English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Jibril came to me and said: I came to you last night, but I was prevented from entering because there were statues at the door, 1 a curtain with statues in the house, and a dog inside. Order the head of the statue in the house to be cut off so it resembles a tree, order the curtain to be cut and made into two cushions to be placed on the floor, and order the dog to be removed. The Messenger of Allah (ﷺ) did so .
العربية
Typed, pending editorial approval
٤٣٣٩ - وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم : (أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ لِي:أَتَيْتُكَ الْبَارِحَةَ فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَكُونَ دَخَلْتُ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ 1 عَلَى الْبَابِ تَمَاثِيلُ،وَكَانَ فِيالْبَيْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ، وَكَانَ فِي الْبَيْتِ كَلْبٌ، فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ الَّذِي فِي الْبَيْتِيُقْطَعُ، فَيَصِيرُ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ، وَمُرْ بِالسَّتْرِ فَلْيُقْطَعْ، فَلْيُجْعَلْ مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ مَنْبُوذَتَيْنِتُوطَآنٍ، وَمُرْ بِالْكَلْبِ فَلْيُخْرَجْ)، فَفَعَلَ رَسُولُ اللهِ وَلِيِّهِ رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 5866
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا میرے پاس جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں کل رات آپ کے
پاس حاضر ہوا تھا اور مجھے داخل ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں تھی مگر یہ کہ دروازے پر تصویریں 2
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 4158 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2806 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "there were statues at the door": In Al-Durr al-Mukhtar and Radd al-Muhtar: It is prohibitively disliked to wear clothing with images of living beings or to have a statue above one’s head, in front, beside, or at the place of prostration, even on an upright cushion. There is disagreement if the statue is behind, with the stronger view being dislike. It is not disliked if underfoot or at the place of sitting, as it is demeaned, or if held in hand, as it is concealed by clothing or on a ring with an unclear design. In Al-Bahr: This implies dislike for clear images unless concealed in a bag, pouch, or another cloth, as approved by the author, or if the image is small with indistinguishable details when viewed standing with it on the ground, as noted by Al-Halabi, or if the head or face is cut off, or a vital organ is removed, or if it is of a non-living thing, as it is not worshipped.
Note 1
(١) قوله: كان على الباب تماثيل إلخ: قال في (الدر المختار) و (رد المحتار): وكره كراهة تحريمية لبس ثوب فيه تماثيلذي روح، وأن يكون فوق رأسه أو بين يَدَيْه أو بحذائه يمنة أو يسرة أو محل سجوده تمثال، ولو في وسادة منصوبةلا مفروشة، واختلف فيما إذا كان التمثال خلفه، والأظهر الكراهة، ولا يكره لو كانت تحت قدميه، أو محل جلوسه؛لأنها مهانة أو في يده. عبارة الشمني: يدنه؛ لأنها مستورة بثيابه، أو على خاتمه بنقش غير مستبين. قال في (البحر):ومفاده كراهة المستبين إلا المستتر بكيس أو صرة أو ثوب آخر، وأقره المصنف، أو كانت صغيرة لا تتبين تفاصيلأعضائها للناظر قائما، وهي على الأرض، ذكره الحلبي، أو مقطوعة الرأس أو الوجه، أو ممحوة عضو لا تعيش بدونه،أو لغير ذي روح لا يكره؛ لأنها لا تعبد.
Note 1
تھیں گھر میں ایک باریک پردہ تھا جس پر کے سیدھے جانب یا بائیں جانب یا اس کے سجدہ کی جگہ میں ہوں تو اس میں کوئی مشابہت نہیں ہے البتہ اس میں تعظیم ہے اور جس میں تعظیم اور مشابہت جمع ہو جائیں تو اس میں کراہت شدید ترین ہو جائے گی۔ اس لئے اس کی کراہت کے مراتب میں تفاوت ہے جیسا کہ گزر چکا جبرئیل علیہ السلام کے واقعہ کی علت تعظیم ہے، اس کی دلیل آخری حدیث اور اس کے سوا دوسری حدیث ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک اور امام شافعی کے قول میں جو پیروں تلے ہو یا اہانت کے مقام میں ہو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کے ماسوا کو انہوں نے مکروہ قرار دیا ہے۔ (ماخوذ از عمدۃ القاری، شرح معانی الاثار) اسی وجہ سے عالمگیری میں ہے حالت نماز کے علاوہ گھروں اور کپڑوں میں تصویریں بنانے کی دو نوعیتیں ہیں: پہلی نوعیت اگر اس میں ان کی تعظیم ہے تو یہ مکروہ ہے دوسری نوعیت اگر ان کی تحقیر ہے تو یہ مکروہ نہیں ہے۔ اور اسی سے ہم کہتے ہیں کہ جب تصویر فرش پر ہو جب کہ وہ بچھا ہوا ہے تو مکروہ نہیں ہے اور اگر اس کو کھڑا رکھا گیا ہے تو مکروہ ہے۔ (محیط) اور جب تصویر اس کے پیچھے ہو تو اس میں اختلاف ہے راجح قول یہ ہے کہ وہ مکروہ ہے۔ اور اگر وہ اس کے پاؤں کے نیچے یا اس کے بیٹھنے کی جگہ میں ہوں تو مکروہ نہیں ہے کیونکہ وہ ان کی اہانت کی جگہ میں ہے۔ یا اس کے ہاتھ میں ہو۔ علامہ مشتی کی عبارت میں یہ ہے کہ یا اس کے بدن میں ہو، یہ سب مکروہ نہیں۔ کیونکہ یہ اس کے کپڑوں میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں یا اس کی انگوٹھی پر غیر واضح نقش کے ساتھ ہو صاحب ”بحر“ نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ واضح نقش مکروہ ہے اور جو چھپا ہوا ہو کسی تھیلی یا بٹوے یا کسی دوسرے کپڑے میں تو وہ مکروہ نہیں ہے، مصنف نے اسی کو ثابت کیا ہے یا وہ ایسی چھوٹی ہوں کہ کھڑے ہو کر دیکھنے والے کے لئے اس کے اعضاء کی تفصیلات ظاہر نہ ہوتی ہوں جب کہ وہ تصاویر زمین پر ہوں (امام حلبی نے اس کو ذکر کیا ہے) یا سر اور چہرہ کٹے ہوئے ہوں یا کوئی ایسا عضو مٹا ہوا ہو جس کے بغیر وہ جی نہیں سکتے یا غیر جاندار کی ہوں تو وہ مکروہ نہیں ہے کیونکہ اس کی پرستش نہیں کی جاتی۔ تصویریں تھیں، اور گھر میں ایک کتّا تھا۔ گھر کے دروازے پر جو تصویریں ہیں اس کے بارے میں آپ (ﷺ) حکم فرمائیں کہ اس کو کاٹ دیا جائے تو وہ درخت کی شکل کی طرح ہو جائے گا، اور پردے کے بارے میں حکم فرمائیں کہ اس کو کتر دیا جائے، اور نیچے پڑے رہنے والے دو تکیے بنا لئے جائیں جو پڑے رہیں گے۔ اور کتّے کے بارے میں حکم فرما دیجئے کہ اس کو نکال دیا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ (ترمذی، ابوداؤد)