اردو
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہما اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں غریب اور محتاج ہوں
اور میرے پاس کچھ مال نہیں ہے اور میں ایک یتیم کا متولی اور نگران ہوں (کیا میں اپنی تنگدستی کی
وجہ سے حق نگرانی لے سکتا ہوں یا نہیں؟) تو آپ نے فرمایا تم اپنے یتیم کے مال سے (اپنی خدمت
کے معاوضہ کی مقدار کے مطابق) کھا سکتے ہو لیکن تم فضول خرچی نہ کرو اور نہ تم خرچ کرنے میں
عجلت سے کام لو اور نہ اپنے لیے (یتیم کے مال سے) مال جمع کرنے والے بنو۔
(اس کی روایت ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے)۔
اور بیہقی نے ابن جبیر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا ہے
کہ یتیم کا ولی اگر تونگر ہے تو (یتیم کے مال کے استعمال سے) رکے اور کچھ نہ کھائے اور اگر وہ
تنگدست ہے (یتیم کا) بچا ہوا دودھ لے لے اور اتنی غذا بھی لے سکتا ہے جو اس کی ضرورت سے
زیادہ نہ ہو اور (اتنا کپڑا بھی لے سکتا ہے) جو اس کی شرمگاہ کو چھپائے۔ پھر جب وہ خوشحال
ہوجائے تو (یتیم کے مال سے جو جو استفادہ کیا تھا) اس کو ادا کردے اور اگر تنگ حال ہی
رہا تو (یتیم کے مال سے جو لیا تھا) وہ اس کے لئے معاف ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2872 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 2718 (unverified) 93% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 3668 (unverified) 92% confidence · Validation similarity: 0.735
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: Refraining from his wealth is preferable: Meaning abstaining from his wealth, even by borrowing, if not needed, is better than otherwise. If needed, it is permissible. [At-Ta’liq Al-Mumajjad] It is stated in Al-Hidayah: This is because confinement is a cause of maintenance, as with a trustee. Elsewhere, it is said: Maintenance is compensation for confinement, and whoever is confined for another’s intended right, their maintenance is upon him, the basis being the judge and the charity worker in charities.
Note 1
اور امام محمد رحمہ اللہ نے موطأ میں کہا ہے کہ یتیم کے مال سے رکنا ہمارے پاس افضل ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ اور اکثر فقہاء حنفیہ کا یہی قول ہے۔