Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Clothing

Hadith 4341

The Chapter on Images

In this book

Current reading

Clothing

The Chapter on Images

Zujajat al-Masabih 4341Volume 3

English

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: She bought a cushion with images. When the Messenger of Allah (ﷺ) saw it, he stood at the door and did not enter. She recognized displeasure on his face and said: O Messenger of Allah, I repent to Allah and His Messenger, what have I done wrong? The Messenger of Allah (ﷺ) said: What is this cushion? She said: I bought it for you to sit or rest on. He said: The makers of these images will be punished on the Day of Resurrection and told: Bring to life what you created. He also said: Angels do not enter a house with images [Narrated by Bukhari and Muslim]. Al-Allamah Al-Ayni said: He reproached Aisha for saying it was for sitting or resting, indicating the dislike of using a curtain with images even after cutting it into a cushion. However, the previous hadiths suggest otherwise. I say: There is no conflict, as the lawgiver initially prohibited all images, then permitted those that are demeaned, as there is no fear of the ignorant venerating them, while the prohibition remains for those not demeaned.

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٣٤١ - وَعَنْهَا أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم قَامَ عَلَىالْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْهُ فَعَرَفَتْ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ، قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَتُوبُ إِلَى اللهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، مَاذَا أَذْنَبْتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم :(مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةٍ) قُلْتُ: اشْتَرَيْتُهَالَكَ لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم :(إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِيُعَذَّبُونَ، فَيُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ)، وَقَالَ:(إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوْرَةُ لَا تَدْخُلُهُالْمَلَائِكَةُ). مُتَّفَقُّ عَلَيْهِ. قَالَ الْعَلَّامَةُ الْعَيْنِيُّ: فِيْهِ أَنَّهُ صلي الله عليه واله وسلم أَنَكَرَ عَلَى عَائِشَةَ حِيْنَ قَالَتْ: لِتَقْعُدَ عَلَيْهَاوَتَسَّدَهَا، فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى كَرَاهَةِ اسْتِعْمَالِ السِّئْرِ الَّذِيْ فِيْهِ الصُّوْرَةُ بَعْدَ أَنْ قُطِعَ وَعُمِلَتْمِنْهُ الْوِسَادَةُ، وَيُفْهَمُ مِنَ الْأَحَادِيْثِ الَّتِيْ قَبْلَهُ خِلَافُهُ، فَقُلْتُ: لَا تَعَارُضَ بَيْنَهُمَا أَصْلًا؛لِأَنَّهُ نَهَى الشَّارِعُ أَوَّلًا عَنِ الصُّوَرِ كُلِّهَا، ثُمَّ لَمَّا تَقَرَّرَ نَهْيُهُ عَنْ ذَلِكَ أَبَاحَ مَا يُمْتَهَنُ؛ لِأَنَّهُيُؤْمَنُ عَلَى الْجَاهِلِ تَعْظِيْمُ مَا يُمْتَهَنُ، وَبَقِيَ النَّهْيُ فِيْمَا لَا يُمْتَهَنُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5868
انہی سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک تکیہ خریدا جس میں چند تصاویر تھیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ملاحظہ فرمایا تو آپ دروازے پر کھڑے رہے اندر تشریف نہیں لائے، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر ناگواری کو پہچان لیا اور وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! میں اللہ اور اس کے رسول کی جناب میں توبہ کرتی ہوں۔ مجھ سے کیا قصور ہوا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس تکیہ کا کیا حال ہے۔ انہوں نے عرض کیا: میں نے اس کو آپﷺ کے لئے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر تشریف فرما ہوں اور اس پر ٹیک لگائیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان تصویر والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: جو تم نے بنایا ہے اس کو زندہ کرو۔ اور فرمایا: جس گھر میں تصویر ہوتی ہے اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2105 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

علامہ عینی نے کہا کہ اس میں یہ بات ہے کہ جب عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ آپ اس پر تشریف فرما ہوں اور اس پر ٹیک لگائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کر دیا۔ پس اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا پردہ جس میں تصویریں تھیں اس کو کاٹ کر تکیہ بنا لیا گیا تو اس کا استعمال بھی مکروہ ہے جب کہ گزری ہوئی احادیث سے اس کے برخلاف (جواز) معلوم ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ان دونوں کے درمیان بالکل تعارض نہیں ہے کیونکہ شارع علیہ السلام نے ابتداء میں تمام تصویروں سے منع فرمایا تھا۔ جب آپ کا ان سے منع کرنا راسخ ہو گیا تو ان تصاویر کو جو تحقیر کے مقام میں ہوں مباح قرار دیا کیونکہ اس میں اس بات کا اطمینان ہوتا ہے کہ نادان ایسی چیزوں کی تعظیم نہیں کریں گے جو اہانت کے مقام میں ہوں اب رہا وہ تصاویر جو اہانت کے مقام میں نہ ہوں ان کی ممانعت برقرار ہے۔