Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: A man came to the Prophet (ﷺ) and said: I have married a woman from the Ansar. He said: Look at her, for there is something in the eyes of the Ansar .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کئے کہ میں ایک انصاری خاتون سے شادی
کا ارادہ رکھتا ہوں (یہ سن کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اس کو دیکھ لو کیونکہ انصار کی
آنکھوں میں کچھ خلل ہوتا ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
And the statement of Allah, the Mighty and Sublime: Marry those that please you of women (An-Nisa: 3), and His statement, the Exalted: O Prophet, say to your wives and your daughters and the women of the believers to bring down over themselves [part] of their outer garments. That is more suitable that they will be known and not be abused (Al-Ahzab: 59), and His statement, the Exalted: Or those whom their right hands possess (An-Nur: 31).
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1424a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: Look at her, etc. Scholars have differed regarding the permissibility of looking at a woman one intends to marry. Al-Awza‘i, Ath-Thawri, Abu Hanifah, Ash-Shafi‘i, Ahmad, and Ishaq permitted it absolutely, whether the woman consented or not, based on the hadiths of Jabir and Al-Mughirah. Malik permitted it with her consent, and it is narrated from him that he prohibited it absolutely. If a woman were sent to describe her, it would be more in line with avoiding disagreement. Al-Mirqat and Al-Luma‘at are sourced from this. It is said in Ad-Durr Al-Mukhtar: It is recommended to look at her beforehand.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فانظر إليها إلخ وللعلماء خلاف في جواز النظر إلى المرأة التي يريد أن يتزوجها، فجوزه الأوزاعي والثوري وأبو حنيفة والشافعي وأحمد وإسحاق مطلقا، أذنت المرأة أم لم تأذن لحديثي جابر واللمغيرة، وجوزه مالك بإذنها، وروى عنه المنع مطلقا، ولو بعث امرأة نصفها له لكان أدخل في الخروج عن الخلاف. «المرقاة» و«اللمعات» ملتقط منهما، وقال في الدر المختار: ويندب النظر إليها قبله.
Note 1
ف: واضح ہو کہ علماء میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ جس عورت سے شادی کا ارادہ ہو اس کو دیکھنا جائز ہے
چنانچہ امام اوزاعی، امام سفیان ثوری، امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام احمد اور امام اسحاق رحمہم اللہ نے حضرت جابر اور
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی بناء پر مطلقاً ایسی عورت کے دیکھنے کو جس سے شادی کا ارادہ ہو جائز قرار دیا خواہ
وہ عورت اجازت دے یا نہ دے البتہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے عورت کی اجازت سے دیکھنے کو جائز قرار دیا ہے
۔ ایک دوسری روایت میں امام مالک سے مطلقاً منع بھی مروی ہے، ان اختلافات سے بچنے کی بہتر صورت یہ ہے کہ کسی
عورت کو اگر بھیج دیں جو واپس آ کر اس عورت کا حال بیان کر دے تو مناسب ہے۔
یہ مضمون مرقات اور لمعات سے ماخوذ ہے، البتہ رد مختار میں لکھا ہے کہ شادی سے پہلے عورت کو دیکھ لیا
جا سکتا ہے۔12
صاحب مرقات نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر لڑکی پسند نہ ہو تو جن حضرات نے پیام بھیجا تھا ان کے اپنے
اعتبار سے ناپسند ہونے کو شہرت نہ دیں تاکہ لڑکے اور لڑکی والوں کو ایذا نہ پہنچے۔12
Al-Mughirah ibn Shu‘bah (may Allah be pleased with him) narrated: I proposed to a woman, and the Messenger of Allah (ﷺ) said to me: Have you looked at her? I said: No. He said: Then look at her, for it is more likely to foster harmony between you .
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں ایک عورت کو
پیام شادی بھیجا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا تم نے اس کو دیکھ لیا
ہے میں نے عرض کیا نہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اس کو دیکھ لو کیونکہ یہ چیز
تمہارے درمیان میں محبت اور موافقت کا بہترین سبب بنے گی۔
اس کی روایت امام احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: When one of you proposes to a woman, if he is able to look at what would encourage him to marry her, let him do so .
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو شادی کا پیام بھیجے اور اگر وہ کسی ایسی بات کو
دیکھ سکتا ہے جو اس میں نکاح کی رغبت پیدا کرے تو وہ ایسا کر لے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ کوئی شادی کا پیام بھیجتا ہو تو شادی کے داعیات یعنی مرغوبات کو دیکھ
لے۔ اس ارشاد سے یہ مراد ہے کہ وہ سارے امور اور مناسبات جو شادی کے سلسلہ میں ضروری ہو سکتے ہیں ان پر غور کر
لے مثلاً مال، خاندان، جمال اور دینداری ان ساری چیزوں کا لحاظ کرے تا کہ بعد میں کسی وجہ سے رشتہ غیر مناسب
معلوم ہو تو ندامت اٹھانی نہ پڑے۔
Ibn Mas‘ud (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: A woman should not touch another woman to describe her to her husband as if he were looking at her .
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا ہے کہ کوئی عورت کسی عورت سے مباشرت نہ کرے یعنی اپنے بدن کو اس کے بدن سے نہ
ملائے پھر اس عورت کا حال اپنے شوہر سے اس انداز سے بیان کرے گویا کہ وہ اس (اجنبی
عورت) کو دیکھ رہا ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 5240 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
To describe her to her husband as if he were looking at her. In Sharh Al-Akmal
(1) The statement: To describe her to her husband as if he were looking at her. In Sharh Al-Akmal: Jurists have used this hadith as evidence for the permissibility of forward sales in animals, as it indicates that describing something makes it as if it were seen. Thus, it is something whose characteristics can be precisely defined and its quantity known, like something tangible and observed at the time of sale. Whatever can have its characteristics precisely defined and its quantity known is permissible for forward sale by consensus. I say: The Prophet’s (ﷺ) statements indicate that describing something makes it as if it were seen in what is observed, as evidenced by his saying: As if he were looking at her. The prohibition of forward sales in animals according to Abu Hanifah is not from this perspective, but because animals include internal characteristics that cannot be known by looking at them. Thus, it is something whose characteristics cannot be precisely defined, and what cannot have its characteristics precisely defined is not permissible for forward sale. This is stated in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(۱)قوله: فتنعتها لزوجها كأنه ينظر إليها في شرح الأكمل: قد استدل الفقهاء بهذا الحديث على جواز السلم في الحيوان؛ لأنه أخبر أن وصف الشيء يجعله كالمعاينة، فكان مما يمكن ضبط صفته ومعرفة مقداره كالمحسوس المشاهد حال البيع، وما أمكن ضبط صفته ومعرفة مقداره جاز السلم فيه بالاتفاق. وأقول: إن أخبار النبي ﷺ يَدُلُّ على أن وصف الشيء يجعله كالمعاينة فيما هو منظور بدليل قوله: كأنه ينظر إليها، وعدم جواز السلم في الحيوان عند أبي حنيفة ليس من تلك الجهة، بل من حيث إن الحيوان يشتمل على أوصاف باطنية، لا يطلع عليها بالنظر إليه، فكان مما لا يمكن ضبط صفته، وما لا يمكن ضبط صفته لا يجوز السلم فيه. قاله في «المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک عورت دوسری عورت کے بدن سے لپٹنے اور چپٹنے کی وجہ
سے وہ اس عورت کے جسمانی کیفیات بیان کرنے کے قابل ہو جاتی ہے خصوصاً شادی شدہ عورت اگر ایسا کرے اور
اپنے شوہر سے اس عورت کے جسمانی کیفیات کو بیان کرے تو اس کا ایسا بیان شوہر کے لئے اس اجنبی عورت کو دیکھ لینے
کے برابر ہے جس سے اندیشہ ہے کہ شوہر اس اجنبی کی طرف مائل ہو جائے۔ اسی وجہ سے حدیث شریف میں ایسے کام
سے منع فرمایا گیا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ شریعت میں اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی اور سفر ممنوع ہے۔12
Abu Sa‘id (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: A man should not look at the private parts of another man, nor a woman at the private parts of another woman. A man should not lie with another man under one cloth, nor a woman with another woman under one cloth .
ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ (ایک) مرد دوسرے مرد کے ستر کو نہ دیکھے اور نہ کوئی عورت کسی
عورت کے ستر کو دیکھے اور کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ برہنہ ہو کر ایک ہی چادر میں نہ لیٹے اور ایک
عورت دوسری عورت کے ساتھ برہنہ ہو کر ایک چادر میں نہ لیٹے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 338a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ مرد کا ستر ناف سے لے کر گھٹنے سمیت ہے خواہ نماز میں ہوں یا غیر نماز کی حالت میں اور حرہ عورت کا
ستر پورا جسم ہے جس میں سر کے بال اور چوٹی بھی داخل ہے بجز چہرے، ہتھیلیاں اور پیر کے اور باندی کا ستر مرد کے ستر کے
برابر ہے البتہ اس کا پیٹ اور پیٹھ بھی ستر میں داخل ہے۔ اھ
فتاویٰ عالمگیری، مرقات میں امام نووی رحمہ اللہ کا یہ قول مذکور ہے کہ مرد کا اجنبی عورت کے جسم کے کسی حصہ کو
دیکھنا، اور عورت کا مرد کو دیکھنا شہوت کے ساتھ ہو یا بغیر شہوت کے، اور مرد یعنی بالغ بے ریش لڑکا جو خوبصورت ہو اس کو
دیکھنا یہ ساری چیزیں حرام ہیں اھ۔ اسی طرح فحش تصاویر کو دیکھنا بھی حرام ہے۔12
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Let no man spend the night with a previously married woman unless he is married to her or is her unmarriageable kin .
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ہے خبردار، ہرگز کوئی مرد کسی ثیبہ عورت یعنی بیوہ یا مطلقہ عورت کے ساتھ رات نہ
گزارے مگر یہ کہ اس کا شوہر ہو یا محرم ہو۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2171 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اجنبی عورت کے پاس کسی مرد کا رہنا اور خلوت کرنا حرام ہے خواہ رات ہو یا دن اور خواہ عورت
کنواری ہو یا بیاہی یا بیوہ، عورت کا اپنے خاوند یا محرم کے سوا کسی کے ساتھ تنہا ہونا اس لئے حرام ہے کہ اس میں بڑے
بڑے فساد واقع ہونے کا اندیشہ ہے محرم وہ مرد ہے جس کے ساتھ اس عورت کا نکاح کبھی بھی درست نہ ہو جیسے باپ،
بھائی، حقیقی یا رضاعی، چچا، بھتیجا، بھانجا، بیٹا، نواسا اور پوتا۔ (حاشیہ مشکوٰۃ12)
امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان فرماتے ہیں کہ جب کبھی کوئی مرد کسی اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں
رہتا ہے تو ان دونوں کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے (کہ وہ شہوت ابھار کر دونوں کو زنا میں مبتلا
کر دیتا ہے)۔
اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (ﷺ): Do not visit women whose husbands are absent, for the devil runs through one of you like the blood. We said: And you? He said: And me, but Allah has helped me against him, so I am safe .
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت
بیان کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا وہ عورتیں جن کے خاوند غائب ہوں ان کے پاس تم نہ جایا
کرو اس لئے کہ شیطان (کا وسوسہ اور مکر و فریب) تم میں خون کی طرح جاری و ساری رہتا ہے۔ ہم
نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے؟ آپ نے ارشاد
فرمایا (ہاں!) میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے میری اس کی خلاف مدد فرمائی تو وہ
(میرا) مطیع ہو گیا (اس لئے میں اس کے شر سے بچا رہتا ہوں)۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1172 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ ساری نامحرم عورتوں سے تنہائی اور خلوت ناجائز ہے اور حدیث شریف میں ان عورتوں کے
ساتھ جن کے شوہر غائب ہوں۔ یعنی خصوصی طور پر ذکر فرما دیا گیا کہ وہ صحبت کی مشتاق ہوتی ہیں اور یہیں فتنہ کا زیادہ
اندیشہ رہتا ہے (حاشیہ مشکاۃ)12
Uqbah ibn Amir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Beware of entering upon women. A man said: O Messenger of Allah, what about the in-law? He said: The in-law is death .
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ عورتوں کے پاس (بے تکلفی سے) آیا جایا نہ کرو ایک صاحب
نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیٹھ اور دیور کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر) فرمایا دیور اور جیٹھ تو موت ہے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 5232 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2172a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ خاوند کے رشتہ داروں کو جیسے دیور جیٹھ کو خلوت میں عورت کے
پاس رہنا اور پردہ کے بغیر آنا جانا درست نہیں۔ (حاشیہ مشکاۃ)12
Jabir (No Allah be pleased with him) narrated that Umm Salamah sought permission from the Messenger of Allah (ﷺ) for cupping, and he ordered Abu Taibah to perform cupping on her. He said: I think he was her foster brother or a boy who had not reached puberty .
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سینگھی پچھوانے (یعنی فاسد یا زائد خون کو نکلوانے) کی اجازت
چاہی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو طیبہ کو حکم دیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو سینگھی لگائیں
حضرت جابر فرماتے ہیں میرا گمان ہے کہ ابو طیبہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ
لڑکے تھے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2206 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
He ordered Abu Taibah to perform cupping on her. For this reason, it is said in Al-Hidayah
(1) The statement: He ordered Abu Taibah to perform cupping on her. For this reason, it is said in Al-Hidayah: It is permissible for a doctor to look at the affected area of her body out of necessity, but it is preferable to teach a woman to treat her. If they cannot, every part of her body should be covered except the affected area. (2) The statement: I think, etc. This is Jabir’s statement, indicating that the need was not absolutely necessary; otherwise, it would be permissible for a non-relative to look at her entire body for treatment. This is stated by At-Tayyibi.
Note 1
قوله
(۱)قوله: فأمر أبا طيبة أن يحجمها : لذلك قال في «الهداية»: ويجوز للطبيب أن ينظر إلى موضع المرض منها للضرورة، وينبغي أن يعلم امرأة مداواتها، فإن لم يقدروا يستر كل عضو منها سوى موضع المرض.
Note 2
قوله
(۲) قوله : حسبت إلخ : هذا قول جابر يدل على أن الحاجة لم تكن ضرورية، وإلا يجوز للأجنبي أن ينظر إلى جميع بدنها للعلاج. قاله الطيبي.
Note 1
ف: علامہ طیبی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ علاج کے لئے عورت کے سارے بدن کو دیکھنا جائز ہے جیسے قاضی اور گواہ
کو عورت کا دیکھنا درست ہے اسی طرح طبیب کو اس مقام کا دیکھنا درست ہے جہاں علاج کے لئے دیکھنے کی ضرورت
ہو۔ ہدایہ میں بھی یہی مذکور ہے اور ہدایہ میں یہ بھی لکھا ہے کسی عورت کو اس بات کی تعلیم دینی چاہئے کہ وہ عورتوں کے
علاج کے قابل بن جائے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو عورت کے دوسرے غیر متعلق اعضاء کو چھپا کر مرض کی جگہ طبیب کو دکھائی
جا سکتی ہے اہ اور مرقات میں یہ بھی صراحت مذکور ہے کہ نامحرم ضرورت پر فصد کھول سکتا ہے، سینگھی لگا سکتا ہے اور حقنہ
بھی کر سکتا ہے۔12
Jarir ibn Abdullah (may Allah be pleased with them) narrated: I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about an accidental glance, and he ordered me to avert my gaze .
جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم سے (اجنبی عورت پر) اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے
مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نگاہ کو پھیر لوں۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Buraidah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said to Ali: Do not follow one glance with another. The first is for you, but the second is not .
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا: اے علیؓ (بغیر قصد کے کسی اجنبی عورت پر تمہاری نظر پڑ جائے
تو پہلی) نظر کے بعد (دوبارہ پھر) نظر مت ڈالو، کیونکہ پہلی (بار نظر) تمہارے لئے معاف ہے
لیکن دوسری نظر معاف نہیں۔ اس کی روایت امام احمد، ترمذی، ابوداود اور دارمی نے کی ہے۔
Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (ﷺ): No Muslim looks at the charms of a woman the first time and then lowers his gaze except that Allah grants him worship, the sweetness of which he finds .
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کی نظر (اچانک) پہلی بار کسی حسین
عورت پر پڑ جائے پھر وہ اپنی نگاہ کو نیچی کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک نئی عبادت (کی توفیق) عطا
فرمائیں گے جس کی وہ حلاوت پائے گا۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں کسی حسین عورت پر بلا قصد نظر پڑ جانے اور ایسا شخص اپنی نظر کو نیچی کر لے تو اللہ
تعالیٰ اس کی جزاء میں اس شخص کو ایک نئی عبادت کی توفیق عطا فرماتے ہیں اور اس شخص کو اس عبادت کی حلاوت بھی
نصیب ہوتی ہے۔ یہ حقیقت میں یہ بدلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کا اور اس تجلی پر صبر کرنے، اور اس لذت سے منہ
موڑنے کا جو اس عورت کو دیکھنے سے حاصل ہو رہی تھی چنانچہ اس کا ارشاد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک
ارشاد میں فرمایا: ”قُرَّةُ عَيْنِي فِى الصَّلٰوةِ“، یعنی میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز ہے۔
(مرقات)12
Al-Hasan narrated without a chain: It reached me that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah has cursed the one who looks and the one who is looked at .
حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے مرسلاً مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ
روایت پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی
ہے۔ تاکنے والے اور تکے جانے والی پر۔
اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ عورت (تمام تر) ستر ہے (اس کو پردہ میں اور
حجاب میں رہنا چاہئے) جب وہ (بغیر حجاب کے) باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کے حسن کو دوبالا کر کے
دکھاتا ہے (جس سے فتنہ کا اندیشہ ہوتا ہے)۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: A woman approaches in the form of a devil and departs in the form of a devil. If one of you is impressed by a woman and she affects his heart, let him go to his wife and be intimate with her, for that will repel what is in his soul .
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا ہے کہ عورت شیطان کی صورت میں آتی ہے اور شیطان کی صورت میں جاتی ہے
(کیونکہ عورت کو دیکھنے سے جماع کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور یہ شیطان کا اثر ہے) (اس لئے) تم
میں سے کسی کو کوئی (اجنبی) عورت اچھی معلوم ہو اور اس کے دل میں (اس کی محبت یا شہوت) بیٹھ
جائے تو ایسے شخص کو چاہئے کہ اپنی بیوی (کی طرف قصد کرے اور اس سے صحبت کرے اس لئے کہ
اس سے اس کے دل میں جو چیز بیٹھ گئی ہے (یعنی جماع کی خواہش) نکل جائے گی۔ اس کی روایت
مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1403a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اجنبی عورت کی اگر دل میں محبت بیٹھ جائے تو اس کا کامل علاج یہی ہے کہ اپنی بیوی سے صحبت
کر لے اس سے اجنبی عورت کا خیال رفع ہو جاتا ہے اور اگر کوئی شخص بیوی نہ رکھتا ہو تو اس کو چاہئے کہ استغفار کرے
(ماخوذ از مرقات)۔
Ibn Mas‘ud (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) saw a woman who impressed him, so he went to Sawdah while she was making perfume, and there were women with her who left. He fulfilled his need, then said: If any man sees a woman who impresses him, let him go to his wife, for she has the same as she has .
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کی ایک عورت پر نظر پڑ گئی اور وہ اچھی معلوم ہوئی تو آپ ام المؤمنین سودہ رضی اللہ
عنہا کے پاس تشریف لائے اور وہ (اس وقت) خوشبو تیار کر رہی تھیں اور ان کے پاس چند عورتیں
بھی تھیں (آپ کی آمد پر) وہ عورتیں چلی گئیں تو آپ نے حضرت سودہ سے اپنی حاجت پوری
فرمائی (یعنی صحبت فرمایا) پھر آپ نے ارشاد فرمایا کسی شخص کی کسی عورت پر نظر پڑ جائے اور وہ
عورت اس کو پسند آئے تو وہ اپنی بیوی سے صحبت کرلے کیونکہ اس کی بیوی کے پاس وہی چیز ہے جو
اس عورت کے پاس ہے۔ اس کی روایت دارمی نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک اجنبی عورت خوش لگی۔ یہ بات بر بنائے
مقتضا طبیعت تھا جو انسان کی بشریت ہے اور حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ کی یہ پہلی نظر تھی جو اچانک پڑ گئی اور
یہ معاف ہے اور اس عورت پر آپ کی نظر پڑ جانا ایک شرعی حکم کا سبب بنا جیسے نماز میں آپ سے سہو کا ہو جانا، یہ اس لئے
تھا کہ امت کے لئے ایک راہ نکالی جائے، چنانچہ سہو کے بارے میں آپ نے ارشاد فرمایا ہے میں بھولتا ہوں یا بھلایا
جاتا ہوں تاکہ اپنی امت کے لئے ایک راہ پیدا کروں اور عام لوگوں کا بھولنا شیطان کے غلبہ سے ہوتا ہے کہ شیطان ان
کو خدا سے غافل کر دیتا ہے اس کے برخلاف حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ پر شیطان کا کچھ اثر نہ تھا، اس لئے اللہ
تعالیٰ کا آپ پر بھول کا طاری فرمانا اس میں حکمت یہ تھی کہ امت کو سہو کے مسائل معلوم ہو جائیں آپ کو بھول نہ ہوتی تو
امت کو سہو کے مسائل معلوم نہ ہوتے اور امت کے لئے یہ راہ نہ کھلتی۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات، حاشیہ مشکوٰۃ12)
Amr ibn Shu‘aib, from his father, from his grandfather (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (ﷺ): If one of you marries his slave to his female slave, he should not look at her private parts [Narrated by Abu Dawud]. In a narration by Ad-Daraqutni from him, the Prophet (ﷺ) said: If one of you marries his female slave to his slave or his hired man, he should not look at what is below the navel and above the knee, for what is below the navel to the knee is the private part. In another narration by him from Ali, the Prophet (ﷺ) said: The knee is part of the private part. Abdul-Razzaq narrated from Anas that Umar struck a female slave of Anas’s family when he saw her veiled, saying: Uncover your head; do not resemble free women.
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت
کرتے ہیں ان کے دادا (حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ) حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اپنے غلام کا نکاح اپنی
باندی سے کر دے تو اپنی باندی کے ستر کو نہ دیکھے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
اور دارقطنی کی ایک روایت میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے
مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اپنی باندی کا
نکاح اپنے غلام یا اپنے خادم سے کر دے تو اس باندی کی ناف سے لے کر گھٹنے تک کے اعضاء کو نہ
دیکھے اس لئے کہ ناف سے لے کر گھٹنے تک ستر (میں داخل) ہے۔
اور دارقطنی کی ایک اور روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ گھٹنے تک بشمول پستان کے ستر (میں داخل) ہے۔
اور عبدالرزاق نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت
عمر رضی اللہ عنہ نے آل انس رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی کو گھونگھٹ ڈالے ہوئے دیکھا تو اس کو مارا
اور فرمایا اپنے سر کو کھول دے اور حرہ عورتوں سے اپنے کو مشابہ نہ کر۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 4113 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Uncover your head, etc. For these hadiths, it is said in Al-Hidayah
(1) The statement: Uncover your head, etc. For these hadiths, it is said in Al-Hidayah: According to us, the navel is not part of the private part, contrary to what Ash-Shafi‘i says. The knee is part of the private part, also contrary to him. It is mentioned in Kitab Ar-Rahmah fi Ikhtilaf Al-Ummah: They agreed that the navel of a man is not a private part. As for the knee, Malik, Ash-Shafi‘i, and Ahmad said it is not part of the private part, while Abu Hanifah and some of Ash-Shafi‘i’s companions said it is. As for the private part of a female slave, Malik and Ash-Shafi‘i said it is like that of a man, while Abu Hanifah added her belly and back. End of quote. For this narration.
Note 1
قوله
(۱)قوله : اكشفي رأسك إلخ ولهذه الأحاديث قال في «الهداية»: أن السرة عندنا ليست من العورة، خلافا لما يقوله الشافعي : والركبة من العورة خلافًا له أيضًا، وذكر في كتاب الرحمة في اختلاف الأمة»: اتفقوا على أن السرة من الرجل ليست بعورة، وأما الركبة فقال مالك والشافعي وأحمد ليست من العورة، وقال أبو حنيفة من وبعض أصحاب الشافعي: إنها منها. وأما عورة الأمة فقال مالك والشافعي: هي كعورة الرجل، زاد أبو حنيفة بطنها و ظهرها، انتهى. لهذا الأثر.
Umm Salamah (may Allah be pleased with them) narrated: She was with the Messenger of Allah (ﷺ) and Maymunah when Ibn Umm Maktum approached and entered upon him. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Veil yourselves from him. I said: O Messenger of Allah, is he not blind and unable to see us? The Messenger of Allah (ﷺ) said: Are you both blind? Do you not see him? [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, and Abu Dawud]. Bukhari narrated from Aishah (may Allah be pleased with her): It was a festival day, and the Abyssinians were playing with shields and spears. Either I asked the Messenger of Allah (ﷺ), or he said: Would you like to watch? She said: Yes. He stood me behind him, my cheek against his cheek, and he said: Go on, Banu Arfidah, until I grew tired. He said: Is that enough? I said: Yes. He said: Then go.
ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ام المومنین میمونہ رضی
اللہ عنہا (یہ دونوں) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھیں کہ اچانک ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ
تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم دونوں بھی نابینا ہو، کیا تم ان کو
نہیں دیکھ رہی ہو۔ اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابوداود نے کی ہے۔
اور بخاری نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے
آپ فرماتی ہیں کہ ایک عید کے دن حبشی لوگ ڈھال اور برچھوں سے کھیل رہے تھے (اس موقع پر)
یا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خواہش ظاہر کی یا آپ نے فرمایا کہ (اس کھیل کود
کو) کیا تم دیکھنا چاہتی ہو، میں نے کہا ہاں! تو آپ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کیا (اس طرح سے
کہ) میرا رخسار آپ کے رخسار پر تھا اور آپ فرما رہے تھے اے بنوارفدہ (اے حبشہ والو!) تم دور
رہو! یہاں تک کہ جب میں اکتا گئی تو آپ نے دریافت فرمایا کیا تمہارے لئے (اتنا تماشہ دیکھنا)
کافی ہے! میں نے جواب دیا ہاں! تو آپ نے ارشاد فرمایا تو تم (گھر میں) چلی جاؤ۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 4112 (unverified) 99% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 2778 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 950 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: Are you both blind? Do you not see him? It is said that this prohibits a woman from looking at a non-relative man absolutely. Some specified it to cases where there is fear of temptation for her, to reconcile it with Aishah’s statement: I was watching the Abyssinians playing with their spears in the mosque. The more correct view is that it is permissible for a woman to look at a man from above the navel to below the knee without desire, as evidenced by Aishah’s statement: I was watching the Abyssinians, and because women used to attend prayers with the Messenger of Allah (ﷺ) in the mosque, and their gaze would inevitably fall on men. If it were not permissible, they would not have been commanded to attend the mosque and prayer ground. Women were commanded to veil from men, but men were not commanded to veil from women. This hadith is understood in the context of piety and righteousness. This is stated in Al-Mirqat. It is said in Al-Hidayah: It is permissible for a woman to look at a man at what a man may look at of another man if she is safe from desire. If there is desire in her heart, or she believes she may desire, or she is uncertain, it is recommended for her to lower her gaze.
Note 1
قوله
(۱)قوله : أفعمياوان أنتما ؟ ألستما تبصرانه قيل فيه تحريم نظر المرأة إلى الأجنبي مطلقا، وبعض خصه بحال خوف الفتنة عليها؛ جمعا بينه وبين قول عائشة: كنت أنظر إلى الحبشة وهم يلعبون بحرابهم في المسجد، والأصح أنه يجوز نظر المرأة إلى الرجل فيما فوق السرة وتحت الركبة بلا شهوة، بدليل قول عائشة: كنت أنظر إلى الحبشة، وبدليل أنهن كن يحضرن الصلاة مع رسول الله ﷺ في المسجد، ولا بد أن يقع نظرهن إلى الرجال، فلو لم يجز لم يُؤمَرْنَ بحضور المسجد والمصلى، ولأنه أمرت أمرت النساء بالحجاب عن الرجال، الرج ولم يؤمر الرجال بالحجاب، وهذا الحديث محمول على الورع والتقوى. قاله في المرقاة»، وقال في الهداية»: ويجوز للمرأة أن تنظر من الرجل إلى ما ينظر الرجل إليه منه إذا أمنت الشهوة، فإن كان في قلبها شهوة، أو أكبر رأيها أنها تشتهي، أو شكت في ذلك، يستحب لها أن تغض بصرها.
Note 1
”بنو ارفدہ“ اہل حبشہ کا لقب ہے۔
ف: واضح ہو کہ صدر کی دونوں حدیثیں جو حضرت ام سلمہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہیں ان
دونوں حدیثوں میں بظاہر تعارض معلوم ہوتا ہے کہ پہلی حدیث سے عورت کا اجنبی مرد کو دیکھنا ممنوع اور دوسری حدیث
سے جائز معلوم ہوتا ہے۔ اس بارے میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ عورت مرد کے ستر کو چھوڑ کر اجنبی مرد کو بغیر شہوت کے
دیکھ سکتی ہے اس کی قوی دلیل یہ ہے کہ عورتیں رسول اللہ ﷺ کے مبارک زمانہ میں نمازوں کے لئے مسجد نبوی آیا کرتی
تھیں اگر یہ جائز نہ ہوتا تو عورتوں کو مسجد اور عیدگاہ میں حاضر ہونے سے روک دیا جاتا، یوں بھی عورتوں کو اجنبی مردوں
سے پردہ کرنے کا حکم ہے اس کے برخلاف مردوں کو عورتوں سے پردہ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ یہ مرقات میں مذکور ہے
اور ہدایہ میں لکھا ہے کہ عورت شہوت کے بغیر مرد کو ستر کے علاوہ دیکھ سکتی ہے البتہ اگر عورت کے دل میں شہوت ہے یا
گمان غالب ہے یا شک ہے کہ دیکھنے سے شہوت پیدا ہوگی تو اس کیلئے مناسب یہ ہے کہ وہ اپنی نگاہ نیچی کرلے۔12
جرہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم نہیں جانتے ہو کہ ران ستر (میں داخل) ہے۔ اس کی روایت ترمذی
اور ابوداود نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
The thigh is a private part. It is said in Ad-Durr Al-Mukhtar
(1) The statement: The thigh is a private part. It is said in Ad-Durr Al-Mukhtar: The private part for a man is from below the navel to below the knee, and Ahmad stipulated covering one shoulder as well. According to Malik, it is only the private parts (front and back). End of quote. It is said in Sharh An-Nuqayah: Malik limited the private part to the two private areas, and his evidence is mentioned, supporting the majority’s view with the statement: The thigh is a private part, and Do not expose your thigh, etc.
Note 1
قوله
(۱) قوله: الفخذ عورة وقال في الدر المختار العورة للرجل ما تحت سرته إلى ما تحت ركبته وشرط أحمد ستر أحد منكبيه أيضًا، وعن مالك هي القبل والدبر فقط، انتهى. وقال في شرح النقاية وقصر مالك العورة على السوأتين، وهما القبل والدبر، ودليله مذكر فيه مما يؤيد الجمهور قوله : الفخذ عورة، وقوله : ولا تبرز فخذك إلخ.
Muhammad ibn Hajsh (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) passed by Ma‘mar while his thighs were exposed. He said: O Ma‘mar, cover your thighs, for the thighs are a private part .
محمد بن جحش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم مَعْمَر رضی اللہ عنہ پر سے گزرے جب کہ ان کی دونوں رانیں کھلی ہوئی تھیں (یہ دیکھ
کر) آپ نے فرمایا اے مَعْمَر! تم اپنی دونوں رانوں کو ڈھانک لو اس لئے کہ دونوں رانیں ستر (میں
داخل) ہیں۔ اس کی روایت بغوی نے شرح السنۃ میں کی ہے۔
Ali (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: O Ali, do not expose your thigh, and do not look at the thigh of a living or dead person .
امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے علی! تم اپنی ران کو مت ظاہر کرو اور نہ کسی زندہ کی ران کو دیکھو اور نہ کسی
مردہ کی۔ اس کی روایت ابوداود اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Beware of being naked, for there are with you those who do not part from you except at the toilet or when a man is intimate with his wife. So be shy of them and honor them .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم برہنہ ہونے سے بچو اس لئے کہ تمہارے ساتھ وہ (یعنی کراماً
کاتبین اور حفاظت کرنے والے فرشتے) ہیں جو تم سے جدا نہیں ہوتے مگر رفع حاجت کے وقت یا
اس وقت جب آدمی اپنی بیوی سے صحبت کرتا ہو تو تم ان سے شرم و حیاء کرو اور ان کی تعظیم کیا کرو
(یعنی بلا ضرورت ستر کو مت کھولو)۔ اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 2800 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: Beware of being naked, etc. Ibn Al-Malak said this indicates that it is not permissible to uncover the private part except out of necessity, such as relieving oneself, intimacy, or similar purposes. This is stated in Al-Mirqat. It is said in Ad-Durr Al-Mukhtar: The fourth condition is covering the private part, and its obligation is general, i.e., in prayer and outside it, even in seclusion, according to the correct view, except for a valid purpose such as defecation, purification, or intimacy.
Note 1
قوله
(۱)قوله: إياكم والتعري إلخ قال ابن الملك فيه أنه لا يجوز كشف العورة إلا عند الضرورة كقضاء الحاجة والمجامعة وغير ذلك. قاله في المرقاة». وقال في الدر المختار والرابع: ستر عورته، ووجوبه عام أي في الصلاة وخارجها، ولو في الخلوة على الصحيح إلا لغرض صحيح كتغوط واستنجاء ومجامعة.
Bahz ibn Hakim, from his father, from his grandfather (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Guard your private parts except from your wife or what your right hand possesses. I said: O Messenger of Allah, what if a man is alone? He said: Allah is more deserving of your shyness [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah]. In a narration by Ibn Majah from Aishah, she said: I never looked at or saw the private part of the Messenger of Allah (ﷺ) ever.
بہز بن حکیم رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت
کرتے ہیں کہ (ان کے دادا نے) کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنی شرمگاہ
کو سوائے بیوی اور باندی کے سب سے پوشیدہ رکھو۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم! جب آدمی تنہا ہو اس صورت میں آپ کا کیا ارشاد ہے؟ (یہ سن کر) آپ نے جواب دیا کہ اللہ
تعالیٰ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ ان سے شرم کی جائے۔
اس کی روایت ترمذی، ابوداود اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے
مروی ہے آپ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شرمگاہ کو کبھی نہیں دیکھا نہ
کبھی میری نگاہ آپ کی شرمگاہ پر پڑی۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 4017 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 1920 (unverified) 98% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 2794 (unverified) 95% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 1922 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) The statement: Except from your wife or what your right hand possesses. This indicates that ownership and marriage permit looking at the private parts from both sides. This is stated in Al-Mirqat. It is said in Ad-Durr Al-Mukhtar: A man may look at the private part of his wife or his permissible female slave with or without desire, but it is preferable to avoid it, as it causes forgetfulness. End of quote. It is said in Radd Al-Muhtar: It is said in Al-Hidayah: It is preferable that neither of them looks at the private part of the other, based on the statement: When one of you approaches his wife, let him cover as much as he can and not be completely naked like a donkey. This is because it causes forgetfulness, as it has been narrated. Ibn Umar used to say: It is preferable to look to achieve the fullest sense of pleasure, but in its explanation by Al-Ayni, this is not established from Ibn Umar with a sound or weak chain. Abu Yusuf asked Abu Hanifah about a man touching his wife’s private part and her touching his to arouse each other; he said: No harm, and I hope it brings great reward. This is in Dakhirah. (2) The statement: What if a man is alone? etc. This indicates the obligation of covering in seclusion except out of necessity. This is stated in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(۱)قوله: إلا من زوجتك أو ما ملكت يمينك: هذا يدلُّ على أن الملك والنكاح يبيحان النظر إلى السوأتين من الجانبين. قاله في المرقاة»، وقال في الدر المختار: وينظر الرجل من عرسه وأمته - الحلال له وطؤها - إلى فرجها بشهوة وغيرها، والأولى تركه؛ لأنه يورث النسيان، انتهى. وقال في رد المحتار»: قال في الهداية»: الأولى أن لا ينظر كل واحد منهما إلى عورة صاحبه، لقوله : إذا أتى أحدكم أهله فليستتر ما استطاع، ولا يتجردان تجرد العير، ولأن ذلك يورث النسيان لورود ليكون، وكان ابن عمر يقول : الأولى أن ينظر ليكون أبلغ في تحصيل معنى اللذة، لكن في شرحها للعيني أن هذا لم يثبت عن ابن عمر ، لا بسند صحيح ولا بسند ضعيف، وعن أبي يوسف سألت أبا حنيفة عن الرجل يمس فرج امرأته، وهي تمس فرجه ليتحرك عليها هل ترى بذلك بأسا؟ قال: لا، وأرجو أن يعضم الأجر، ذخيرة».
Note 2
قوله
(۲)قوله : إذا كان الرجل خاليا إلخ : هذا يَدلُّ على وجوب الستر في الخلوة إلا عند الضروة. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: مرقات میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بیوی اور باندی کی شرمگاہ کو دیکھا جا سکتا ہے اور
درمختار میں یہ بھی لکھا ہے کہ آدمی اپنی بیوی اور لونڈی کی شرم گاہ کو شہوت سے دیکھ سکتا ہے لیکن اولیٰ یہ ہے کہ نہ دیکھے
کیونکہ اس سے بھول پیدا ہوتی ہے۔ اور ہدایہ میں لکھا ہے کہ شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کی شرم گاہ کو نہ دیکھیں
کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے صحبت کرے تو جہاں
تک ہو سکے پردہ کرے اور گدھوں کی طرح بے پردہ نہ ہو جائیں اس لئے کہ اس سے انسان میں بھول پیدا ہوتی ہے۔
اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ آپ نے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا کہ مرد اگر اپنی بیوی
کی شرم گاہ کو چھوئے اور بیوی اپنے شوہر کی شرم گاہ کو چھو لے تاکہ بیوی میں شہوت پیدا ہو تو کیا اس میں کوئی گناہ ہے؟ یہ
سن کر امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا نہیں بلکہ مجھے امید ہے کہ اس میں اجر زیادہ ملے گا۔ (ذخیرہ12)
Miswar ibn Makhramah (may Allah be pleased with him) narrated: I was carrying a heavy stone, and while I was walking, my garment fell off me, and I could not pick it up. The Messenger of Allah (ﷺ) saw me and said to me: "Take your garment and do not walk naked"
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ)
میں نے ایک بھاری پتھر اٹھا لیا اور جس وقت میں چلنے لگا تو میرا کپڑا (یعنی تہ بند میرے بدن سے)
گر پڑا اور (بوجھ کی وجہ سے) میں اسکو پکڑ نہ سکا، میری اس حالت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا
تو فرمایا اپنا کپڑا یعنی تہ بند لے لو (اور باندھ لو) اور برہنہ مت چلو۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)
Sa‘id ibn al-Musayyib (may Allah be pleased with him) narrated: Do not be deceived by the verse: except those whom their right hands possess. It refers only to female slaves and not to male slaves [Narrated by Abu Shaybah]. The Shaykh Abu Hamid interpreted the Hadith of Fatimah (may Allah be pleased with her) to mean that the slave was young, due to the use of the term "ghulam" (boy) and because it was a specific incident
سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (سورہ نور،
پ:18، ع:4 کی آیت نمبر 31 کے یہ کلمات) ”أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ“ تم کو دھوکہ میں نہ
ڈالیں کہ اس سے مراد کنیزیں ہیں (کہ یہ اپنی مالکہ کا بناؤ سنگار دیکھ سکتی ہیں) اور (آیت کے ان
کلمات سے) مراد غلام نہیں ہیں (کیونکہ وہ اپنی مالکہ کے مواضع زینت کو نہیں دیکھ سکتے کہ ان کی
حیثیت اجنبی مرد جیسی ہے)۔ اس حدیث کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے اور شیخ ابو حامد رحمۃ اللہ
(1) The statement: "It refers only to female slaves, etc." means that her male slave is like a stranger to her, because the risk of temptation from him is like that of a stranger, or even greater due to frequent interaction. The texts prohibiting this are absolute. The meaning of the verse: or those whom their right hands possess [An-Nur: 31] refers to female slaves, not male slaves, as stated by Al-Hasan and Ibn Jubayr. Thus, he may only look at her face and hands. Indeed, he may enter upon her without her permission by consensus, but he may not travel with her by consensus, as stated in "Khulasah." According to Ash-Shafi‘i and Malik, he is like her mahram. This is derived from "Ad-Durr al-Mukhtar" and "Radd al-Muhtar." In "Fatawa Qadikhan," a male slave looking at his free mistress, with no kinship between them, is like a free stranger man; looking at a free stranger woman, he may look at her face and hands but not at what a free stranger man may look at of a free stranger woman, whether he is castrated or not, if he has reached maturity.
Note 2
The Shaykh interpreted, etc.
(2) The statement: "The Shaykh interpreted, etc." is as stated in "Nayl al-Awtar"
Note 1
قوله
(۱)قوله: إنما عنى به الإماء إلخ : يعني عبدها كالأجنبي معها؛ لأن خوف الفتنة منه كالأجنبي بل أكثر؛ لكثرة الاجتماع، والنصوص المحرمة مطلقة، والمراد من قوله تعالى: ﴿أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَنُهُنَّ) (النور: (٣) الإماء دون العبيد. قاله الحسن وابن جبير فينظر لوجهها وكفيها فقط. نعم، يدخل عليها بلا إذنها إجماعًا، ولا يسافر بها إجماعا، «خلاصة»، وعند الشافعي ومالك كمحرمه، الدر المختار و رد المحتار ملتقط منهما. وفي فتاوى قاضيخان والعبد في النظر إلى مولاته الحرة التي لا قرابة بينه وبينها بمنزلة الرجل الأجنبي الحر، ينظر إلى وجهها وكفيها، ولا ينظر إلى ما ينظر الأجنبي الحر من الأجنبية الحرة، سواء كان العبد خصياً أو فحلا إذا بلغ مبلغ الرجال.
Note 2
قوله
(۲) قوله : وحمل الشيخ إلخ : كذا في نيل الأوطار».
Note 1
علیہ نے حضرت فاطمہؓ کے واقعہ والی حدیث (جس میں غلام سے پردہ نہ کرنے کا ذکر ہے) اس
بات پر محمول کیا ہے کہ اس حدیث میں لفظ غلام کا ذکر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکا کم عمر یعنی
نابالغ تھا اور یہ واقعہ ایک اتفاقی واقعہ تھا (جس سے مالکہ اور غلام میں بے پردگی پر دلیل نہیں لی
جاسکتی)۔
ف(1): واضح ہو کہ حدیث فاطمہ سے مراد وہ حدیث ہے جس کو ابوداود نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے
روایت کی ہے جس میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے غلام سے پردہ فرمانے پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا غلام سے
پردہ نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ صدر کی حدیث جس کے راوی حضرت سعید ابن المسیب ہیں اور یہ حدیث جس کے
راوی حضرت انس ہیں دونوں میں بظاہر تعارض معلوم ہوتا ہے اس تعارض کو حافظ ابواحمد جرجانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس
طرح دور فرمایا ہے کہ حضرت انس والی حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بی بی فاطمہ سے فرمایا
”ہو غلامک“ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نابالغ لڑکا تھا اس لئے بچوں سے گوشہ نہیں یا پھر یہ ایک اتفاقی واقعہ تھا
جس سے غلام اور مالکہ میں بے پردگی کے ثبوت پر دلیل نہیں لی جاسکتی جیسا کہ نیل الاوطار میں صراحت ہے۔12
ف(2): صدر کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ غلام کی حیثیت مالکہ کے لئے اجنبی مرد جیسی ہے اس لئے کہ
غلام گھر کے کاموں کے لئے کثرت سے گھر میں آیا جایا کرتا ہے اور اسی وجہ سے فتنہ کا اندیشہ رہتا ہے اسی لئے اس کا حکم
مالکہ کے لئے اجنبی مرد کا ہے جیسا کہ حضرت حسن بصری اور حضرت ابن جبیر رحمہما اللہ نے فرمایا ہے البتہ ضرورۃً مالکہ
کے چہرے اور ہاتھوں پر اس کی نظر پڑ جائے تو کوئی حرج نہیں اور ضرورۃً وہ گھر میں بغیر اجازت کے داخل ہوسکتا ہے
البتہ مالکہ کے ساتھ سفر نہیں کرسکتا۔ یہ خلاصہ میں مذکور ہے اور امام شافعی اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہما نے فرمایا ہے کہ غلام
کی حیثیت مالکہ کے لئے محرم جیسی ہے۔12(ماخوذ از درمختار وردالمحتار)۔
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) narrated: The Prophet (ﷺ) was at her house, and there was a effeminate man in the house. He said to Abdullah ibn Abi Umayyah, the brother of Umm Salamah: "O Abdullah, if Allah grants you victory at Ta’if tomorrow, I will guide you to the daughter of Ghaylan, for she approaches with four and retreats with eight." The Prophet (ﷺ) said: "These people should not enter upon you"
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ان کے ہاں تھے اور گھر میں ایک مخنث تھا تو اس نے عبداللہ بن ابی امیہ جو ام المؤمنین ام سلمہ
کے بھائی تھے ان سے کہا اے عبداللہ! اگر اللہ تعالیٰ طائف فتح کردے تو میں تم کو غیلان کی بیٹی
بتاؤں گا (وہ ایسی بھاری بھرکم عورت ہے) وہ آتی ہے تو چار (شکن) کے ساتھ اور جاتی ہے تو
آٹھ (شکن) کے ساتھ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایسے (مخنث) لوگ
تمہارے گھر نہ آیا کریں۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 5235 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2180 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
These people should not enter upon you
(1) The statement: "These people should not enter upon you" for this reason, it is stated in "Ad-Durr al-Mukhtar" that the castrated, the mutilated, and the effeminate are like the virile man in looking at a stranger woman.
Note 1
قوله
(۱) قوله : لا يدخلن هؤلاء عليكم لذلك قال في الدر المختار والخصي والمجبوب والمخنث في النظر إلى الأجنبية كالفحل.
Note 1
ف: درمختار میں لکھا ہے کہ خصی اور مخنث کا حکم جو جماع پر قدرت نہیں رکھتے اجنبی عورت کے دیکھنے کے بارے
میں صحیح اور سالم مرد کی طرح ہے۔12
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: Look at her, etc. Scholars have differed regarding the permissibility of looking at a woman one intends to marry. Al-Awza‘i, Ath-Thawri, Abu Hanifah, Ash-Shafi‘i, Ahmad, and Ishaq permitted it absolutely, whether the woman consented or not, based on the hadiths of Jabir and Al-Mughirah. Malik permitted it with her consent, and it is narrated from him that he prohibited it absolutely. If a woman were sent to describe her, it would be more in line with avoiding disagreement. Al-Mirqat and Al-Luma‘at are sourced from this. It is said in Ad-Durr Al-Mukhtar: It is recommended to look at her beforehand.
Note 1
(۱) قوله: فانظر إليها إلخ وللعلماء خلاف في جواز النظر إلى المرأة التي يريد أن يتزوجها، فجوزه الأوزاعي والثوري وأبو حنيفة والشافعي وأحمد وإسحاق مطلقا، أذنت المرأة أم لم تأذن لحديثي جابر واللمغيرة، وجوزه مالك بإذنها، وروى عنه المنع مطلقا، ولو بعث امرأة نصفها له لكان أدخل في الخروج عن الخلاف. «المرقاة» و«اللمعات» ملتقط منهما، وقال في الدر المختار: ويندب النظر إليها قبله.
Note 1
ف: واضح ہو کہ علماء میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ جس عورت سے شادی کا ارادہ ہو اس کو دیکھنا جائز ہے چنانچہ امام اوزاعی، امام سفیان ثوری، امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام احمد اور امام اسحاق رحمہم اللہ نے حضرت جابر اور حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی بناء پر مطلقاً ایسی عورت کے دیکھنے کو جس سے شادی کا ارادہ ہو جائز قرار دیا خواہ وہ عورت اجازت دے یا نہ دے البتہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے عورت کی اجازت سے دیکھنے کو جائز قرار دیا ہے ۔ ایک دوسری روایت میں امام مالک سے مطلقاً منع بھی مروی ہے، ان اختلافات سے بچنے کی بہتر صورت یہ ہے کہ کسی عورت کو اگر بھیج دیں جو واپس آ کر اس عورت کا حال بیان کر دے تو مناسب ہے۔ یہ مضمون مرقات اور لمعات سے ماخوذ ہے، البتہ رد مختار میں لکھا ہے کہ شادی سے پہلے عورت کو دیکھ لیا جا سکتا ہے۔12 صاحب مرقات نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر لڑکی پسند نہ ہو تو جن حضرات نے پیام بھیجا تھا ان کے اپنے اعتبار سے ناپسند ہونے کو شہرت نہ دیں تاکہ لڑکے اور لڑکی والوں کو ایذا نہ پہنچے۔12