English
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "If a servant earns wealth through haram means and gives charity from it, it will not be accepted. If he spends from it, he will not be blessed. And if he leaves it behind, it will only be a provision for him in the Fire. Indeed, Allah does not erase evil with evil but erases evil with good. Verily, filth cannot purify filth."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٢٠٦ - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ (رضي الله عنه) اعَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ قَالَ: «لَا يَكْسِبُ عَبْدُ مَالًا مِنْ حَرَامٍ فَيَتَصَدَّقُ مِنْهُ فَيُقْبَلَ مِنْهُ، وَلَا يُنْفِقَ مِنْهُ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيهِ، وَلَا يَتْرُكُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ، إِنَّ اللهَ لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ، وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ، إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الخَبِيثَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَكَذَا فِي شَرْحِ السُّنَّةِ».
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3807
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت
فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو بندہ مال حرام کمائے اور اس میں سے خیرات
کرے اور اس سے وہ خیرات قبول کرلی جائے (ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا) پھر وہ شخص اس (مال
حرام) میں سے (اپنی ذات یا اہل و عیال پر) خرچ کرے اور اس میں برکت دی جائے (ایسا ہرگز
نہیں ہوسکتا یعنی مال حرام کی نہ تو خیرات قبول ہوتی ہے اور نہ اس میں برکت دی جاتی ہے یا) پھر وہ
شخص (اپنی موت کے بعد اس مال حرام کو) اپنے بعد (وارثوں کے لئے) چھوڑ جائے تو وہ مال اس
کے لئے دوزخ کا توشہ ہی ہوگا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ برائی کو برائی کے ذریعہ دور نہیں فرماتے (یعنی
مال حرام سے گناہوں کو نہیں مٹاتے ہیں) بلکہ برائی کو بھلائی کے ذریعہ دور کرتے ہیں۔ (یعنی پاک
مال کی خیرات سے گناہ مٹتے ہیں) اس لئے کہ ناپاک مال ناپاکی کو نہیں مٹاتا۔ اس کی روایت امام
احمد نے کی ہے اور شرح السنہ میں بھی اسی طرح مروی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Musnad Ahmad 3672 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.