English
Al-Bara’ ibn Azib (may Allah be pleased with him) narrated: A Bedouin came to the Prophet (ﷺ) and said: “Teach me a deed that will enter me into Paradise.” He said: “Though you have shortened the speech, you have broadened the request. Free a soul and emancipate a slave.” The Bedouin said: “Are they not the same?” He said: “No, freeing a soul is to emancipate it entirely on your own, and emancipating a slave is to assist in its price. Also, lending a milch animal, and showing kindness to an oppressive relative. If you cannot do that, then feed the hungry, give drink to the thirsty, enjoin what is right, and forbid what is wrong. If you cannot do that, then restrain your tongue except from good.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٤٤٣ - وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ (رضي الله عنه)قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِي إِلَى النَّبِيِّ ، فَقَالَ: عَلِّمْنِي عَمَلًا يُدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، فَقَالَ: لَئِنْ كُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ، أَعْتِقِ النَّسَمَةَ وَفُكَ الرَّقَبَةَ قَالَ: أَوَلَيْسَا وَاحِدًا؟ قَالَ: «لَا عِتْقُ النَّسَمَةِ أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِهَا وَفَكَ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي ثَمَنِهَا، وَالْمِنْحَةُ الْوَكُوفُ، وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ وَاسْقِ الظَّمْآنَ، وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنَ الْخَيْرِ». رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4607
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
کی خدمت میں ایک اعرابی (دیہاتی) حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مجھے ایک ایسا عمل سکھلائیے جو
مجھ کو جنت میں داخل کر دے! آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم نے مختصر کلام میں بہت وسیع سوال کیا
ہے (یعنی بڑی بات پوچھی ہے) ایک جان کو یعنی غلام کو آزاد کرو اور گردن کو چھڑاؤ۔ سائل نے
عرض کیا ”کیا یہ دونوں باتیں ایک نہیں ہیں؟“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ دونوں
ایک نہیں ہیں۔ جان کو آزاد کرنا یہ ہے کہ تم ہی اکیلے اس کو آزاد کرو، اور گردن چھڑانا یہ ہے کہ تم اس
کی آزادی کی قیمت ادا کرنے میں مدد کرو۔ اور دودھ سے بھری ہوئی بکری یا اونٹنی (دودھ) استعمال
کرنے کی غرض سے دو) اور ظالم رشتہ دار کا بھی پاس و لحاظ کرو (یعنی تعلقات توڑے بغیر اس کو ظلم
سے روکو) اور اگر تم کو اس کی طاقت نہیں ہے تو کسی بھوکے کو کھلاؤ، اور پیاسے کو پلاؤ، اور نیکی کا حکم دو،
برائی سے روکو۔ اگر تم کو اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان کو بھلائی کے سوا کسی بھی دوسری بات سے
(بدکلامی، غیبت وغیرہ سے) روکو۔ امام بیہقیؒ (شعب الایمان)