English
Abu al-Darda, may God be pleased with him, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "God Almighty says: I am God; there is no deity but Me, the King of kings, the Master of kings. The hearts of kings are in My hand. If My servants obey Me, I turn the hearts of their kings toward them with mercy and compassion. If My servants disobey Me, I turn their hearts with anger and resentment, and they afflict them with severe punishment. So do not occupy yourselves with praying against kings, but occupy yourselves with remembering and supplicating to Me, and I will suffice you against your kings."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٦٧٨ - وَعَنْ أَبِيّ الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلي الله عليه وسلم : (إِنَّ اللّه تَعَالَى يَقُوْلُ: أَنَا اللهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا، مَالِكُ الْمُلُوْكِ، وَمَلِكُ الْمُلُوْكِ، قُلُوْبُ الْمُلُوْكِ فِي يَدِيْ، وَإِنَّ الْعِبَادَ إِذَا أَطَاعُونِي حَوَّلْتُ قُلُوبَ مُلُوكِهِمْ عَلَيْهِمْ بِالرَّحْمَةِ وَالرَّأْفَةِ، وَإِنَّ الْعِبَادَ إِذَا عَصَوْنِي حَوَّلْتُ قُلُوبَهُمْ بِالسَّخْطَةِ وَالتَّقْمَةِ، فَسَامُوهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ، فَلا تَشْغَلُوا أَنْفُسَكُمْ بِالدُّعَاءِ عَلَى الْمُلُوكِ، وَلَكِنِ اشْتَغِلُوا أَنْفُسَكُمْ بِالذِّكْرِ وَالتَّضَرُّعِ إِلَيَّ أَكْفِكُمْ مُلُوكَكُمْ). رَوَاهُ أَبُوْ نُعَيْمِ، فِي (الْحِلْيَةِ).
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 5023
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں بادشاہوں کا
مالک ہوں اور بادشاہوں کا بادشاہ ہوں۔ بادشاہوں کے دل میرے دست قدرت میں ہیں اور بے
شک جب بندے میری اطاعت کرتے ہیں تو میں ان کے بادشاہوں کے دلوں کو ان پر رحمت و
شفقت کے ساتھ موڑ دیتا ہوں اور بے شک جب بندے میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کے
دلوں کو ان پر ناراضگی اور سزا کے ساتھ موڑ دیتا ہوں تو وہ ان کو برا عذاب چکھاتے ہیں پس تم
بادشاہوں پر بد دعا کرنے میں اپنے آپ کو مشغول مت رکھو بلکہ ذکر اور گریہ و زاری میں اپنے آپ کو
مشغول رکھو تاکہ میں تمہارے لئے تمہارے بادشاہوں کے مقابلہ میں ہو جاؤں۔ (ابو نعیم نے حلیہ
میں اس کی روایت کی)۔