Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Jihad

Hadith 4041

The Chapter on What is Permissible to Eat and What is Prohibited

In this book

Current reading

Jihad

The Chapter on What is Permissible to Eat and What is Prohibited

Zujajat al-Masabih 4041Volume 3

English

Abu al-Sa’ib narrated: We visited Abu Sa’id al-Khudri, and while we were sitting, we heard movement under his bed. We looked and found a snake. I jumped to kill it, but Abu Sa’id was praying and signaled me to sit, so I sat. When he finished, he pointed to a house in the courtyard and said: “Do you see that house?” I said: “Yes.” He said: “There was a young man among us recently married. We went with the Messenger of Allah (ﷺ) to the Trench, and this young man would seek the Prophet’s permission at midday to return to his family. One day, he sought permission, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Take your weapon, for I fear Qurayzah may harm you.’ The man took his weapon and returned, finding his wife standing between the doors. Overcome with jealousy, he aimed his spear to strike her. She said: ‘Hold your spear and enter the house to see what drove me out.’ He entered and found a large snake coiled on the bed. He struck it with his spear, piercing it, then went out and planted the spear in the courtyard. The snake writhed on it, and it is unclear which died first, the snake or the young man. We came to the Messenger of Allah (ﷺ), informed him, and said: ‘Pray to Allah to revive him for us.’ He said: ‘Seek forgiveness for your companion.’ Then he said: ‘These houses have dwellers (snakes). If you see any, warn them for three days. If they leave, fine; otherwise, kill them, for they are disbelievers.’ He also said: ‘Go and bury your companion.’ In another narration: ‘There are jinn in Madinah who have embraced Islam. If you see any of them, warn them for three days. If they appear after that, kill them, for they are devils.’

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٠٤١ - وَعَنْ أَبِيْ السَّائِبِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ إِذْسَمِعْنَا تَحْتَ سَرِيرِهِ حَرَكَةً، فَنَظَرْنَا فَإِذَا فِيْهِ حَيَّةٌ، فَوَتَبْتُ لِأَقْتُلَهَا وَأَبُوْ سَعِيْدٍ يُصَلِّيْ،فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنْ اجْلِسْ فَجَلَسْتُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ، فَقَالَ: أَتَرَى هَذَاالْبَيْتَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: كَانَ فِيْهِ فَتَّى مِنَّا حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسِ. قَالَ: فَخَرَجْنَا مَعَرَسُولِ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم الَى الْخَنْدَقِ، فَكَانَ ذَلِكَ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُ رَسُولَ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم بِأَنْصَافِ النَّهَارِ،فَيَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ، فَاسْتَأْذَنَهُ يَوْمًا، فَقَالَ لَهُ رَسُول اللهِ صلي الله عليه واله وسلم :(خُذْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ، فَإِنِّيأَخْشَى عَلَيْكَ قُرَيْظَةَ، فَأَخَذَ الرَّجُلُ سِلَاحَهُ، ثُمَّ رَجَعَ، فَإِذَا امْرَأَتُهُ بَيْنَ الْبَابَيْنِ قَائِمَةً،فَأَهْوَى إِلَيْهَا الرُّمْحَ لِيَطْعُنَهَا بِهِ، وَأَصَابَتْهُ غَيْرَةٌ، فَقَالَتْ لَهُ: اكُفُفْ عَلَيْكَ رُمْحَكَ، وَادْخُلْالْبَيْتَ حَتَّى تَنْظُرَ مَا الَّذِي أَخْرَجَنِي، فَدَخَلَ فَإِذَا بِحَيَّةٍ عَظِيمَةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى الْفِرَاشِ،فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ، فَانْتَظَمَهَا بِهِ، ثُمَّ خَرَجَ فَرَكَزَهُ فِي الدَّارِ، فَاضْطَرَبَتْ عَلَيْهِ، فَمَا يُدْرَىأَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا، الْحَيَّةُ أَمْ الْفَتَى. قَالَ: فَجِئْنَا رَسُولَ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم وَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، وَقُلْنَا: ادْعُ اللهَ يُحْبِيهِ لَنَا، فَقَالَ:(اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ)، ثُمَّ قَالَ:(إِنَّ لِهَذِهِ الْبُيُوْتِ عَوَامَرَ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَحَرَّجُواعَلَيْهَا ثَلَاثًا، فَإِنْ ذَهَبَ، وَإِلَّا فَاقْتُلُوهُ؛ فَإِنَّهُ كَافِرً). وَقَالَ لَهُمْ: (اذْهَبُوا فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ). وَفِي رِوَايَةٍ: (قَالَ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنَّا قَدْ أَسْلَمُوا فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَآذِنُوهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْبَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوهُ؛ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانُ). رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5484Noor 5485
ابوالسائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اسی اثناء میں کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ان کے تخت کے نیچے کچھ حرکت سنائی دی، پس ہم نے دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس میں ایک سانپ ہے، تب میں جھپٹ پڑا کہ اس کو مار ڈالوں اور ابو سعید رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے میری طرف اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ، پس میں بیٹھ گیا، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے گھر میں ایک حجرہ کی طرف اشارہ کیے پھر فرمایا تم دیکھ رہے ہو اس مکان کو، میں نے کہا: ہاں، تب انہوں نے کہا اس میں ہم میں سے ایک نئی شادی شدہ نوجوان رہتے تھے، انہوں نے کہا: پس ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خندق کی طرف روانہ ہوئے پس وہ نوجوان نصف النہار کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر اپنے گھر والوں کے پاس جایا کرتے تھے، چنانچہ انہوں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنے ساتھ اپنے ہتھیار کو لیتے جاؤ، کیونکہ مجھے تم پر بنی قریظہ کا اندیشہ ہے، تو وہ صاحب اپنا ہتھیار لیے، پھر (گھر) واپس لوٹے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کی اہلیہ دروازہ کے دو پٹوں کے درمیان کھڑی ہوئی ہے، پس انہوں نے ان کی طرف نیزے کو جھکایا تاکہ ان کو نیزہ چبھو دیں کیونکہ ان کو یہ دیکھ کر غیرت آگئی تب اس عورت نے ان سے کہا اپنے نیزے کو اپنے پاس روک رکھو اور گھر میں جاؤ تاکہ تم دیکھو کس چیز نے مجھ کو باہر نکالا ہے، پس وہ داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بڑا سانپ ہے جو بستر پر کنڈلی مارا ہوا ہے، فوراً انہوں نے اس کی طرف نیزہ جھکایا اور اس کو اس میں پرو دیا پھر باہر نکلے اور اس کو گھر میں گاڑ دیا، پس وہ سانپ ان پر لوٹ پڑا، معلوم نہیں ہوا کہ ان دونوں میں کون پہلے ہلاک ہوا سانپ یا وہ نوجوان۔ راوی نے کہا پس ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا اور معروضہ کیا کہ آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ ان کو ہمارے لئے زندہ فرما دے تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنی ساتھی کے لئے استغفار کرو پھر فرمایا بیشک ان گھروں میں رہنے والے کچھ جنات ہوتے ہیں پس جب تم میں سے کسی کو دیکھو تو ان پر تین مرتبہ تنگی کرو اگر وہ چلا جائے تو بہتر ہے، ورنہ اس کو مار ڈالو کیونکہ وہ کافر ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا جاؤ اپنے ساتھی کو دفن کرو۔ اور ایک روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک مدینہ میں جنات ہیں جو اسلام لا چکے ہیں جب ان میں سے کسی کو دیکھو تو انہیں تین دن تک آگاہ کرتے رہو اور اگر ان کے بعد بھی ظاہر ہوں تو اس کو مار ڈالو، اس سے سوا انہیں کہ وہ شیطان ہے۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2236a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.