اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4916
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔ اسلمی صاحب نبی کریم صلی
اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور اپنے اوپر چار مرتبہ گواہی دے کہ ایک خاتون سے فعل حرام کئے
ہیں۔ ہر مرتبہ آپ ان سے منہ پھیر لیتے تو پانچویں مرتبہ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو دخول کیا
ہے۔ تو انہوں نے کہا ہاں۔ پھر آپ فرمائے کیا اس قدر ہوا کہ تیرا (عضو) اس کے عضو میں چھپ گیا
تو ان نے کہا، ہاں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا جیسا کہ سلائی سرمہ دانی میں اور رسی کنویں میں چھپ
جاتی ہے۔ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو زنا کو جانتا ہے۔ تو انہوں
نے کہا: ہاں میں نے اس کے ساتھ وہی فعل کیا ہے جو کوئی آدمی حلال طریقہ پر اپنی بیوی کے ساتھ
کرتا ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اس بات سے کیا چاہتا ہے۔ تو اس نے کہا میں چاہتا
ہوں کہ آپ مجھے پاک کریں۔ اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا اور اس کو رجم
کر دیا گیا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کو سنا ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہہ رہا
تھا اللہ نے اس کے عیب کو چھپایا تھا لیکن وہ اپنے کو چھوڑا نہیں یہاں تک کہ کتے کی طرح رجم کر دیا
گیا۔ پھر آپ ﷺ کچھ دیر چلے اور ایک مردار گدھے کے پاس سے گزرے جو اپنا پیر اوپر اٹھایا ہوا تھا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فلاں اصحاب کہاں ہیں تو ان دونوں نے کہا ہم ہیں یا رسول
اللہﷺ۔ آپ نے فرمایا تم دونوں اترو اور اس مردار گدھے کو کھاؤ۔ ان دونوں نے عرض کیا یا نبی
اللہﷺ اس کو کون کھاتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا تم دونوں نے اپنے بھائی کے بارے میں ابھی جو
کچھ کہا وہ اس کو کھانے سے زیادہ سخت ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان
ہے بلاشبہ اس وقت وہ جنت کی نہروں میں غوطہ لگا رہا ہے۔ (ابوداؤد)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 4428 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.