العربية
Typed, pending editorial approval
٣٣٢٧ - وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِي عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ قَالَ: «أَنْ تُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَتَكْسُوهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ أَوْ اكْتَسَبْتَ وَلَا تَضْرِبُ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحْ، وَلَا تَهْجُرُ إِلَّا فِي الْبَيْتِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه. وَرَوَى الْبُخَارِيُّ عَنْ أَنَسٍ الله قَالَ: آلَى رَسُولُ اللهِ ﷺ مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا، وَكَانَتْ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ، فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ نَزَلَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آلَيْتَ شَهْرًا؟ فَقَالَ: «إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ».
وَرَوَى مُسْلِمٌ عَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه)، قَالَ : دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَوَجَدَ النَّاسَ جُلُوسًا بِبَابِهِ لَمْ يُؤْذَنْ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ، قَالَ: فَأُذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ فَدَخَلَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ، فَوَجَدَ النَّبِيَّ ﷺ جَالِسًا حَوْلَهُ نِسَاؤُهُ وَاحِمًا سَاكِيًّا. قَالَ: فَقَالَ: لَأَقُولَنَّ شَيْئًا أُضْحِكُ النَّبِيِّ ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ رَأَيْتَ بِنْتَ خَارِجَةَ سَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَوَجَأْتُ عُنْقَهَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ ، وَقَالَ: هُنَّ حَوْلِي كَمَا تَرَى يَسْأَلْنَنِي النَّفَقَةَ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَائِشَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا، فَقَامَ عُمَرُ إِلَى حَفْصَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا كِلَاهُمَا يَقُولُ: تَسْأَلِيْنَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ؟
فَقُلْنَ: وَاللَّهِ لَا نَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ اللهِ شَيْئًا أَبَدًا لَيْسَ عِنْدَهُ، ثُمَّ اعْتَزَلَهُنَّ شَهْرًا أَوْ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، ثُمَّ نَزَلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةُ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِأَزْوَاجِكَ حَتَّى بَلَغَ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا قَالَ: فَبَدَأَ بِعَائِشَةَ، فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ (الأحزاب: ۲۸، ۲۹) أَعْرِضَ عَلَيْكِ أَمْرًا، أُحِبُّ أَنْ لَا تَعْجَلِي لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَشِيرِي أَبَوَيْكِ». قَالَتْ: وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَتَلَا عَلَيْهَا الْآيَةَ قَالَتْ: أَفِيكَ يَا رَسُولَ اللهِ أَسْتَشِيرُ أَبَوَيَّ؟ بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ لَا تُخْبِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِكَ بِالَّذِي قُلْتُ قَالَ: «لَا تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ إِلَّا أَخْبَرْتُهَا إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنَّنَا وَلَا مُتَعَنَّنَا، وَلَكِنْ بَعَثَنِي مُعَلَّمًا مُيَسِّرًا».
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2142 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1911 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 1850 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 3259 (unverified) 95% confidence
Mishkat (candidate) 3259
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Note 1
(1) The statement: “Do not strike her face, etc.”: In Fatawa Qadikhan, a husband may strike his wife for four reasons: neglecting adornment when he desires it, refusing intimacy when she is pure, neglecting prayer (in some narrations, though Muhammad said he cannot strike her for neglecting prayer, and neglecting purification from major impurity or menstruation is akin to neglecting prayer), and leaving the house without his permission, as in Al-Marqah. Al-Khazn said: Ash-Shafi‘i said striking is permissible, but refraining from it is better.
Note 2
(2) The statement: “Do not forsake her except in the house”: This means if something displeases him, he forsakes her in bed but does not move to another house. However, it is established in the Sahih that the Prophet (ﷺ) forsook his wives and went to an upper room. Thus, the restriction in “forsake them in bed” [An-Nisa: 34] is not intended, and the restriction in this Hadith is not followed. It is permissible to forsake outside the house, as the Prophet (ﷺ) did. The reality is that this varies by circumstance; sometimes forsaking in the house is more severe, sometimes outside, especially for women due to their sensitive nature, as in Nayl al-Awtar and Fath al-Bari, summarized.
Note 3
(3) The statement: “The Messenger of Allah swore an oath (ila), etc.”: In Al-Azhar, this is not the well-known ila, as Al-Tayyibi said: Ila in fiqh has specific rulings and is not called ila without them, as in Al-Marqah.
Note 4
(4) The statement: “Rather, I choose Allah and His Messenger, etc.”: This supports the view of Malik, Ash-Shafi‘i, Abu Hanifah, Ahmad, and the majority of scholars that if a husband gives his wife a choice and she chooses him, it is not divorce, and no separation occurs, as in Al-Marqah.
Note 1
ف(1): اس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کو چہرہ پر مارنے سے منع فرمایا ہے، اس بارے میں فتاویٰ قاضی خان میں یہ وضاحت ہے کہ شوہر بیوی کو چار باتوں پر مار سکتا ہے۔ (1) شوہر بیوی سے زیب و زینت کی خواہش کرے تو وہ زیب و زینت نہ کرے (2) بیوی حیض و نفاس سے پاک ہو اور وہ شوہر کی خواہش پر جماع کے لئے آمادہ نہ ہو (3) نماز کے چھوڑنے پر (4) شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی گھر سے نکلے۔ یہ مرقات میں مذکور ہے اور تفسیر خازن میں لکھا ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ بیوی کو مارنے کی اجازت ہے لیکن نہ مارنا افضل ہے۔12 ف(2): واضح ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ پر مارنے سے اس لئے منع فرمایا ہے کہ چہرہ انسان کے اعضاء میں بڑی فضیلت اور عظمت کا عضو ہے اور چہرہ لطف اعضاء اور شریف اجزاء جیسے آنکھ، ناک، کان وغیرہ پر مشتمل ہے۔ (ماخوذ از مرقات)۔ ف(3): اس حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے کہ (ضرورت ہو) تو بیوی سے تادیباً گھر ہی میں علیحدگی کی جا سکتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی وجہ سے شوہر کو بیوی پر کوئی شبہ ہو جائے تو وہ بیوی کو دوسرے گھر میں منتقل نہ کرے لیکن صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے امہات المومنین سے بالکلیہ علیحدگی اختیار فرمائی تھی اور اپنے بالاخانہ پر تشریف لے گئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ”وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ“ (بیویوں کو بستر سے جدا کر دو) میں اس بات کی قید نہیں ہے کہ بیویوں کو صرف گھر ہی میں جدا رکھا جائے بلکہ ان کو گھر سے بھی علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ حالات کے اعتبار سے علیحدگی کی صورتیں مختلف ہوتی ہیں اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ بیوی سے گھر میں علیحدگی اختیار کرنا گھر سے منتقل کر دینے سے سخت ہوتا ہے اور کبھی اس کے برخلاف بھی معاملہ ہوتا ہے۔ بلکہ گھر میں علیحدگی زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے خصوصاً عورتوں کے لیے اس لیے کہ عورتیں کمزور طبیعت کی ہوتی ہیں۔ (نیل الاوطار، فتح الباری۔12)
Note 2
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات سے ایک ماہ علیحدہ رہنے کے بعد سب سے پہلے حضرت عائشہؓ کے پاس تشریف لا کر فرمایا تم چاہو تو دنیا اور اس کی زینت کو اختیار کر لو یا چاہو تو اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو اختیار کرو تو ام المومنین نے فرمایا میں اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو اختیار کرتی ہوں اس سے چاروں مسالک: مالکی، شافعی، حنبلی حنفی۔ اور جمہور علماء کے مسلک پر دلیل ملتی ہے کہ جس کسی نے اپنی بیوی کو زوجیت میں رہنے کا اختیار دیا اور بیوی نے اپنے اختیار سے کہا کہ میں تم کو اختیار کرتی ہوں تو نہ طلاق واقع ہوگی اور نہ جدائی۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔12)