اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 5478
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
کو فرماتے ہوئے سنا سانپوں کو مار ڈالو 1 اور دو نقطے والے اور چھوٹی دم کٹے سانپ کو مار ڈالو کیونکہ
یہ دونوں بصارت کو زائل کر دیتے ہیں اور حمل کو گرا دیتے ہیں۔ عبداللہ نے کہا اسی اثناء میں کہ میں ایک
سانپ کو مارنے کے لئے حملہ کر رہا تھا کہ ابولبابہ نے مجھے ندا دی، اس کو قتل مت کرو، میں نے کہا بے
شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سانپوں کو مارنے کا حکم فرمایا ہے تو انہوں نے کہا آپ ﷺ نے اس
کے بعد گھروں میں رہنے والوں سے منع فرمایا اور وہ گھروں میں رہنے والے سانپ ہیں۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3297 (unverified) 95% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2233a (unverified) 86% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) The statement: “Kill snakes, etc.”: In “Radd al-Muhtar,” al-Tahawi said: There is no harm in killing all snakes, as the Prophet (ﷺ) made a pact with jinn not to enter his community’s homes. If they enter, they break the pact, losing protection. The better approach is to warn them, saying: “Return by Allah’s permission,” and kill if they refuse, except during prayer. In “Al-Hilyah,” al-Tahawi and others, including Ibn al-Humam, agreed. Ibn al-Humam said: The truth is permissibility remains, but it is better to avoid those with jinn signs, not for prohibition but to avoid potential harm.
Note 2
(٢) قوله: اقتلوا الحيات إلخ: وقال في (رد المحتار): قال الطحاوي: لا بأس بقتل الكل؛ لأن النبي صلي الله عليه واله وسلم عهد مع الجنأن لا يدخلوا بيوت أمته فإذا دخلوا، فقد نقضوا العهد فلا ذمة لهم، والأولى هو الأعذار والإنذار، فيقال: ارجع بإذنالله، فإن أبى قتله اه. يعني الإنذار في غير الصلاة، (بحر). قال في (الحلية): ووافق الطحاوي غير واحد آخرهمشيخنا، يعني ابن الهمام، فقال: والحق أن الحل ثابت إلا أن الأولى الإمساك عما فيه علامة الجن، لا للحرمة بل لدفعالضرر المتوهم من جهتهم.
Note 1
صاحب درمختار نے کہا ہے اس حدیث میں قتل کرنے کا حکم اباحت کے طور پر ہے کیونکہ ان کو قتل کرنے میں ہمارے لئے فائدہ ہے اور تکلیف کے اندیشہ کی بناء پر سفید سانپ کو چھوڑ دینا بہتر ہے۔