اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4835
حضرت یزید بن نعیم بن ہزال سے روایت ہے وہ اپنے والد سے روایت
کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ حضرت ماعز بن مالک یتیم تھے۔ میرے والد کے زیر پرورش تھے انہوں
نے قبیلہ کی ایک لڑکی سے زنا کا ارتکاب کیا۔ تو ان سے میرے والد نے کہا تم حضرت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور جو حرکت تم کئے ہو اس کی آپ کو خبر دو تاکہ تمہارے لئے وہ استغفار
کریں۔ وہ اس کا صرف اس امید میں ارادہ کئے کہ ان کے لئے کوئی راستہ نکل آئے۔ پس وہ آپ
ﷺ کے پاس پہنچ کر عرض کئے یا رسول اللہﷺ میں نے زنا کا ارتکاب کیا۔ مجھ پر آپ اللہ کا فرمان
جاری کیجئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے منہ پھیر لئے تو وہ پھر آئے28؎ اور عرض کئے یا رسول اللہ
(ﷺ) میں نے زنا کا ارتکاب کیا۔ مجھ پر آپ اللہ تعالیٰ کا فرمان جاری کیجئے۔ یہاں تک کہ اس کو
چار مرتبہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے چار مرتبہ یہ جو بات کہی ہے یہ معاملہ کس کے
ساتھ ہوا تو انہوں نے عرض کیا فلاں خاتون کے ساتھ تو آپ نے فرمایا کیا تم اس کے ساتھ سوئے تھے
تو انہوں نے عرض کیا ہاں تو آپ نے فرمایا کیا تم اس کے ساتھ مباشرت کئے تو انہوں نے عرض کیا ہاں
تو آپ نے فرمایا: کیا تم اس کے ساتھ مجامعت کئے؟ تو انہوں نے عرض کیا: ہاں! تو راوی کہتے ہیں کہ
آپﷺ نے ان پر رجم کرنے کا حکم دیا تو ان کو مقام حرہ میں لے جایا گیا جب ان پر رجم ہوا اور وہ پتھر
کی تکلیف کو پائے تو ٹھہر گئے اور بھاگنا شروع کئے تو عبداللہ بن انیس ان کو پا لئے جب کہ ان کے
ساتھی عاجز ہو چکے تھے تو انہوں نے اونٹ کی پنڈلی کی ہڈی نکال کر ان کو پھینک مارا اور قتل کر دیا پھر نبی
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپﷺ سے اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا تم ان کو کیوں
نہیں چھوڑ دئے ہو سکتا وہ توبہ کرتے اور اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرتا۔ (ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 4419 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: He returned: Meaning he returned after being absent. So it is in Al-Mirqat.
Note 1
(١) قوله: فعاد: أي فرجع بعد ما غاب. قاله في (المرقاة).