Madinah and enduring its difficulties. This merit remains until the Day of Judgment. Scholars differed on residing in Makkah vs. Madinah: Abu Hanifah and others disliked prolonged stay in Makkah, while Ahmad ibn Hanbal and others deemed it recommended. The dislike was due to concerns like diminishing reverence or increased sin (as sins in sacred places are graver, just as rewards are greater). The preferred view is that residing in both is recommended unless one fears falling into the mentioned pitfalls.” Fath Al-Bari adds: “The dislike for staying does not contradict the sanctity of the place, for it stems from human inability to uphold its rights.”

Hadith 3178

Volume 2

English

Sufyan ibn Abi Zuhayr (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say, “Yemen will be conquered, and people will come forth with their families and followers. Yet Madinah is better for them if they knew. Then Syria will be conquered, and people will come forth with their families and followers. Yet Madinah is better for them if they knew. Then Iraq will be conquered, and people will come forth with their families and followers. Yet Madinah is better for them if they knew.”

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۱۷۸ - وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرِ (رضي الله عنه) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: تُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يُبِسُّوْنَ، فَيَتَحَمَّلُوْنَ بِأَهْلِهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ1 خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُوْنَ، وَتُفْتَحُ الشَّأْمُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يُبِسُّوْنَ فَيَتَحَمَّلُوْنَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُوْنَ، وَتُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَأْتِي قَوْمُ يُبِسُّوْنَ، فَيَتَحَمَّلُوْنَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُوْنَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3779
سفیان بن ابی زُہیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ (میرے بعد) بہت سارے ملک فتح ہوں گے اور مدینہ کے لوگ وہاں جا بسیں گے چنانچہ پہلے) یمن فتح ہوگا اور مدینہ کی ایک جماعت اپنے اہل و عیال اور اپنے ماتحت لوگوں کے ساتھ کوچ کرے گی اور یمن جا بسے گی حالانکہ مدینہ منورہ کا قیام (یہاں کے برکات اور فضائل کے لحاظ سے) ان کے لئے بہتر تھا، اگر وہ جانتے۔ پھر اس کے بعد ملک شام فتح ہوگا۔ اور ایک جماعت مدینہ منورہ سے اپنے اہل و عیال اور ماتحتین کے ساتھ کوچ کرے گی اور وہاں جا بسے گی۔ حالانکہ مدینہ منورہ کا قیام ان کے لئے بہتر تھا اگر وہ اس کو سمجھتے۔ پھر ملک عراق فتح کیا جائے گا اور اسی طرح مدینہ منورہ سے ایک جماعت اپنے اہل و عیال اور ماتحتین کے ساتھ وہاں جا بسے گی، حالانکہ مدینہ منورہ کا قیام ان کے لئے (وہاں کی سکونت سے) بدرجہا، بہتر تھا اگر وہ اس کو سمجھ لیتے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1875 (unverified) 97% confidence · Validation similarity: 0.911
  • Candidate: Sahih Muslim 1388a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Madinah is better for them

(1) The statement: “Madinah is better for them”: This does not prove Madinah’s superiority over Makkah. As stated in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: والمدينة خير لهم فلا دلالة فيه على أفضلية المدينة على مكة. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چند معجزے مذکور ہیں: اول یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن، شام اور عراق کی فتح کی خبر دی اور ایسا ہی ہوا کہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے ہاتھوں پر یہ ممالک فتح ہوئے۔ دوسرے یہ کہ یہ سارے ممالک اسی ترتیب سے فتح ہوئے، پہلے یمن، پھر شام اور آخر میں عراق فتح ہوا۔ اور تیسرے یہ کہ مدینہ منورہ سے لوگ ان ملکوں میں جا کر آباد ہوگئے۔ اس حدیث شریف سے مدینہ منورہ میں سکونت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے اپنی ہمسائیگی چھوڑنا پسند نہیں فرمایا۔ اس لئے کہ مدینہ منورہ کی برکات سے محروم ہو جانا ان لوگوں کے لئے بہتر نہیں۔12

Hadith 3179

Volume 2

English

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, “Whoever can die in Madinah, let them do so, for I will intercede for those who die there.”

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۱۷۹ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ فَإِنِّي أَشْفَعُ1 لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثُ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ إِسْنَادا.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3780
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس کسی شخص کے لئے یہ ممکن ہو کہ وہ مدینہ منورہ میں وفات پاسکے تو (اس کی یہ نیت مبارک ہے، وہ مدینہ منورہ کو اپنی قیام گاہ بنائے تاکہ) اس کی وفات وہاں ہوسکے۔ اس لئے کہ جو مدینہ منورہ میں وفات پاتے ہیں میں ان کی (خصوصی) شفاعت کروں گا۔ اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3917 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

I will intercede...

(2) The statement: “I will intercede...”: This is not explicit proof of Madinah’s absolute superiority over Makkah, as a lesser place may excel in specific aspects—like Al-Baqi’s virtue over Hajun due to its proximity to the Prophet’s (ﷺ) grave or its soil holding many companions. Alternatively, it may specifically address the Migrants (Muhajirun), as dying in Makkah was discouraged for them. This is in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله : فإني أشفع إلخ وليس هذا صريحًا في أفضلية المدينة على مكة مطلقا؛ إذ قد يكون في المفضول مزية على الفاضل من حيثية، وتلك بسبب تفضيل بقعة البقيع على الحجون، إما لكونه تربة أكثر الصحابة الكرام أو لقرب ضجيعه عليه الصلاة والسلام، ولا يبعد أن يراد به المهاجرين فإنه ذم لهم الموت بمكة، كما قرر في محله. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص مدینہ منورہ میں مستقل سکونت اختیار نہ کرے تو مدینہ پاک کی موت حاصل کرنے کے لئے اس کو چاہئے کہ عمر کے آخری حصہ میں یا جب امراض کا ہجوم ہوجائے اور موت کا اندیشہ ہو تو وہ مدینہ منورہ چلا جائے تاکہ وہاں وفات پاسکے، اگر وہ اس نیت سے راستہ میں بھی مر جائے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو یہی اجر عطا فرمائیں گے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ مَوْتِي بِبَلَدِ رَسُولِكَ الٰہی! تو مجھے اپنی راہ میں شہادت دے اور آپ کے رسول کے شہر میں میری موت دے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ مدینہ منورہ میں وفات پانے والے کو خصوصی شفاعت ملے گی یا اس مبارک شہر میں وفات پانے والے کے لئے یہ خوش خبری ہے کہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہوگا۔ ماخوذ از: ”مرقات“۔12

Hadith 3180

Volume 2

English

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: When the Messenger of Allah (ﷺ) arrived in Madinah, Abu Bakr and Bilal fell ill. I informed the Prophet (ﷺ), and he prayed, “O Allah, make Madinah as beloved to us as Makkah or more, and bless its sa‘ and mudd (measures). Remove its fever and relocate it to Al-Juhfah.”

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۱۸۰ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ1 حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3781
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد (آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے) حضرت ابوبکر اور حضرت بلال رضی اللہ عنہما کو جاڑے سے بخار آنے لگا تو (ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (ان حضرات کی بیماری کی) خبر دی تو حضور نے یہ سن کر دعا فرمائی اے اللہ! جس طرح تو نے مکہ معظمہ کو ہمارے لئے محبوب بنایا تھا اسی طرح مدینہ منورہ کو بھی ہمارا محبوب بنا بلکہ اس سے بھی زیادہ عزیز بنا اور (اے اللہ!) مدینہ منورہ کی آب و ہوا کو ہمارے لئے بہتر اور موافق فرما دے اور مدینہ منورہ کے پیمانوں صاع اور مُد (ناپ تول) میں برکت عطا فرما اور جس وبائی بخار میں اہل مدینہ مبتلا ہیں اس کو یہاں سے ہٹا دے (اور ان کو شفا دے) اور اس وباء کو جُحفہ کی طرف (جہاں یہود آباد ہیں) منتقل فرما دے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1889 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1376a (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Make Madinah beloved...

(1) The statement: “Make Madinah beloved...”: This does not contradict the hadith where the Prophet (ﷺ) said to Makkah, “You are the most beloved land to Allah.” The prayer for increased love was to ease the Migrants’ attachment to Madinah after being compelled to leave Makkah, ensuring they did not resent it. The love here is for comfort, not superior reward. As in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱)قوله: اللهم حبب إلينا المدينة: لا ينافي هذا ما سبق أنه الله قال لمكة: إنك أحب البلاد إلي، وإنك أحب أرض الله إلى الله، وفي رواية: لقد عرفت إنك أحب البلاد إلى الله وأكرمها على الله، فإن المراد به المبالغة، أو لأنه لما أوجب الله على المهاجرين مجاورة المدينة، وترك التوطن والسكون بمكة، السكينة طلب من الله أن يزيد محبة المدينة في قلوب أصحابه؛ لئلا يميلوا بأدنى الميل غرضًا به، إذ المراد بالمحبة الزائدة الملائمة لملاذ النفس ونفي مشاقها، لا المحبة المرتبة على كثرة المثوبة، فالحيثية مختلفة. كذا في «المرقاة».

Hadith 3181

Volume 2

English

Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated regarding the Prophet's (ﷺ) dream about Madinah: "I saw a disheveled black woman leaving Madinah and settling at Mahya'ah. I interpreted this to mean that Madinah's plague would be transferred to Mahya'ah, which is Al-Juhfah."

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۱۸۱ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ ﷺ فِي الْمَدِينَةِ: رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى نَزَلَتْ بِمَهْيَعَةَ، فَتَأَوَّلْتُهَا أَنَّ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ نُقِلَ إِلَى مَهْيَعَةَ وَهِيَ الْحُجْفَةُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3782
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک مبارک خواب کو جس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ (کی وباء) کے بارے میں دیکھا تھا اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں ایک سیاہ فام عورت کو دیکھا جو پراگندہ بال تھی اور وہ مدینہ منورہ سے نکلی اور جحیفہ میں چلی گئی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے اس کی یہ تعبیر لی کہ یہ (سیاہ فام عورت) مدینہ منورہ کی وباء تھی جو مُهَيْعَة یعنی جُحفہ میں منتقل ہوگئی۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7038 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: صدر کی دونوں حدیثوں سے چند فوائد حاصل ہوتے ہیں ایک یہ کہ جو شخص جس مقام پر رہتا ہو وہاں کی خوش حالی اور امن و سلامتی کی دعا کیا کرے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بلائیں دعاؤں سے ٹل جاتی ہیں اور تیسری بات یہ کہ جو قوم اسلام اور مسلمانوں کی دشمن ہو یا ظالم، اس کے لئے بددعا کرنا جائز ہے۔ (اشعۃ اللمعات)۔12

Hadith 3182

Volume 2

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "When people would see the first fruits of the season, they would bring them to the Prophet (ﷺ). When he took them, he would say: 'O Allah, bless our fruits, bless our city, bless our sa' and mudd measures. O Allah, Ibrahim was Your servant, friend and prophet, and I am Your servant and prophet. He prayed to You for Makkah, and I pray to You for Madinah with what he prayed for Makkah and more.' Then he would call the youngest child present and give them the fruits."

العربية

Typed, pending editorial approval
٣١٨٢ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرِ جَاءُوا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَإِذَا أَخَذَهُ قَالَ: «اللَّهُمَّ1 بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدَّنَا اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنِّي عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ وَإِنِّي أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ لِمَكَّةَ وَمِثْلِهِ مَعَهُ». قَالَ: ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ لَهُ، فَيُعْطِيهِ ذَلِكَ الثَّمَرَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3783
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عادت یہ تھی کہ جب (مدینہ منورہ میں) نیا پھل آتا تو اس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں لاتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس کو اپنے دست مبارک میں لیتے تو اس طرح دعا فرماتے اے اللہ! ہمارے لئے ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما، اور ہمارے شہر میں بھی خیر و برکت نازل فرما اور اسی طرح ہمارے صاع اور ہمارے مُد یعنی ناپ اور تول کے پیمانوں میں بھی برکت نازل فرما۔ اے اللہ! حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آپ کے خاص بندے، آپ کے دوست اور آپ کے نبی تھے اور میں بھی آپ کا بندہ اور آپ کا نبی ہوں، تو جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ معظمہ میں خیر و برکت کی دعا کی تھی میں بھی اسی طرح مدینہ منورہ کے لئے دعا کرتا ہوں۔ راوی حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (اس طرح دعا فرمانے کے بعد) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خاندان کے چھوٹے بچوں کو بلاتے اور وہ پھل ان میں تقسیم فرماتے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1373a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

O Allah, bless our fruits...

(2) The statement: "O Allah, bless our fruits..." Our scholars and Al-Shafi'i considered Makkah superior to Madinah, while Malik held the opposite view based on this hadith. However, we have Abdullah ibn Adi ibn Hamra's hadith where the Prophet (ﷺ) said to Makkah: "By Allah, you are the best land of Allah and most beloved to Allah." Also Ibn Abbas narrated that the Prophet (ﷺ) said to Makkah: "How pure you are as a city and how dear you are to me! Had my people not driven me out, I would not have lived anywhere else." The Prophet's prayer for Madinah was specifically regarding abundance of fruits, not absolute superiority. As mentioned in Sharh An-Nuqayah and Umdat Al-Qari.

Note 1

قوله

(۱) قوله: اللهم بارك لنا إلخ : ثم علماؤنا والشافعي فضلوا مكة على المدينة، ومالك عكس القضية لهذا الحديث، ولنا حديث عبد الله بن عدي بن حمراء، قال: رأيت رسول الله له على الحزورة، فقال: والله إنك لخير أرض الله وأحب أرض الله إلى الله، ولولا أني أخرجت منك ما خرجت، رواه الترمذي وابن ماجه، وحديث ابن عباس ما قال: قال رسول الله الله لمكة : ما أطيبك من بلد وأحبك إلي، ولولا أن قومي أخرجوني منك ما سكنت غيرك، رواه الترمذي، وقال: حديث حسن صحيح غريب إسنادا، وأما دعاء النبي الله بمثل دعاء إبراهيم فإنما كان في الرزق من الثمرات، ولا ريب في أكثرية ثمرة المدينة، وليس هذا بسبب لأفضليتها. كذا في شرح النقاية»، وقال في عمدة القاري: فإن قلت: الاستدلال به على تفصيل المدينة على مكة ظاهر. قلت: نعم، ظاهر من هذه الجهة، ولكن لا يلزم من حصول أفضلية المفضول في شيء من الأشياء ثبوت الأفضلية على الإطلاق. فإن قلت: فعلى هذا يلزم أن يكون الشام واليمن أفضل من مكة لقوله في الحديث الآخر : اللهم بارك لنا في شامنا، وأعادها ثلاثا. قلت: التأكيد لا يستلزم التكثير المصرح به في حديث الباب، وقال ابن حزم: لا حجة في حديث الباب لهم؛ لأن تكثير البركة بها لا يستلزم الفضل في أمور الآخرة.

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نئے پھلوں کو پہلے بچوں میں تقسیم فرمایا کرتے تھے، اس بارے میں صاحب اشعۃ اللمعات نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عمل از راہِ شفقت تھا اور صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ پھل ابھی شروع ہوئے اور ہر کس و ناکس کو میسر نہیں آ سکتے اس لئے کاملین کی یہ عادت مبارک ہوتی ہے کہ میوے اور پھلوں کو اس وقت تک تناول نہیں فرماتے جب تک سب کو یہ میوے میسر نہ آتے۔ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھلوں کو پہلے بچوں میں تقسیم فرمایا کرتے تھے۔12

Hadith 3183

Volume 2

English

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "O Allah, grant Madinah double the blessings You granted Makkah."

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۱۸۳ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ1 مَا جَعَلْتَ بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3784
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (مدینہ منورہ کے لئے اس طرح) دعا فرمائی: اے اللہ! تُو نے مکہ معظمہ میں جتنی برکت رکھی اس سے دُگنی برکت مدینہ منورہ کو عطا فرما۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1885 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1369 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

قوله

(۱) قوله: ضعفي ما جعلت بمكة من البركة: أي مثليه في الأقوات هو لا ينافي كون مكة أفضل منها باعتبار مضاعفة الحسنات، فإن الأول ارتفاق حسي دنيوي والثاني أخروي معنوي. كذا في «المرقاة».

Hadith 3184

Volume 2

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I was commanded to migrate to a town that will consume (in importance) all other towns. They call it Yathrib, but it is Madinah. It purges away bad people as the furnace removes impurities from iron."

العربية

Typed, pending editorial approval
٣١٨٤ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى يَقُولُوْنَ يَثْرِبُ، وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3785
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے ایسی بستی میں ہجرت کا حکم دیا گیا جو ساری بستیوں کو کھا لے گی (یعنی سارے شہروں پر غالب آئے گی یعنی سب پر اہل مدینہ غالب اور فاتح رہیں گے اور تمام ان کے تابع رہیں گے) لوگ اس بستی کو (زمانہ جاہلیت میں) یثرب کہتے تھے اور (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے بعد) اس کا نام مدینہ رکھا ہے اور یہ شہر گنہگاروں کو اس طرح دور کر دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کر دیتی ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1871 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1382 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3185

Volume 2

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The last city of the Muslim lands to be ruined will be Madinah."

العربية

Typed, pending editorial approval
٣١٨٥ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: آخِرُ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْإِسْلَامِ خَرَابًا الْمَدِينَةُ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيْثُ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3786
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ (قیامت کے قریب جب کہ تمام بلاد اسلامی ویران ہو جائیں گے مدینہ منورہ آباد رہے گا اور سب سے آخر میں (عین قیامت کے وقت) ویران اور تباہ ہوگا (مدینہ منورہ کے آخر وقت آباد اور سرسبز رہنے کا سبب حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود با برکت ہے)۔ اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3919 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3186

Volume 2

English

Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated that a Bedouin pledged allegiance to the Messenger of Allah (ﷺ) then fell ill in Madinah. He came to the Prophet (ﷺ) saying: "O Muhammad, release me from my pledge." The Prophet refused. He came again and was refused. When he came a third time, the Prophet (ﷺ) said: "Madinah is like a furnace - it expels its impurities and purifies what is good."

العربية

Typed, pending editorial approval
٣١٨٦ - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ (رضي الله عنه) أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعْكُ بِالْمَدِينَةِ، فَأَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ ، أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ ، ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى، ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى، فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ : «إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طِيبُهَا». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3787
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (ہجرت کے بعد آپ کی خدمت اقدس میں رہنے پر) بیعت کی، اس اعرابی کو مدینہ منورہ (میں قیام کے دوران) میں بخار آنے لگا (جس پر وہ صبر نہ کرسکا اور) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری بیعت مجھے واپس فرما دیجئے (یعنی مدینہ منورہ سے واپسی کی اجازت دے دیجئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے انکار فرمایا (وہ چلا گیا اور دوبارہ) حاضر ہوا اور پھر وہی سوال کیا کہ آپ میری بیعت واپس فرما دیجئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر انکار فرمایا۔ (تیسری بار) پھر حاضر ہوکر عرض کیا کہ میری بیعت مجھے واپس فرما دیجئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (تیسری بار بھی) انکار فرمایا تو وہ اعرابی (بے صبری کی حالت میں بغیر اجازت مدینہ منورہ سے) چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب یہ معلوم ہوا تو) ارشاد فرمایا مدینہ منورہ کی مثال بھٹی جیسی ہے۔ (جس طرح بھٹی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے اسی طرح) مدینہ منورہ بُرے لوگوں کو دور کر دیتا ہے اور اچھے لوگوں کو خالص بنا دیتا ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1883 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1383 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3187

Volume 2

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Hour will not be established until Madinah expels its wicked people just as the furnace expels impurities from iron."

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۱۸۷ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ الله قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ». رَوَاهُ مُسْلِمُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3788
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ مدینہ شریروں (یعنی کافرین اور منافقین) کو نکال باہر نہ کرے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو نکال دیتی ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1384 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3188

Volume 2

English

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no town that Dajjal will not enter except Makkah and Madinah. Every entrance of Madinah will have angels standing in rows guarding it. Dajjal will camp at the salt marsh, and Madinah will shake three times, expelling every disbeliever and hypocrite from it."

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۱۸۸ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لَيْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلَّا سَيَطَؤُهُ الدَّجَّالُ إِلَّا مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ لَيْسَ نَقْبُ مِنْ أَنْقَابِهَا إِلَّا عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ صَافِّينَ يَحْرُسُوْنَهَا، فَيَنْزِلُ بِالسِّبْخَةِ، فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ يَخْرُجُ إِلَيْهِ مِنْهَا كُلُّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3789
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (قیامت کے قریب) ہر شہر کو دجال پامال کرے گا یعنی ہر شہر میں اس کا عمل دخل ہو جائے گا بجز مکہ معظمہ، اور مدینہ منورہ کے (کہ ان دونوں مبارک شہروں پر دجال کا قابو نہ چلے گا۔ جب دجال مکہ معظمہ میں داخلہ سے مایوس ہو کر مدینہ منورہ کا رخ کرے گا تو دیکھے گا) کہ مدینہ منورہ کے ہر راستہ پر فرشتے صف بستہ نگرانی کر رہے ہیں تو دجال (فرشتوں سے دھتکارے جانے کے بعد مدینے منورہ کے باہر ایک شور زمین پر اتر جائے گا تو اس وقت مدینہ منورہ میں رہنے والوں کو تین مرتبہ جھنجھوڑے گا جس کی وجہ سے ہر کافر اور منافق مدینہ منورہ سے باہر نکل جائے گا (اور دجال سے جا ملے گا)۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1881 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2943a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

Double the blessings You granted Makkah

(1) The statement: "Double the blessings You granted Makkah" refers to worldly provisions, not contradicting Makkah's superiority in multiplied rewards for good deeds. The former is material, the latter spiritual. As in Al-Mirqat.

Hadith 3189

Volume 2

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There are angels at the entrances of Madinah, so neither plague nor Dajjal can enter it."

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۱۸۹ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلائِكَةُ، لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُوْنُ وَلَا الدَّجَّالُ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3790
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ کے راستوں (اور دروازوں) پر ہمیشہ فرشتے مقرر ہیں (جو اس پاک شہر کی نگرانی کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے) اس میں طاعون نہیں آ سکتا اور (قیامت کے قریب اس میں) دجال بھی داخل نہیں ہو سکے گا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1880 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1379 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ طاعون مدینہ منورہ میں نہیں ہوگا۔ یہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے کہ چودہ سو برس (1400) ہو چکے ہیں اور مدینہ پاک میں ایک مرتبہ بھی طاعون نہیں ہوا اور قیامت تک یہاں طاعون نہیں ہوگا۔12

Hadith 3190

Volume 2

English

Abu Bakrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "The terror of Dajjal will not enter Madinah. At that time, Madinah will have seven gates, with two angels at each gate."

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۱۹۰ - وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ (رضي الله عنه) عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ، عَلَى كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3791
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا (قیامت کے قریب) جس دن دجال نکلے گا (اور ہر بستی کو تباہ کرے گا لیکن) مدینہ منورہ میں (اس کا داخل ہونا تو کجا اہل مدینہ کو) اس کا خوف بھی نہ ہوگا۔ اس لئے کہ مدینہ پاک کے سات دروازوں میں سے ہر دروازہ پر دو دو فرشتے (اس کی نگرانی کے لئے) مامور ہوں گے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1879 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3191

Volume 2

English

Sa'd (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No one plots against the people of Madinah except that they will dissolve like salt dissolves in water."

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۱۹۱ - وَعَنْ سَعْدٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : لَا يَكِيدُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَحَدُ إِلَّا انْمَاعَ كَمَا يَنْمَاعُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3792
سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ اہل مدینہ سے جو شخص بھی مکر و فریب کرے گا تو وہ اس طرح گھل جائے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1877 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3192

Volume 2

English

Jabir ibn Samurah (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Allah has named Madinah 'Taybah'."

العربية

Typed, pending editorial approval
٣١٩٢ - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى سَمَّى الْمَدِينَةَ طَابَةَ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3793
جابر بن سَمُرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کا نام طَابَہ (پاکیزہ) رکھا ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1385 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: صاحب اشعۃ اللمعات نے لکھا ہے کہ مدینہ منورہ کا نام اللہ تعالیٰ نے طابہ اس وجہ سے رکھا کہ ساکنان مدینہ پاک، شرک، کفر اور نفاق کی نجاستوں سے پاک رہتے ہیں۔ چنانچہ بعض عرفاء نے لکھا ہے کہ مدینہ پاک کے در و دیوار سے خوشبو آتی ہے، جس کو ہر صاحب ایمان سونگھ سکتا ہے البتہ ایسا شخص جس کا باطن کفر و نفاق اور دیگر خباثتوں سے ملوث ہو، وہ اس سے محروم رہتا ہے۔ کسی نے خوب فرمایا ہے: ”بِطِيبِ رَسُولِ اللّٰهِ طَابَ نَسِيمُهَا“ کہ مدینہ پاک کی آب و ہوا تاجدار مدینہ کے وجود بابرکت کی وجہ سے معطر ہے۔ 12

Hadith 3193

Volume 2

English

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that whenever the Prophet (ﷺ) returned from a journey and saw the walls of Madinah, he would hasten his mount, and if on an animal, he would make it move faster out of love for Madinah.

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۱۹۳ وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَنَظَرَ إِلَى جُدْرَانِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حَرَّكَهَا مِنْ حُبَّهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3794
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی سفر سے (مدینہ پاک) تشریف لاتے اور مدینہ پاک کے در و دیوار پر نگاہ مبارک پڑتی (اور ناقہ پر آپ ﷺ سوار ہوتے) تو ناقہ کو دوڑاتے اور (گھوڑے یا خچر ہوتے تو) اس سواری کو تیز چلاتے (اس لئے کہ آپ کو مدینہ منورہ سے محبت تھی اور آپ جلد یہیں پہنچنا چاہتے تھے)۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1886 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3194

Volume 2

English

Sahl ibn Sa'd (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Uhud is a mountain that loves us and we love it."

العربية

Typed, pending editorial approval
٣١٩٤ - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «أَحُدُ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3795
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ کوہ اُحد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4084 (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ صاحب مرقات نے فرمایا ہے کہ اُحد کی فضیلت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد اس وقت کا واقعہ ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے ہمراہ اس پر رونق افروز تھے تو کوہ اُحد خوشی کے مارے متحرک ہو گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: اے اُحد پہاڑ! تو ٹھہر جا اس وقت تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔ اھ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس دل میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت نہیں وہ پتھر سے سخت اور بدتر ہے اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پہاڑوں کو بھی شعور اور ادراک ہے۔ 12

Hadith 3195

Volume 2

English

Jarir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "Allah revealed to me to choose between these three places as my city of migration: Madinah, Bahrain or Qinnasrin."

العربية

Typed, pending editorial approval
٣١٩٥ - وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَيَّ هَؤُلَاءِ1 الثَّلَاثَةِ نَزَلْتَ فَهِيَ دَارُ هِجْرَتِكَ الْمَدِينَةَ أَوْ الْبَحْرَيْنِ أَوْ قِنَّسْرِينَ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3796
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل فرمائی (اور اختیار دیا) کہ ان تینوں شہروں میں سے آپ جس شہر کو ہجرت کے لئے منتخب فرمائیں وہی آپ کا دَارُ الْهِجْرَةِ ہوگا (وہ تین شہر یہ ہیں) ایک مدینہ پاک (دوسرے) بحرین (جو دریائے عمان میں ایک جزیرہ ہے اور آج تک اسی نام سے معروف ہے) (تیسرے قِنَّسْرِین (جو ملک شام کا ایک شہر ہے) (چنانچہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ پاک کو دار الہجرۃ منتخب فرمایا)۔ اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3923 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

To choose between these three

(1) The statement: "To choose between these three" appears problematic since it was already revealed to him in Makkah that Madinah would be his city of migration. This can be reconciled by understanding that he was first given the choice, then specifically directed to the best option. As in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱)قوله: أي هؤلاء الثلاثة إلخ وهو مشكل، فإن التي رآها - وهو بمكة - أنها دار هجرته وأمر بالهجرة إليها هي المدينة، كما في الأحاديث التي أصح من هذا، وقد يجمع بأنه أوحى إليه بالتخيير بين تلك الثلاثة، ثم عين له إحداها، وهي أفضلها. كذا في «المرقاة».

Hadith 3196

Volume 2

English

A man from the family of Al-Khattab narrated that the Prophet (ﷺ) said: "Whoever visits me intentionally, I will intercede for him on the Day of Judgment. And whoever dies in either of the two Harams (Makkah or Madinah), Allah will resurrect them among the secure on the Day of Judgment."

العربية

Typed, pending editorial approval
٣١٩٦ - وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ الْخَطَابِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «مَنْ1 زَارَنِي مُتَعَمِّدًا كَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ مَاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَيْنِ بَعَثَهُ اللهُ مِنَ الْآمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3797
امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایک صاحبزادے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص (میرے روضہ کی) زیارت کے ارادہ سے (مدینہ منورہ) حاضر ہو تو وہ قیامت کے دن میری پناہ میں ہوگا اور جو شخص مدینہ منورہ کو اپنا وطن بنالے اور وہاں کی سختیوں پر صبر کرے تو میں قیامت کے دن اس کا گواہ اور شفاعت کرنے والا ہوں گا اور جو شخص دونوں حرم یعنی مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں سے کسی ایک میں انتقال کرے تو اس کا حشر قیامت کے دن امن پانے والوں میں ہوگا۔ اس کی روایت بیہقی نے ”شعب الایمان“ میں کی ہے۔
Commentary and footnotes (2)

Note 2

Whoever visits me...

(2) The statement: "Whoever visits me..." In Fath Al-Qadir, our scholars said: "Visiting the Prophet's grave is among the most recommended voluntary acts." In Manasik Al-Farsi it states: "It is close to being obligatory for those who have the means."

Note 1

قوله

(۱) قوله : من زارني إلخ : في فتح القدير» قال مشايخنا : زيارة قبر النبي الله من أفضل المندوبات، وفي مناسك الفارسي شرح المختار: أنها قريبة من الوجوب لمن له سعة.

Hadith 3197

Volume 2

English

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated the Prophet (ﷺ) said: "Whoever performs Hajj then visits my grave after my death is like one who visited me during my life."

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۱۹۷ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) مَرْفُوعًا: «مَنْ حَجَّ فَزَارَ1 قَبْرِي بَعْدَ مَوْتِي كَانَ كَمَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي». رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3798
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص حج کرے پھر میرے بعد میری قبر کی زیارت کرے تو اس کی مثال ایسے شخص کی ہوگی جس نے میری زندگی میں میری زیارت کی۔ اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)

Note 1

Then visits my grave

(1) The statement: "Then visits my grave": The sequential conjunction indicates that visiting after Hajj is most appropriate, in line with the principle of fulfilling obligations before voluntary acts. Al-Hasan reported that Abu Hanifah gave a detailed ruling: If the Hajj is obligatory, one should perform Hajj first then visit; if begun with visiting, it is permissible. For voluntary Hajj, one may choose, though starting with Hajj is preferable - to prioritize Allah's right over the Prophet's right, just as greeting the mosque precedes visiting the Prophet's grave. As in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱)قوله: فزار قبري: الفاء التعقيبية دالة على أن الأنسب أن تكون الزيادة بعد الحج كما هو مقتضى القواعد الشرعية من تقديم الفرض على السنة، وقد روى الحسن عن أبي حنيفة تفصيلا حسنًا، وهو أنه إن كان الحج فرضا، فالأحسن للحاج أن يبدأ بالحج، ثم يثني بالزيارة، وإن بدأ بالزيارة جاز، وإن كان الحج نفلا فهو بالخيار، فيبدأ بأيهما شاء، والأظهر أن الابتداء بالحج أولى؛ لإطلاق الحديث، ولتقديم حق الله على حقه الله ، ولذا تقدم تحية المسجد النبوي على زيارة المشهد المصطفوي. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِي“ (جو شخص حج کرے، پھر میرے روضہ کی زیارت کرے) یہاں لفظ ”فَزَارَ“ میں ”ف“ ”تَعْقِیْبِیَّہ“ ہے، جس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زیارت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج کے بعد کی جائے۔ جیسا کہ قواعد شریعت کا اقتضاء ہے کہ فرض کو سنت پر مقدم کیا جائے چنانچہ ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اس بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر فرض حج کی ادائی کے لئے روانگی ہو تو بہتر یہ ہے کہ حازم حج پہلے حج کرے پھر زیارت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے قصد کرے اور اگر حج نفل ادا ہو رہا ہو تو اختیار ہے کہ حج یا زیارت میں جس سے چاہے ابتداء کرے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ ہر دو صورتوں میں جمع ہی سے ابتداء کرے۔ جیسا کہ صدر حدیث سے مطلقاً پہلے حج کرنا اور بعد میں زیارت کرنا ثابت ہوتا ہے اور یہ واضح بات بھی ہے کہ حق اللہ کو مقدم کرنا چاہئے۔ حق نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جیسا مسجد نبوی میں حاضری دی جاتی ہے تو داخل ہوتے ہی تحیۃ المسجد ادا کی جاتی ہے، پھر روضہ اقدس کے پاس حاضر ہو کر سلام عرض کیا جاتا ہے۔ (ماخوذ از: ” مرقات“)12

Hadith 3198

Volume 2

English

Yahya ibn Sa'id narrated that while the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting near a grave being dug in Madinah, a man looked into it and said: "What a terrible resting place for a believer!" The Prophet (ﷺ) said: "How terrible is what you said!" The man replied: "O Messenger of Allah, I didn't mean that. I meant dying in Allah's cause." The Prophet (ﷺ) said: "Nothing compares to dying in Allah's cause. There is no place on earth where I would prefer to be buried more than this" - meaning Madinah - which he repeated three times.

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۱۹۸ - وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ كَانَ جَالِسًا وَقَبْرُ يُحْفَرُ بِالْمَدِينَةِ، فَاطَّلَعَ رَجُلٌ فِي الْقَبْرِ، فَقَالَ: بِئْسَ مَضْجَعُ الْمُؤْمِنِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : بِئْسَ مَا قُلْتَ». قَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا [يَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّمَا أَرَدْتُ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لَا مِثْلَ لِلْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ بُقْعَةٌ1 هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَكُوْنَ قَبْرِي بِهَا مِنْهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَعْنِي الْمَدِينَةَ. رَوَاهُ مَالِكُ مُرْسَلًا.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3799
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ کے (مقبرہ میں) تشریف فرما تھے اور ایک قبر کھودی جا رہی تھی۔ ایک شخص قبر میں جھانکا اور کہا قبر مومن کی بہت بری خواب گاہ ہے (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اس سے) ارشاد فرمایا تو نے جو کہا برا کہا! اس شخص نے عرض کیا (یا رسول اللہ!) میرا منشاء یہ نہیں تھا بلکہ میرا یہ تھا کہ خدا کی راہ میں شہید ہونے سے، بہتر کوئی چیز نہیں (اور گھر میں مرنے والے مومن کی قبر اس کے لئے بری خواب گاہ ہے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا (یہ صحیح ہے) خدا کی راہ میں شہید ہونے کے برابر کوئی چیز نہیں ہے (اور یہ بھی یاد رکھو!) زمین کا کوئی حصہ مجھے اتنا محبوب نہیں کہ وہاں میری قبر ہو جتنا کہ مدینہ میں (یعنی مدینہ منورہ مجھے ساری دنیا سے زیادہ پسند ہے اور یہیں میں اپنی قبر پسند کرتا ہوں) ان الفاظ کو آپ نے تین مرتبہ فرمایا۔ اس کی روایت امام مالک نے مرسلاً کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2764 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 2764

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 2

No place on earth where I would prefer to be buried

(2) The statement: "No place on earth where I would prefer to be buried": Scholars unanimously agreed that dying in Madinah is superior after initially differing on whether residing in Makkah or Madinah is better. This shows the virtue of that sacred place, not necessarily the city's superiority. Umar (may Allah be pleased with him) would pray: "O Allah, grant me martyrdom in Your cause and let me die in the city of Your Messenger." Consensus holds that the Prophet's burial place is superior to Makkah, the Ka'bah, even the Throne. As in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: ما على الأرض بقعة أحب إلي: وقد أجمع العلماء على أن الموت بالمدينة أفضل بعد اختلافهم أن المجاورة بمكة أفضل أو بالمدينة أكمل، ولهذا كان من دعاء عمر الله: اللهم ارزقني شهادة في سبيلك واجعل موتي ببلد رسولك، وليس فيه دلالة على أفضلية المدينة، بل لأفضلية البقعة المكينة، وقد قام الإجماع على أنها أفضل من مكة، بل من الكعبة، بل من العرش الأعظم. كذا في «المرقاة».

Hadith 3199

Volume 2

English

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him) said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say in Wadi Al-Aqiq: "A messenger from my Lord came to me tonight and said: 'Pray in this blessed valley and say: Umrah in Hajj.'" In another version: "Umrah and Hajj."

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۱۹۹ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ الله: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ وَهُوَ بِوَادِي الْعَقِيقِ يَقُولُ: أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي، فَقَالَ: صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ، وَقُلْ عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ.1 وَفِي رِوَايَة: «عُمْرَةٌ وَحَجَّةٌ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3800
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وادی عقیق میں یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ آج کی رات ایک فرشتہ میرے پروردگار کی طرف سے آیا اور کہا اس مبارک وادی میں نماز پڑھئے اور یہ فرمایئے کہ یہاں نماز پڑھنے کا ثواب اس عمرہ کے ثواب کے برابر ہے جو حج کے ساتھ کیا جائے اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ یہاں نماز پڑھنے کا ثواب حج اور عمرہ دونوں کے ثواب کے برابر ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1534 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Say: Umrah in Hajj

(1) The statement: "Say: Umrah in Hajj": Its correct meaning is that the reward for praying there equals performing an Umrah within Hajj. This indicates that performing Umrah combined with Hajj (when both share one journey) is better than performing Umrah alone. Since this valley is near Madinah, it shares in Madinah's virtues. As in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: وقل: عمرة في حجة: فالصواب في معناه أن ثواب الصلاة فيه يعدل ثواب عمرة في ضمن حجة، وفيه إشارة إلى أن العمرة إذا كانت مقرونة في الحجة بأن يكون سفرها واحد أخير من العمرة المفردة، ثم لما كان هذا الوادي بقرب المدينة وما حولها يدخل في فضلها. كذا في «المرقاة».