Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Foods

Hadith 4141

The Chapter on Hospitality

In this book

Current reading

Foods

The Chapter on Hospitality

Zujajat al-Masabih 4141Volume 3

English

Anas or another (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) sought permission to enter Sa’d ibn Ubadah’s house, saying: “Peace be upon you and Allah’s mercy.” Sa’d replied: “And upon you be peace and Allah’s mercy,” but did not let the Prophet (ﷺ) hear until he greeted three times, and Sa’d responded three times without being heard. The Prophet (ﷺ) turned to leave, but Sa’d followed him, saying: “O Messenger of Allah, may my parents be sacrificed for you, every greeting of yours reached my ears, and I responded, but I did not let you hear, wanting to gain more of your greetings and blessings.” They entered the house, and Sa’d offered raisins, which the Prophet (ﷺ) ate. When finished, he said: “The righteous ate your food, the angels prayed for you, and the fasting broke their fast with you.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٤١٤١ - وَعَنْ أَنْسِ رضى الله عنه أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم اسْتَأْذَنَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ،فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَة اللهِ، فَقَالَ سَعْدُ: وَعَلَيْكُمْ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ، وَلَمْ يُسْمِعِالنَّبِيَّ صلي الله عليه واله وسلم حَتَّى سَلَّمَ ثَلَاثًا وَرَدَ عَلَيْهِ سَعْدُ ثَلَاثًا وَلَمْ يُسْمِعْهُ، فَرَجَعَ النَّبِيُّ صلي الله عليه واله وسلم فَا تَبَعَهُسَعْدٌ، فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، بِأَبِيْ أَنْتَ وَأُتّيْ مَا سَلَّمْتَ تَسْلِيْمَةً إِلَّا وَهِيَ بِأُذُنِيْ، وَلَقَدْ رَدَدْتُعَلَيْكَ وَلَمْ أُسْمِعْكَ، أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلَامِكَ وَمِنَ الْبَرَكَةِ، ثُمَّ دَخَلُوْا الْبَيْتَ،فَقَرَّبَ لَهُ زَبِيْبًا فَأَكَلَ نَبِيُّ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: (أَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْعَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ، وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُوْنَ). رَوَاهُ فِي (شَرْحِ السُّنَّةِ).

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5611
انس رضی اللہ عنہ سے یا ان کے سوا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس اجازت چاہی اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ فرمایا پس سعد نے وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ عرض کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انھوں نے نہیں سنایا یہاں تک کہ آپ نے تین مرتبہ سلام فرمایا اور سعد رضی اللہ عنہ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جواب عرض کئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں سنایا پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس ہوگئے تو سعد آپ کے پیچھے گئے اور عرض کئے: یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ کے ہر مرتبہ کا سلام میرے کان میں پہنچا خدا کی قسم یقیناً میں نے آپ کا جواب عرض کیا اور میں آپ کو نہیں سنایا اور میں چاہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بکثرت سلام وبرکت حاصل کروں پھر وہ سب گھر میں داخل ہوئے چنانچہ انھوں نے آپ کے لئے کشمش پیش کیا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تناول فرمائے پس جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ“۔ (نیک لوگ تمھارا کھانا کھائیں اور فرشتے تمھارے حق میں رحمت کی دعا کریں اور تمھارے پاس روزوں دار افطار کریں)۔ (شرح السنۃ)۔