العربية
Typed, pending editorial approval
٤٣٤١ - وَعَنْهَا أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم قَامَ عَلَىالْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْهُ فَعَرَفَتْ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ، قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَتُوبُ إِلَى اللهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، مَاذَا أَذْنَبْتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم :(مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةٍ) قُلْتُ: اشْتَرَيْتُهَالَكَ لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم :(إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِيُعَذَّبُونَ، فَيُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ)، وَقَالَ:(إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوْرَةُ لَا تَدْخُلُهُالْمَلَائِكَةُ). مُتَّفَقُّ عَلَيْهِ.
قَالَ الْعَلَّامَةُ الْعَيْنِيُّ: فِيْهِ أَنَّهُ صلي الله عليه واله وسلم أَنَكَرَ عَلَى عَائِشَةَ حِيْنَ قَالَتْ: لِتَقْعُدَ عَلَيْهَاوَتَسَّدَهَا، فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى كَرَاهَةِ اسْتِعْمَالِ السِّئْرِ الَّذِيْ فِيْهِ الصُّوْرَةُ بَعْدَ أَنْ قُطِعَ وَعُمِلَتْمِنْهُ الْوِسَادَةُ، وَيُفْهَمُ مِنَ الْأَحَادِيْثِ الَّتِيْ قَبْلَهُ خِلَافُهُ، فَقُلْتُ: لَا تَعَارُضَ بَيْنَهُمَا أَصْلًا؛لِأَنَّهُ نَهَى الشَّارِعُ أَوَّلًا عَنِ الصُّوَرِ كُلِّهَا، ثُمَّ لَمَّا تَقَرَّرَ نَهْيُهُ عَنْ ذَلِكَ أَبَاحَ مَا يُمْتَهَنُ؛ لِأَنَّهُيُؤْمَنُ عَلَى الْجَاهِلِ تَعْظِيْمُ مَا يُمْتَهَنُ، وَبَقِيَ النَّهْيُ فِيْمَا لَا يُمْتَهَنُ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2105 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
علامہ عینی نے کہا کہ اس میں یہ بات ہے کہ جب عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ آپ اس پر تشریف فرما ہوں اور اس پر ٹیک لگائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کر دیا۔ پس اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا پردہ جس میں تصویریں تھیں اس کو کاٹ کر تکیہ بنا لیا گیا تو اس کا استعمال بھی مکروہ ہے جب کہ گزری ہوئی احادیث سے اس کے برخلاف (جواز) معلوم ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ان دونوں کے درمیان بالکل تعارض نہیں ہے کیونکہ شارع علیہ السلام نے ابتداء میں تمام تصویروں سے منع فرمایا تھا۔ جب آپ کا ان سے منع کرنا راسخ ہو گیا تو ان تصاویر کو جو تحقیر کے مقام میں ہوں مباح قرار دیا کیونکہ اس میں اس بات کا اطمینان ہوتا ہے کہ نادان ایسی چیزوں کی تعظیم نہیں کریں گے جو اہانت کے مقام میں ہوں اب رہا وہ تصاویر جو اہانت کے مقام میں نہ ہوں ان کی ممانعت برقرار ہے۔