Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Marriage

Hadith 3227a

Chapter: Looking at the Fiancée and Explaining the Private Parts

In this book

Current reading

Marriage

Chapter: Looking at the Fiancée and Explaining the Private Parts

Zujajat al-Masabih 3227aVolume 2

English

Sa‘id ibn al-Musayyib (may Allah be pleased with him) narrated: Do not be deceived by the verse: except those whom their right hands possess. It refers only to female slaves and not to male slaves [Narrated by Abu Shaybah]. The Shaykh Abu Hamid interpreted the Hadith of Fatimah (may Allah be pleased with her) to mean that the slave was young, due to the use of the term "ghulam" (boy) and because it was a specific incident

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٢٢٧ - وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: لَا يَغُرَّنَكُمُ الْآيَةُ: ﴿إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ} إِنَّمَا1 عَنَى بِهِ الْإِمَاءَ وَلَمْ يَعْنِ بِهِ الْعَبِيدَ. رَوَاهُ أَبِي شَيْبَةَ. وَحَمَلَ2 الشَّيْخُ أَبُوْ حَامِدٍ حَدِيثَ فَاطِمَةَ الله عَلَى أَنَّ الْعَبْدَ كَانَ صَغِيْرُ، لِإِطْلَاقِ لَفْظِ الْغُلَامِ، وَلِأَنَّهَا وَاقِعَةُ حَالٍ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4254
سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (سورہ نور، پ:18، ع:4 کی آیت نمبر 31 کے یہ کلمات) ”أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ“ تم کو دھوکہ میں نہ ڈالیں کہ اس سے مراد کنیزیں ہیں (کہ یہ اپنی مالکہ کا بناؤ سنگار دیکھ سکتی ہیں) اور (آیت کے ان کلمات سے) مراد غلام نہیں ہیں (کیونکہ وہ اپنی مالکہ کے مواضع زینت کو نہیں دیکھ سکتے کہ ان کی حیثیت اجنبی مرد جیسی ہے)۔ اس حدیث کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے اور شیخ ابو حامد رحمۃ اللہ
[Narrated by Abu Shaybah]
Commentary and footnotes (5)

Note 1

It refers only to female slaves, etc.

(1) The statement: "It refers only to female slaves, etc." means that her male slave is like a stranger to her, because the risk of temptation from him is like that of a stranger, or even greater due to frequent interaction. The texts prohibiting this are absolute. The meaning of the verse: or those whom their right hands possess [An-Nur: 31] refers to female slaves, not male slaves, as stated by Al-Hasan and Ibn Jubayr. Thus, he may only look at her face and hands. Indeed, he may enter upon her without her permission by consensus, but he may not travel with her by consensus, as stated in "Khulasah." According to Ash-Shafi‘i and Malik, he is like her mahram. This is derived from "Ad-Durr al-Mukhtar" and "Radd al-Muhtar." In "Fatawa Qadikhan," a male slave looking at his free mistress, with no kinship between them, is like a free stranger man; looking at a free stranger woman, he may look at her face and hands but not at what a free stranger man may look at of a free stranger woman, whether he is castrated or not, if he has reached maturity.

Note 2

The Shaykh interpreted, etc.

(2) The statement: "The Shaykh interpreted, etc." is as stated in "Nayl al-Awtar"

Note 1

قوله

(۱)قوله: إنما عنى به الإماء إلخ : يعني عبدها كالأجنبي معها؛ لأن خوف الفتنة منه كالأجنبي بل أكثر؛ لكثرة الاجتماع، والنصوص المحرمة مطلقة، والمراد من قوله تعالى: ﴿أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَنُهُنَّ) (النور: (٣) الإماء دون العبيد. قاله الحسن وابن جبير فينظر لوجهها وكفيها فقط. نعم، يدخل عليها بلا إذنها إجماعًا، ولا يسافر بها إجماعا، «خلاصة»، وعند الشافعي ومالك كمحرمه، الدر المختار و رد المحتار ملتقط منهما. وفي فتاوى قاضيخان والعبد في النظر إلى مولاته الحرة التي لا قرابة بينه وبينها بمنزلة الرجل الأجنبي الحر، ينظر إلى وجهها وكفيها، ولا ينظر إلى ما ينظر الأجنبي الحر من الأجنبية الحرة، سواء كان العبد خصياً أو فحلا إذا بلغ مبلغ الرجال.

Note 2

قوله

(۲) قوله : وحمل الشيخ إلخ : كذا في نيل الأوطار».

Note 1

علیہ نے حضرت فاطمہؓ کے واقعہ والی حدیث (جس میں غلام سے پردہ نہ کرنے کا ذکر ہے) اس بات پر محمول کیا ہے کہ اس حدیث میں لفظ غلام کا ذکر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکا کم عمر یعنی نابالغ تھا اور یہ واقعہ ایک اتفاقی واقعہ تھا (جس سے مالکہ اور غلام میں بے پردگی پر دلیل نہیں لی جاسکتی)۔ ف(1): واضح ہو کہ حدیث فاطمہ سے مراد وہ حدیث ہے جس کو ابوداود نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جس میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے غلام سے پردہ فرمانے پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا غلام سے پردہ نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ صدر کی حدیث جس کے راوی حضرت سعید ابن المسیب ہیں اور یہ حدیث جس کے راوی حضرت انس ہیں دونوں میں بظاہر تعارض معلوم ہوتا ہے اس تعارض کو حافظ ابواحمد جرجانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس طرح دور فرمایا ہے کہ حضرت انس والی حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بی بی فاطمہ سے فرمایا ”ہو غلامک“ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نابالغ لڑکا تھا اس لئے بچوں سے گوشہ نہیں یا پھر یہ ایک اتفاقی واقعہ تھا جس سے غلام اور مالکہ میں بے پردگی کے ثبوت پر دلیل نہیں لی جاسکتی جیسا کہ نیل الاوطار میں صراحت ہے۔12 ف(2): صدر کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ غلام کی حیثیت مالکہ کے لئے اجنبی مرد جیسی ہے اس لئے کہ غلام گھر کے کاموں کے لئے کثرت سے گھر میں آیا جایا کرتا ہے اور اسی وجہ سے فتنہ کا اندیشہ رہتا ہے اسی لئے اس کا حکم مالکہ کے لئے اجنبی مرد کا ہے جیسا کہ حضرت حسن بصری اور حضرت ابن جبیر رحمہما اللہ نے فرمایا ہے البتہ ضرورۃً مالکہ کے چہرے اور ہاتھوں پر اس کی نظر پڑ جائے تو کوئی حرج نہیں اور ضرورۃً وہ گھر میں بغیر اجازت کے داخل ہوسکتا ہے البتہ مالکہ کے ساتھ سفر نہیں کرسکتا۔ یہ خلاصہ میں مذکور ہے اور امام شافعی اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہما نے فرمایا ہے کہ غلام کی حیثیت مالکہ کے لئے محرم جیسی ہے۔12(ماخوذ از درمختار وردالمحتار)۔