English
Wail ibn Hujr narrated: A woman was coerced during the Prophet’s (ﷺ) time, so he averted the punishment from her and enforced it on the one who assaulted her. It was not mentioned that he assigned her a dowry. [Narrated by al-Tirmidhi]
Muhammad narrated in Al-Athar from Ibrahim: If a free or enslaved person forcibly takes a woman, he faces the prescribed punishment, with no dowry due. If a dowry is due, the punishment is averted; if the punishment is enforced, the dowry is void. Muhammad said: If a woman is coerced, she faces no punishment, but the one who coerced her does. If he faces the punishment, the dowry is void. Punishment and dowry do not apply to a single act. If the punishment is averted due to doubt, a dowry is due. This is the view of Abu Hanifa, Ibrahim al-Nakha‘i, and most of our jurists. In a narration by al-Tirmidhi and Abu Dawud from Wail ibn Hujr (may Allah be pleased with him): A woman went out during the Prophet’s (ﷺ) time to pray. A man met her, covered her, and fulfilled his desire with her. She screamed, and he fled. She passed a group of Muhajirs and said: That man did this and that to me. They seized a man and brought him to the Messenger of Allah (ﷺ). He said to her: Go, for Allah has forgiven you. To the man who assaulted her, he said: Stone him. He said: He has repented with a repentance that, if the people of Madinah repented it, it would be accepted from them.
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٥٧٤ - وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: اسْتُكْرِهَتْ امْرَأَةُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ فَدَرَأَّ عَنْهَا1 الْحَدَّ، وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا، وَلَمْ يُذْكَرْ2 أَنَّهُ جَعَلَ لَهَا مَهْرًا، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
وَرَوَى مُحَمَّدُّ فِي (الْآثَارِ) عَنْ إِبْرَاهِيْمَ: أَنَّهُ مَنْ كَانَ مِنَ النَّاسِ حُرًّا أَوْ مَمْلُوْكًا غَصَبَ امْرَأَةٌ نَفْسَهَا فَعَلَيْهِ الْحَدُّ وَلَا صَدَاقَ عَلَيْهِ، قَالَ وَإِذَا وَجَبَ الصَّدَاقُ دُرِئَّ الْحَدُّ، وَإِذَا ضُرِبَ الْحَدُّ بَطَلَ الصَّدَاقُ. وَقَالَ مُحَمَّدُ: إِذَا اسْتُكْرِهَتِ الْمَرْأَةُ فَلَا حَدَّ عَلَيْهَا، وَعَلَى مِنْ اسْتَكْرَهَهَا الْحُدُّ، وَإِذَا وَجَبَ عَلَيْهِ الْحَدُّ بَطَلَ الصَّدَاقُ، وَلَا يَجِبُّ الْحَدُّ والصَّدَاقُ فِي جِمَاعِ وَاحِدٍ، فَإِنْ دُرِئَّ عَنْهُ الْحَدُّ بِشُبْهَةٍ وَجَبَ عَلَيْهِ الصَّدَاقُ. وَهُوَ قَوْلُ أَبِيْ حَنِيْفَةَ وَإِبْرَاهِيْمَ النَّخَعِيِّ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا.
وفي رواية للترمذي وابي داود عن وائل بن حجر رضي الله عنه : ان امراءة خرجت علي عهد النَّبِيِّ َتُرِيدُ الصَّلَاةَ فَتَلَقَّاهَا رَجُلَّ فَتَجَلَّلَهَا فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا فَصَاحَتْ وَانْطَلَقَ وَمَرَّتْ بِعِصَابَةٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَتْ: إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا، فَأَخَذُوْا الرَّجُلَ فَأَتَوْا بِهِ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ، وَقَالَ لَهَا: (اذْهَبِي فَقَدْ غَفَرَ اللهُ لَكِ) وَقَالَ لِلرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا:(ارْجُمُوهُ)، وَقَالَ: (لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبلَ مِنْهُمْ).
اردو
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت کو زنا پر مجبور
کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے حد کو رفع فرما دیا40 البتہ اس آدمی پر جس نے
اس کا ارتکاب کیا حد جاری فرمائی۔
راوی نے اس خاتون کے لئے مہر مقرر کئے جانے کا ذکر نہیں کیا41 (ترمذی)
امام محمد کتاب الآثار میں حضرت ابراہیم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ لوگوں
میں سے آزاد ہو یا غلام اگر کسی عورت کو غصب کر لے یعنی زنا کرے تو اس پر حد ہے اور مہر نہیں ہے۔
اور انہوں نے کہا جب مہر واجب ہوتا ہے تو حد جاری نہیں کی جاتی اور جب حد لگائی جاتی ہے تو مہر
باطل ہو جاتا ہے۔ اور امام محمد فرماتے ہیں جب عورت کو مجبور کیا جائے تو اس پر حد جاری نہیں ہوگی۔
اور جو اس کو مجبور کیا ہے اس پر حد جاری ہوگی۔ اور جب حد واجب ہوگی تو مہر باطل ہو جائے گا۔ ایک
جماع میں حد اور مہر دونوں واجب نہیں ہوتے۔ اور اگر کسی شبہ کی بناء حد جاری نہ ہو تو اس پر مہر واجب
ہوتا ہے امام ابوحنیفہؒ، ابراہیم نخعیؒ اور ہمارے اکثر فقہاء کا یہی قول ہے۔
امام ترمذی اور امام ابوداؤد کی روایت میں وائل بن حجر سے مروی ہے کہ ایک
خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نماز کے ارادہ سے نکلی تو اس سے ایک آدمی ملا اور اس
پر چھا گیا اور اس سے اپنی حاجت کو پوری کر لیا عورت نے چیخ ماری تو وہ مرد چلا گیا۔ مہاجرین کی
ایک جماعت گزری تو اس عورت نے کہا کہ وہ آدمی میرے ساتھ ایسا عمل کیا۔ وہ اس آدمی کو پکڑ کر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا تو چل
جا اللہ نے بخش دیا۔ اور جو آدمی زنا کیا تھا اس کے متعلق فرمایا تم اس کو رجم کردو۔ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا کہ اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر اہل مدینہ ایسی توبہ کرتے تو ان سے تو قبول کرلی جاتی۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 1453 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: He averted the punishment from her, etc.: In Al-Durr al-Mukhtar and Radd al-Muhtar: No punishment for adultery by coercion, as the Imam later held, though initially saying a man is punished, as coercion requires an erection, indicating consent, unlike a woman, who is not punished by consensus. This is absolute, including non-authoritative coercion, per the preferred view, varying by context and time. (2) The statement: It was not mentioned that he assigned her a dowry: In Al-Arf al-Shadhi: Punishment and dowry do not combine.
Note 1
(١) قوله: فدرأ عنها الحد إلخ: وقال في (الدر المختار) و(رد المحتار): ولا حد بالزنا بإكراه، هذا ما رجع إليه الإمام،وكان أولا يقول: إن الرجل يحد؛ لأنه لا يتصور إلا بانتشار الآلة، وهو آية الطواعية بخلاف المرأة فلا تحد إجماعًا،وأطلق فشمل الإكراه من غير سلطان على قولهما المفتى به من تحققه من غيره، وهو اختلاف عصر وزمان.
Note 2
(٢) قوله: ولم يذكر أنه جعل لها مهرا: وقال في (العرف الشذي): فإن الحد والمهر لا يجتمعان.