Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Marriage

Hadith 3315

Chapter on Division

In this book

Current reading

Marriage

Chapter on Division

Zujajat al-Masabih 3315Volume 2

English

‘Ata’ narrated: We attended Maymunah’s funeral with Ibn Abbas at Sarif. He said, “This is the wife of the Messenger of Allah (ﷺ). When you lift her bier, do not shake or jolt it, but be gentle. The Messenger of Allah (ﷺ) had nine wives, dividing among eight and not dividing for one.” ‘Ata’ said: It reached us that the one he did not divide for was Safiyyah, and she was the last to die, dying in Medina. Agreed upon. Razin said: Others than ‘Ata’ said it was Sawdah, which is more correct. She gave her day to Aishah when the Messenger of Allah (ﷺ) intended to divorce her. She said, “Keep me; I have given my day to Aishah, hoping to be among your wives in Paradise.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٣١٥ - وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جِنَازَةَ مَيْمُوْنَةَ بِسَرِفَ، فَقَالَ: هَذِهِ زَوْجَةُ رَسُوْلِ اللَّهِ ، فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوهَا، وَارْفُقُوْا فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِﷺ تِسْعُ نِسْوَةٍ كَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانِ، وَلَا يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ. قَالَ عَطَاءُ: الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَا يَقْسِمُ لَهَا بَلَغَنَا أَنَّهَا صَفِيَّهُ، وَكَانَتْ آخِرَهُنَّ مَوْتًا مَاتَتْ بِالْمَدِينَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَقَالَ رَزِينٌ: قَالَ غَيْرُ عَطَاءٍ: هِيَ سَوْدَةُ ، وَهُوَ أَصَحُ، وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ حِيْنَ أَرَادَ رَسُولُ اللهِ ﷺ طَلَاقَهَا ، فَقَالَتْ لَهُ : أَمْسِكْنِي قَدْ وَهَبْتُ يَوْمِي لِعَائِشَةَ، لَعَلِّي أَنْ أَكُوْنَ مِنْ نِسَائِكَ فِي الْجَنَّةِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4394
عطاء رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَيْهِ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازہ میں شریک ہونے کے لئے مقام سرف پہنچے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی ہیں جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو نہ زیادہ جنبش دو اور نہ زیادہ حرکت دو بلکہ (تعظیماً) آہستہ آہستہ نرمی سے چلو واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے وقت آپ کے نکاح میں نو بیویاں تھیں ان میں سے آپ نے آٹھ کی باری مقرر کر رکھی تھی اور ایک کی باری مقرر نہیں فرمائی تھی۔ عطا فرماتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین جن کی باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقرر نہیں فرمائی ہم کو یہ خبر پہنچی ہے کہ وہ بی بی صفیہ تھیں، جن کا انتقال مدینہ منورہ میں (ساری) امہات المؤمنین کے بعد ہوا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔ رزین نے کہا کہ عطا کے علاوہ دوسرے محدثین نے یوں کہا ہے کہ وہ ام المؤمنین (جن کی باری مقرر نہیں فرمائی گئی وہ) بی بی سودہ تھیں اور یہی قول صحیح ترین قول ہے۔ بی بی سودہ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بخش دی تھی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو طلاق دینے کا ارادہ فرمایا، انہوں نے عرض کیا آپ مجھے طلاق نہ دیجئے اپنے نکاح میں رکھئے تاکہ میں جنت میں آپ کی بیویوں میں شامل رہوں اور میں اپنی باری بی بی عائشہ کو ہبہ کرتی ہوں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5067 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1465a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.