Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Marriage

Hadith 3220a

Chapter: Looking at the Fiancée and Explaining the Private Parts

In this book

Current reading

Marriage

Chapter: Looking at the Fiancée and Explaining the Private Parts

Zujajat al-Masabih 3220aVolume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4245Noor 4246
ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا (یہ دونوں) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھیں کہ اچانک ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم دونوں بھی نابینا ہو، کیا تم ان کو نہیں دیکھ رہی ہو۔ اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابوداود نے کی ہے۔ اور بخاری نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے آپ فرماتی ہیں کہ ایک عید کے دن حبشی لوگ ڈھال اور برچھوں سے کھیل رہے تھے (اس موقع پر) یا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خواہش ظاہر کی یا آپ نے فرمایا کہ (اس کھیل کود کو) کیا تم دیکھنا چاہتی ہو، میں نے کہا ہاں! تو آپ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کیا (اس طرح سے کہ) میرا رخسار آپ کے رخسار پر تھا اور آپ فرما رہے تھے اے بنوارفدہ (اے حبشہ والو!) تم دور رہو! یہاں تک کہ جب میں اکتا گئی تو آپ نے دریافت فرمایا کیا تمہارے لئے (اتنا تماشہ دیکھنا) کافی ہے! میں نے جواب دیا ہاں! تو آپ نے ارشاد فرمایا تو تم (گھر میں) چلی جاؤ۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4112 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2778 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 950 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

(1) The statement: Are you both blind? Do you not see him? It is said that this prohibits a woman from looking at a non-relative man absolutely. Some specified it to cases where there is fear of temptation for her, to reconcile it with Aishah’s statement: I was watching the Abyssinians playing with their spears in the mosque. The more correct view is that it is permissible for a woman to look at a man from above the navel to below the knee without desire, as evidenced by Aishah’s statement: I was watching the Abyssinians, and because women used to attend prayers with the Messenger of Allah (ﷺ) in the mosque, and their gaze would inevitably fall on men. If it were not permissible, they would not have been commanded to attend the mosque and prayer ground. Women were commanded to veil from men, but men were not commanded to veil from women. This hadith is understood in the context of piety and righteousness. This is stated in Al-Mirqat. It is said in Al-Hidayah: It is permissible for a woman to look at a man at what a man may look at of another man if she is safe from desire. If there is desire in her heart, or she believes she may desire, or she is uncertain, it is recommended for her to lower her gaze.

Note 1

قوله

(۱)قوله : أفعمياوان أنتما ؟ ألستما تبصرانه قيل فيه تحريم نظر المرأة إلى الأجنبي مطلقا، وبعض خصه بحال خوف الفتنة عليها؛ جمعا بينه وبين قول عائشة: كنت أنظر إلى الحبشة وهم يلعبون بحرابهم في المسجد، والأصح أنه يجوز نظر المرأة إلى الرجل فيما فوق السرة وتحت الركبة بلا شهوة، بدليل قول عائشة: كنت أنظر إلى الحبشة، وبدليل أنهن كن يحضرن الصلاة مع رسول الله ﷺ في المسجد، ولا بد أن يقع نظرهن إلى الرجال، فلو لم يجز لم يُؤمَرْنَ بحضور المسجد والمصلى، ولأنه أمرت أمرت النساء بالحجاب عن الرجال، الرج ولم يؤمر الرجال بالحجاب، وهذا الحديث محمول على الورع والتقوى. قاله في المرقاة»، وقال في الهداية»: ويجوز للمرأة أن تنظر من الرجل إلى ما ينظر الرجل إليه منه إذا أمنت الشهوة، فإن كان في قلبها شهوة، أو أكبر رأيها أنها تشتهي، أو شكت في ذلك، يستحب لها أن تغض بصرها.

Note 1

”بنو ارفدہ“ اہل حبشہ کا لقب ہے۔ ف: واضح ہو کہ صدر کی دونوں حدیثیں جو حضرت ام سلمہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہیں ان دونوں حدیثوں میں بظاہر تعارض معلوم ہوتا ہے کہ پہلی حدیث سے عورت کا اجنبی مرد کو دیکھنا ممنوع اور دوسری حدیث سے جائز معلوم ہوتا ہے۔ اس بارے میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ عورت مرد کے ستر کو چھوڑ کر اجنبی مرد کو بغیر شہوت کے دیکھ سکتی ہے اس کی قوی دلیل یہ ہے کہ عورتیں رسول اللہ ﷺ کے مبارک زمانہ میں نمازوں کے لئے مسجد نبوی آیا کرتی تھیں اگر یہ جائز نہ ہوتا تو عورتوں کو مسجد اور عیدگاہ میں حاضر ہونے سے روک دیا جاتا، یوں بھی عورتوں کو اجنبی مردوں سے پردہ کرنے کا حکم ہے اس کے برخلاف مردوں کو عورتوں سے پردہ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ یہ مرقات میں مذکور ہے اور ہدایہ میں لکھا ہے کہ عورت شہوت کے بغیر مرد کو ستر کے علاوہ دیکھ سکتی ہے البتہ اگر عورت کے دل میں شہوت ہے یا گمان غالب ہے یا شک ہے کہ دیکھنے سے شہوت پیدا ہوگی تو اس کیلئے مناسب یہ ہے کہ وہ اپنی نگاہ نیچی کرلے۔12