Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Jihad

Hadith 3768

Opening narrations

In this book

Current reading

Jihad

Opening narrations

Zujajat al-Masabih 3768Volume 3

English

Ibn A’idh narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) went out for a man’s funeral. When the body was placed, Umar ibn al-Khattab said: Do not pray over him, O Messenger of Allah, for he is a sinful man. The Messenger of Allah (ﷺ) turned to the people and said: Has anyone among you seen him perform an act of Islam? A man said: Yes, O Messenger of Allah, he guarded one night in the way of Allah. So the Messenger of Allah (ﷺ) prayed over him, threw dust on him, and said: Your companions think you are among the people of the Fire, but I testify you are among the people of Paradise. He said: O Umar, do not ask about people’s deeds but about their innate disposition.

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٧٦٨ - وَعَنِ ابْنِ عَائِذٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فِي جَنَازَةٍ رَجُلٍ، فَلَمَّا وُضِعَ قَالَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لَا تُصَلِّ عَلَيْهِ يَا رَسُوْلَ اللهِ، فَإِنَّهُ رَجُلٌّ فَاجِرُ، فَالْتَفَتَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ: (هَلْ رَآهُ أَحَدُّ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلِ الْإِسْلَامِ؟) فَقَالَ رَجُلُّ: نَعَمْ يَا رَسُوْلَ اللهِ،حَرَسَ لَيْلَةً فِي سَبِيْلِ اللهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ وَحَثَى عَلَيْهِ الثُرَابَ، وَقَالَ:(أَصْحَابُكَ يَظْنُّوْنَ أَنَّكَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ). وَقَالَ: (يَا عُمَرُ، إِنَّكَلَا تَسْأَلْ عَنْ أَعْمَالِ النَّاسِ، وَلَكِنْ تَسْأَلَ عَنِ الْفِطْرَةِ). رَزَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي (شُعَبِ الْإِيْمَانِ).

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5135
سیدنا ابن عائذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے جنازے میں نکلے، جب جنازہ رکھا گیا تو عمر بن خطابؓ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اس پر نماز مت پڑھئے کیونکہ یہ گنہگار آدمی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس کو اسلام کے کام پر دیکھا ہے؟ تو ایک صاحب نے کہا ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات وہ اللہ کے راستہ میں پاسبانی کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نماز (نماز جنازہ) پڑھے اور پسو سے مٹی بھی ڈالے اور فرمایا تیرے ساتھی یہ سمجھتے ہیں کہ تو اہل دوزخ میں سے ہے مگر میں گواہی دیتا ہوں کہ تو اہل جنت میں سے ہے اور فرمائے اے عمر! تم سے لوگوں کے اعمال سے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا لیکن تم سے فطرت (اسلام) سے متعلق سوال کیا جائے گا (امام بیہقی نے کتاب ”شعب الایمان“ میں اس کی روایت کی ہے)