اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 5610
ابو عسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم ایک رات میں نکلے اور آپ میرے پاس سے گذرے اور مجھ کو بلائے چنانچہ میں آپ کی
خدمت میں حاضر ہوا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر کے پاس سے گذرے اور ان کو بلائے چنانچہ
وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمر کے پاس سے گذرے اور ان کو
بلائے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے
یہاں تک کہ ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے اور باغ کے مالک سے فرمایا: تم ہمیں گدرے
کھجور کھلاؤ۔ چنانچہ وہ ایک خوشہ لائے اور اس کو رکھ دیئے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں نے تناول فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھنڈا پانی طلب
فرمائے اور نوش فرمائے اور ارشاد فرمایا بروز قیامت ان نعمتوں کے بارے میں تم سے پوچھا جائے
گا۔ راوی نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خوشہ لیا اور اس کو زمین پر مارا، یہاں تک کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب گدرے کھجور جھڑے۔ پھر عرض کیا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و
سلم کیا ہم کو قیامت کے دن اس کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
ہاں: مگر تین چیزوں کے متعلق کپڑے کا وہ ٹکڑا جس کے ذریعہ آدمی اپنے شرم کے حصے کو لپیٹ لیتا ہے۔
2] یا روٹی کا وہ ٹکڑا جس کے ذریعہ وہ اپنی بھوک مٹاتا ہے۔ یا وہ سوراخ (مختصر مکان)
جس میں آدمی گرمی اور سردی (سے بچاؤ کیلئے) بمشکل داخل ہوتا ہے۔ (احمد، شعب الایمان للبیہقی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 4253 (unverified) 40% confidence
Mishkat (candidate) 4253
Confidence and text similarity are not editorial verification.