اردو
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک
انصاری صاحب کے پاس تشریف لے گئے اور آپ کے ساتھ آپ کے ایک صحابی تھے اور آپ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کیا اور اس آدمی نے جواب دیا اور وہ ایک باغ میں پانی پٹارہے تھے تو
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارے پاس کسی مشکیزہ میں باسی پانی ہے تو لے آؤ ورنہ ہم
منہ لگا کر پی لیں گے تو انہوں نے کہا میرے پاس مشکیزے میں باسی پانی ہے تو وہ سائبان کی طرف
گئے اور پانی کے پیالے میں انڈیل دیا پھر اس پر ایک گھر کی بکری کا دودھ نچوڑا 2 نبی اکرم صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم نے اس کو نوش کیا انہوں نے پھر دوبارہ دودھ نچوڑا تو آپ کے ساتھ جو صاحب تھے انہوں
نے پیا۔ (بخاری)۔
ابن ماجہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ انھوں نے کہا ہم ایک
حوض کے پاس سے گزرے اور اس میں منہ لگا کر پینے لگے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
فرمایا: منہ لگا کر مت پیو لیکن اپنے ہاتھوں کو دھولو پھر اس میں پیو کیونکہ ہاتھ سے زیادہ پاکیزہ کوئی برتن
نہیں ہے۔ (ابن ماجہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5621 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) The statement: “Poured water into a cup, then milked into it”: This shows no issue with requesting cold water in intense heat, and it is permissible to mix milk with water for drinking, but not for selling, per “Umdat al-Qari.”
Note 2
(٢) قوله: فسكب في قدح ماء ثم حلب عليه إلخ: فيه أنه لا بأس بطلب الماء البارد في سموم الحَرّ، وفيه جواز خلطاللبن بالماء عند الشرب، ولا يجوز عند البيع. كذا في (عمدة القاري).
Note 1
صاحب فتح الباری نے کہا ہے کہ اس میں ممانعت تنزیہی ہے اور آپ کا عمل بیان جواز کے لئے ہے اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ممانعت سے پہلے کا ہے ممانعت میں ایسی حالت میں ہے جب کہ اس کی ضرورت نہ ہو اور وہ عمل ضرورت کی وجہ سے ہے۔