سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا: جس شخص نے داغ لیا1 یا دم کیا تو وہ توکل سے بری2 ہے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 2055 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 3489 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Note 1
Whoever cauterizes
(1) The statement: "Whoever cauterizes": Meaning excessively pursuing health measures to the point of cauterization without compelling necessity. Thus, in Al-Mirqat.
Note 2
has disavowed reliance
(2) The statement: "has disavowed reliance": Means of removing harm are divided into: certain, like water for thirst or bread for hunger; probable, like bloodletting, cupping, laxatives, or treating cold with heat and vice versa, which are evident medical means; and speculative, like cauterization and charms. For certain means, abandoning them is not reliance but forbidden if death is feared. For speculative means, reliance requires abandoning them, as the Prophet (ﷺ) described the reliant thus. For probable means, like evident medical treatments, using them does not negate reliance, unlike speculative means, and abandoning them is not forbidden, unlike certain means, but may be preferable in some cases or for some people, placing it between the two. Thus, in Al-Fusul Al-Imadiyyah, chapter 34, and Al-Alamgiriyyah.
Note 1
قوله
(١) قوله: من اكتوى: أي بالغ في أسباب الصحة إلى أن أكتوي من غير ضرورة ملجئة. كذا في (المرقاة).
Note 2
قوله
(٢) قوله: فقد برئ من التوكل: اعلم بأن الأسباب المزيلة للضرر تنقسم إلى مقطوع به، كالماء المزيل لضرر العطش،والخبز المزيل لضرر الجوع، وإلى مظنون كالفصد والحجامة وشرب المسهل، وسائر أبواب الطب، أعني معالجةالبرودة بالحرارة، ومعالجة الحرارة بالبرودة، وهي الأسباب الظاهرة في الطب، وإلى موهوم كالكي والرقية.وأما المقطوع به فليس تركه من التوكل، بل تركه حرام عند خوف الموت، وأما الموهوم فشرط التوكلتركه؛ إذ به وصف رسول اللّٰه صلي الله عليه واله وسلم المتوكلين، وأما الدرجةالمتوسطة وهو المظنونة، كالمداواة بالأسباب الظاهرةعند الأطباء، ففعله ليس مناقضا للتوكل، بخلاف الموهوم، وتركه ليس محظورا، بخلاف المقطوع به، بل قد يكونأفضل من فعله في بعض الأحوال، وفي حق بعض الأشخاص فهو على درجة بين الدرجتين. كذا في(الفصولالعمادية) في الفصل الرابع والثلاثين. كذا في(العالمكيرية).
Note 1
ابن قتیبہ نے کہا ہے کہ داغ کی دو قسمیں ہیں (1) تندرست آدمی کا داغ لینا تاکہ بیمار نہ ہواور
اس بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ داغ لینے والا توکل نہیں کیا کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ تقدیر کو دفع کرے اور
تقدیر دفع نہیں کی جاسکتی۔ دوسری قسم (2) جراح کا داغ لینا جب کوئی بیماری آئے یعنی فاسد مادّہ جمع
ہوجائے اور کوئی عضو کاٹ دیا جائے تو ایسی صورت میں داغ سے علاج کرنا مشروع ہے۔ اور شخص کسی
احتمال کی وجہ سے داغ دینا، تو یہ خلاف اولی ہے کیونکہ اس میں ایک غیر محقق کام کے لئے آگ سے
پیشگی تکلیف دینا ہے۔ اور ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی کام کا کرنا اس کے جواز پر دلالت کرتا
ہے اور کسی کام کا نہ کرنا منع پر دلالت نہیں کرتا بلکہ وہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کو نہ کرنا اس کو
کرنے کے مقابلہ میں قابل ترجیح ہے اور اب رہا اس سے جو منع کیا گیا ہے وہ یا تو کراہت تنزیہی کی
بناء پر ہے یا ایسی صورت سے متعلق ہے جس میں شفاء یقینی نہ ہو۔ (حاشیہ کوکب دری)
Note 2
1 قولہ: من اکتوی: (جس شخص نے داغ لیا) یعنی تندرستی کے اسباب کو اختیار کرنے میں اس قدر مبالغہ کیا کہ
شدید ضرورت کے بغیر داغ لیا۔ (مرقات)
2 قولہ: فقد برئ من التوکل (وہ توکل سے بری ہے) تم اس بات کو جانو کہ ضرر کو دور کرنے کے اسباب کی
چند قسمیں ہیں (1) ایک قطعی ہے جس کے بارے میں یقین کرسکتے ہیں جیسے پانی جو پیاس کی تکلیف کو دور کرتا
ہے اور روٹی جو بھوک کی تکلیف کو دور کرتی ہے اور (2) ظنی یعنی جس کے بارے میں گمان کیا جاسکتا ہے جیسے
فصد یعنی رگ کو کھولنا اور پچھنا لگانا اور جلاب کی دوا پینا اور دیگر طبّی علاجات، مثلاً سردی کا گرمی سے اور گرمی کا
سردی سے علاج کرنا اسی قسم سے ہیں اور یہ علاج معالجہ کے ظاہری اسباب ہیں (3) اور تیسری قسم موہوم ہے
جیسے داغ دینا اور دم کرنا ہے۔ اب رہا جو قسم قطعی ہے اس کو چھوڑنا توکل نہیں ہے بلکہ اس کو چھوڑنے سے موت
کا اندیشہ ہوتو اس کو چھوڑنا حرام ہے اور جو قسم موہوم ہے تو توکل کے لئے اس کو چھوڑنا شرط ہے کیونکہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو متوکلین کی صفت فرمایا ہے اب رہا درمیانی درجہ وہ جو ظنی ہے جیسے حضرات اطباء کا
اسباب ظاہری سے علاج کرنا تو اس کو اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے برخلاف اس قسم کے جو موہوم ہے۔
اور اس کو چھوڑنا بھی ممنوع نہیں ہے برخلاف اس قسم کے جو قطعی ہے۔ بلکہ بعض حالات میں اور بعض اشخاص
کے حق میں بھی اس کو چھوڑنا افضل ہوتا ہے اور اس کا درجہ دوسری دو قسموں کے درمیان میں ہے اور یہ کتاب
’’فصول عمادیہ‘‘ کی 34 ویں فصل میں ہے (عالمگیریہ)
1 قولہ: فابردوها بالماء (اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو) امام نووی نے کہا بردوھا بالماء تم اس کو پانی سے ٹھنڈا
کرو۔ اس میں اس کا طریقہ اور اس کی حالت کا کوئی بیان نہیں ہے۔ اور اطباء اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ
صفراوی بخار والے کو نہایت ٹھنڈا پانی پلا کر ٹھنڈا کیا جائے اور اس کو برف بھی پلاتے ہیں اور اس کے ہاتھ پیر کو
ٹھنڈے پانی سے دھوتے ہیں۔ یہ بات بعید نہیں ہے کہ آپ ﷺ کی مراد اسی قسم کا بخار اور اسی طرح کا دھونا ہو
جس طرح ان اطباء نے کہا ہے۔ پس اعتراض کرنے والے بے دین ملحد کے لئے سوائے اس کی کھری ہوئی
جھوٹ کے کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ (مرقات)
1 قوله: بما كان فى القرآن (قرآن میں جو ہے اس سے اور اللہ کے ذکر سے دم کرنے میں کوئی حرج
نہیں) یعنی قرآن مجید کی آیتوں اور اس کے حروف سے اور اسی طرح مطلق ذکر سے بھی وہ عربی زبان میں
ہو یا غیر عربی میں جب کہ اس کے معنی اچھے ہوں اور اسی طرح قرآن مجید یا غیر قرآن مجید کو کسی چیز پر لکھنا
اور اس کو دھو کر مریض کو پلانا بھی جائز ہے اور شفاء کی آیتیں جو قرآن مجید میں آئی ہیں۔ اور سارا قرآن مجید
شفاء ہے۔ اور اس باب میں سورۃ فاتحہ کی نہایت تاثیر ہے اور مجرب ہے، اب رہا وہ جس کے معنی معلوم نہ
ہوں اس طرح کہ الفاظ نادر ہوں اور معنی معلوم نہ ہو تو اس سے تعویذ کرنا جائز نہیں، کیونکہ ہوسکتا ہے وہ کفر یا
شرک کا ایسا کلمہ ہو جس کو اکثر تعویذ کرنے والے اور اس کو استعمال کرنے والے کرتے ہیں۔ مگر یہ کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کو پیش کیا گیا ہو اور آپ ﷺ نے اس کی اجازت دی ہو۔ اس بحث کی
مزید تفصیلات مدارج النبوۃ، مواہب لدنیہ اور اس کی شرح اور حصن حصین اور اس کی شرح میں ہے اور تعلیق
ممجد میں ہے۔
1 قولہ: عن النشرة الخ (نشرہ جاہلیت کے الفاظ سے) صاحب بذل المجهود نے کہا ہے اس سے مراد اہل جاہلیت کا
وہ خاص قسم کا جھاڑ پھونک کرنا مراد ہے جس کے ذریعہ سے وہ علاج کرتے اور سمجھتے تھے کہ ان کی بیماری سے وہ
شفاء دے گا اور اس میں شرکیہ الفاظ ہوتے تھے۔
1 قوله: الا تعلمين هذه رقية النملة (تم پھسلیوں پر ظاہر ہونے والی پھنسیوں نمل کی تعویذ کیوں نہیں سکھاتیں)
صاحب بذل المجہود نے کہا ہے کہ نملہ نون کو زیر اور میم کو سکون کے ساتھ ہے وہ پھنسیاں ہیں ایک پہلو یا دونوں
پہلوؤں میں نکلتی ہیں۔ اور رقية النملة پھسلیوں کے پھنسیوں کی تعویذ ایک کلام تھا جس کو عرب عورتیں استعمال
کرتی تھیں اور ہر سننے والا جانتا تھا کہ یہ کلام نہ ضرر پہنچاتا ہے اور نہ نقصان، اور اس تعویذ میں یوں کہا جاتا تھا۔
العروس تحتفل وتختضب وتكتحل و كل شيء تفعل غير ان لاتعصى الرجل (دلہن خوشی مناتی
ہے مہندی لگاتی ہے سرمہ لگاتی ہے اور ہر چیز کر سکتی ہے مگر وہ مرد کی نافرمانی نہیں کر سکتی)۔
2 قوله: كما علمتيها الكتابة (جس طرح تم نے ان کو لکھنا سکھایا) اس حدیث شریف میں دلیل ہے کہ
عورتوں کو لکھنا سکھانا جائز ہے اب رہا یہ حدیث شریف کہ ”لا تعلموهن الكتابة“ ”تم ان کو لکھنا مت سکھاؤ
تو یہ مجہول ہے ایسے آدمی کے بارے میں جو ان کو لکھنا سکھانے میں فساد کا اندیشہ کرتا ہے۔ (بذل المجہود)
1 قولہ: لا رقية الا من عين او حمة (تعویذ نہیں ہوتی مگر نظر کی وجہ سے یا ڈنک کے زہر سے) شرح السنہ
میں ہے کہ اس میں ان دونوں کے سوا باقی سے تعویذ کرنے کے جواز کی نفی مراد نہیں ہے بلکہ تمام بیماریوں میں
اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تعویذ کرنا جائز ہے۔ اور اس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں کے لئے تعویذ
سب سے زیادہ بہتر اور نافع ہے جیسا تم کہتے ہو لا فتى الا على لا سيف الا ذو الفقار (نوجوان تو علی رضی اللہ تعالیٰ
عنہ ہیں اور تلوار تو ذو الفقار ہے۔ (مرقات)
2 قولہ: رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم فى الرقية الخ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
اجازت دی تعویذ کرنے کی) علامہ تورپشتی نے کہا ہے کہ رخصت (کسی چیز کی اجازت دینا) اس کا تصور منع
کئے جانے کے بعد ہی ہوتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دم کرنے سے پہلے منع فرمائے تھے کیونکہ اس میں
جاہلیت کے زمانے کے الفاظ ہوتے تھے اس لئے لوگ دم کرنے سے رک گئے تھے۔ اور جب اس میں جاہلیت
کے الفاظ نہیں رہے تو آپ نے اس کی اجازت دے دی۔ (مرقات)
1 قولہ: فغسل له عامر (تو عامر نے ان کے لئے اپنے اعضاء کو دھویا) صاحب رد المحتار نے بھی اس کا ذکر کیا
ہے۔
1 قولہ: کان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول اذهب البأس الخ (اے لوگوں کے پروردگار تو
تکلیف کو دور کر دے) صاحب تعلیق مجد نے کہا ہے یہ دعائیں جو اس روایت میں آئی ہیں اور اس جیسی دوسری
دعائیں جو حدیث شریف کی کتابوں میں مذکور ہیں اور بہت سی دعائیں جو روحانی الٰہی علاجات کے بطور
صاحب مواہب وغیرہ نے جمع کیا بہت مفید ہیں بلکہ طبعی علاجات کا بھی اثر پوری طرح اس کے بغیر نہیں ہوتا
اور میں اس کا فائدہ اٹھایا ہوں اور مجھے متعدد مرتبہ مہلک بیماریاں لاحق ہوئی تھیں اطباء ان کے علاج سے عاجز
آگئے تھے تو میں ان دعاؤں کے ذریعہ علاج کیا تو ایسا ہو گیا کہ میں بندھن سے کھل گیا۔ اس پر اللہ کا شکر ہے
جس کا ایمان کامل ہو اور اعتقاد بھی اچھا ہو تو وہ بھی ایسا پائے گا جیسا میں پایا ہوں۔ (تعلیق مجد)
1 قولہ: فانه مستحب (تو وہ مستحب) تم اس بات کو جانو کہ تعویذ کی چند قسمیں ہیں ان میں سے بعض بزرگوں
سے منقول ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ پانی پر دم کرنے پھر مریض کا اس
سے علاج کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتی تھیں۔
2 قولہ: التميمة الخ (تعویذ) شمنی میں ابن اثیر سے منقول ہے کہ ”تمائم“ ”تميمة“ کی جمع ہے۔ وہ منکے
ہوتے تھے جن کو عرب اپنی اولاد پر لٹکایا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ اس کے ذریعہ نظر سے بچتے ہیں۔ تو اسلام
نے اس کو باطل کر دیا۔ حمٰی اور حافظہ کے بازو پر تعویذیں باندھنا، اس میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ وہ لپٹے
ہوئے ہوں۔ (ماخوذ از ردالمحتار)
3 قولہ: ما ابالى ما اتيت الخ (مجھے پروا نہیں جو میں کروں) ابن ملک نے کہا یعنی مجھ پر شطرنج کرنا حرام ہے
اور اسی طرح تریاق پینا اور تعویذیں لٹکانا دونوں مجھ پر حرام ہے۔
Commentary and footnotes (6)
Note 1
(1) The statement: "Whoever cauterizes": Meaning excessively pursuing health measures to the point of cauterization without compelling necessity. Thus, in Al-Mirqat.
Note 2
(2) The statement: "has disavowed reliance": Means of removing harm are divided into: certain, like water for thirst or bread for hunger; probable, like bloodletting, cupping, laxatives, or treating cold with heat and vice versa, which are evident medical means; and speculative, like cauterization and charms. For certain means, abandoning them is not reliance but forbidden if death is feared. For speculative means, reliance requires abandoning them, as the Prophet (ﷺ) described the reliant thus. For probable means, like evident medical treatments, using them does not negate reliance, unlike speculative means, and abandoning them is not forbidden, unlike certain means, but may be preferable in some cases or for some people, placing it between the two. Thus, in Al-Fusul Al-Imadiyyah, chapter 34, and Al-Alamgiriyyah.
Note 1
(١) قوله: من اكتوى: أي بالغ في أسباب الصحة إلى أن أكتوي من غير ضرورة ملجئة. كذا في (المرقاة).
Note 2
(٢) قوله: فقد برئ من التوكل: اعلم بأن الأسباب المزيلة للضرر تنقسم إلى مقطوع به، كالماء المزيل لضرر العطش،والخبز المزيل لضرر الجوع، وإلى مظنون كالفصد والحجامة وشرب المسهل، وسائر أبواب الطب، أعني معالجةالبرودة بالحرارة، ومعالجة الحرارة بالبرودة، وهي الأسباب الظاهرة في الطب، وإلى موهوم كالكي والرقية.وأما المقطوع به فليس تركه من التوكل، بل تركه حرام عند خوف الموت، وأما الموهوم فشرط التوكلتركه؛ إذ به وصف رسول اللّٰه صلي الله عليه واله وسلم المتوكلين، وأما الدرجةالمتوسطة وهو المظنونة، كالمداواة بالأسباب الظاهرةعند الأطباء، ففعله ليس مناقضا للتوكل، بخلاف الموهوم، وتركه ليس محظورا، بخلاف المقطوع به، بل قد يكونأفضل من فعله في بعض الأحوال، وفي حق بعض الأشخاص فهو على درجة بين الدرجتين. كذا في(الفصولالعمادية) في الفصل الرابع والثلاثين. كذا في(العالمكيرية).
Note 1
ابن قتیبہ نے کہا ہے کہ داغ کی دو قسمیں ہیں (1) تندرست آدمی کا داغ لینا تاکہ بیمار نہ ہواور اس بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ داغ لینے والا توکل نہیں کیا کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ تقدیر کو دفع کرے اور تقدیر دفع نہیں کی جاسکتی۔ دوسری قسم (2) جراح کا داغ لینا جب کوئی بیماری آئے یعنی فاسد مادّہ جمع ہوجائے اور کوئی عضو کاٹ دیا جائے تو ایسی صورت میں داغ سے علاج کرنا مشروع ہے۔ اور شخص کسی احتمال کی وجہ سے داغ دینا، تو یہ خلاف اولی ہے کیونکہ اس میں ایک غیر محقق کام کے لئے آگ سے پیشگی تکلیف دینا ہے۔ اور ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی کام کا کرنا اس کے جواز پر دلالت کرتا ہے اور کسی کام کا نہ کرنا منع پر دلالت نہیں کرتا بلکہ وہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کو نہ کرنا اس کو کرنے کے مقابلہ میں قابل ترجیح ہے اور اب رہا اس سے جو منع کیا گیا ہے وہ یا تو کراہت تنزیہی کی بناء پر ہے یا ایسی صورت سے متعلق ہے جس میں شفاء یقینی نہ ہو۔ (حاشیہ کوکب دری)
Note 2
1 قولہ: من اکتوی: (جس شخص نے داغ لیا) یعنی تندرستی کے اسباب کو اختیار کرنے میں اس قدر مبالغہ کیا کہ شدید ضرورت کے بغیر داغ لیا۔ (مرقات) 2 قولہ: فقد برئ من التوکل (وہ توکل سے بری ہے) تم اس بات کو جانو کہ ضرر کو دور کرنے کے اسباب کی چند قسمیں ہیں (1) ایک قطعی ہے جس کے بارے میں یقین کرسکتے ہیں جیسے پانی جو پیاس کی تکلیف کو دور کرتا ہے اور روٹی جو بھوک کی تکلیف کو دور کرتی ہے اور (2) ظنی یعنی جس کے بارے میں گمان کیا جاسکتا ہے جیسے فصد یعنی رگ کو کھولنا اور پچھنا لگانا اور جلاب کی دوا پینا اور دیگر طبّی علاجات، مثلاً سردی کا گرمی سے اور گرمی کا سردی سے علاج کرنا اسی قسم سے ہیں اور یہ علاج معالجہ کے ظاہری اسباب ہیں (3) اور تیسری قسم موہوم ہے جیسے داغ دینا اور دم کرنا ہے۔ اب رہا جو قسم قطعی ہے اس کو چھوڑنا توکل نہیں ہے بلکہ اس کو چھوڑنے سے موت کا اندیشہ ہوتو اس کو چھوڑنا حرام ہے اور جو قسم موہوم ہے تو توکل کے لئے اس کو چھوڑنا شرط ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو متوکلین کی صفت فرمایا ہے اب رہا درمیانی درجہ وہ جو ظنی ہے جیسے حضرات اطباء کا اسباب ظاہری سے علاج کرنا تو اس کو اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے برخلاف اس قسم کے جو موہوم ہے۔ اور اس کو چھوڑنا بھی ممنوع نہیں ہے برخلاف اس قسم کے جو قطعی ہے۔ بلکہ بعض حالات میں اور بعض اشخاص کے حق میں بھی اس کو چھوڑنا افضل ہوتا ہے اور اس کا درجہ دوسری دو قسموں کے درمیان میں ہے اور یہ کتاب ’’فصول عمادیہ‘‘ کی 34 ویں فصل میں ہے (عالمگیریہ) 1 قولہ: فابردوها بالماء (اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو) امام نووی نے کہا بردوھا بالماء تم اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔ اس میں اس کا طریقہ اور اس کی حالت کا کوئی بیان نہیں ہے۔ اور اطباء اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ صفراوی بخار والے کو نہایت ٹھنڈا پانی پلا کر ٹھنڈا کیا جائے اور اس کو برف بھی پلاتے ہیں اور اس کے ہاتھ پیر کو ٹھنڈے پانی سے دھوتے ہیں۔ یہ بات بعید نہیں ہے کہ آپ ﷺ کی مراد اسی قسم کا بخار اور اسی طرح کا دھونا ہو جس طرح ان اطباء نے کہا ہے۔ پس اعتراض کرنے والے بے دین ملحد کے لئے سوائے اس کی کھری ہوئی جھوٹ کے کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ (مرقات) 1 قوله: بما كان فى القرآن (قرآن میں جو ہے اس سے اور اللہ کے ذکر سے دم کرنے میں کوئی حرج نہیں) یعنی قرآن مجید کی آیتوں اور اس کے حروف سے اور اسی طرح مطلق ذکر سے بھی وہ عربی زبان میں ہو یا غیر عربی میں جب کہ اس کے معنی اچھے ہوں اور اسی طرح قرآن مجید یا غیر قرآن مجید کو کسی چیز پر لکھنا اور اس کو دھو کر مریض کو پلانا بھی جائز ہے اور شفاء کی آیتیں جو قرآن مجید میں آئی ہیں۔ اور سارا قرآن مجید شفاء ہے۔ اور اس باب میں سورۃ فاتحہ کی نہایت تاثیر ہے اور مجرب ہے، اب رہا وہ جس کے معنی معلوم نہ ہوں اس طرح کہ الفاظ نادر ہوں اور معنی معلوم نہ ہو تو اس سے تعویذ کرنا جائز نہیں، کیونکہ ہوسکتا ہے وہ کفر یا شرک کا ایسا کلمہ ہو جس کو اکثر تعویذ کرنے والے اور اس کو استعمال کرنے والے کرتے ہیں۔ مگر یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کو پیش کیا گیا ہو اور آپ ﷺ نے اس کی اجازت دی ہو۔ اس بحث کی مزید تفصیلات مدارج النبوۃ، مواہب لدنیہ اور اس کی شرح اور حصن حصین اور اس کی شرح میں ہے اور تعلیق ممجد میں ہے۔ 1 قولہ: عن النشرة الخ (نشرہ جاہلیت کے الفاظ سے) صاحب بذل المجهود نے کہا ہے اس سے مراد اہل جاہلیت کا وہ خاص قسم کا جھاڑ پھونک کرنا مراد ہے جس کے ذریعہ سے وہ علاج کرتے اور سمجھتے تھے کہ ان کی بیماری سے وہ شفاء دے گا اور اس میں شرکیہ الفاظ ہوتے تھے۔ 1 قوله: الا تعلمين هذه رقية النملة (تم پھسلیوں پر ظاہر ہونے والی پھنسیوں نمل کی تعویذ کیوں نہیں سکھاتیں) صاحب بذل المجہود نے کہا ہے کہ نملہ نون کو زیر اور میم کو سکون کے ساتھ ہے وہ پھنسیاں ہیں ایک پہلو یا دونوں پہلوؤں میں نکلتی ہیں۔ اور رقية النملة پھسلیوں کے پھنسیوں کی تعویذ ایک کلام تھا جس کو عرب عورتیں استعمال کرتی تھیں اور ہر سننے والا جانتا تھا کہ یہ کلام نہ ضرر پہنچاتا ہے اور نہ نقصان، اور اس تعویذ میں یوں کہا جاتا تھا۔ العروس تحتفل وتختضب وتكتحل و كل شيء تفعل غير ان لاتعصى الرجل (دلہن خوشی مناتی ہے مہندی لگاتی ہے سرمہ لگاتی ہے اور ہر چیز کر سکتی ہے مگر وہ مرد کی نافرمانی نہیں کر سکتی)۔ 2 قوله: كما علمتيها الكتابة (جس طرح تم نے ان کو لکھنا سکھایا) اس حدیث شریف میں دلیل ہے کہ عورتوں کو لکھنا سکھانا جائز ہے اب رہا یہ حدیث شریف کہ ”لا تعلموهن الكتابة“ ”تم ان کو لکھنا مت سکھاؤ تو یہ مجہول ہے ایسے آدمی کے بارے میں جو ان کو لکھنا سکھانے میں فساد کا اندیشہ کرتا ہے۔ (بذل المجہود) 1 قولہ: لا رقية الا من عين او حمة (تعویذ نہیں ہوتی مگر نظر کی وجہ سے یا ڈنک کے زہر سے) شرح السنہ میں ہے کہ اس میں ان دونوں کے سوا باقی سے تعویذ کرنے کے جواز کی نفی مراد نہیں ہے بلکہ تمام بیماریوں میں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تعویذ کرنا جائز ہے۔ اور اس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں کے لئے تعویذ سب سے زیادہ بہتر اور نافع ہے جیسا تم کہتے ہو لا فتى الا على لا سيف الا ذو الفقار (نوجوان تو علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں اور تلوار تو ذو الفقار ہے۔ (مرقات) 2 قولہ: رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم فى الرقية الخ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تعویذ کرنے کی) علامہ تورپشتی نے کہا ہے کہ رخصت (کسی چیز کی اجازت دینا) اس کا تصور منع کئے جانے کے بعد ہی ہوتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دم کرنے سے پہلے منع فرمائے تھے کیونکہ اس میں جاہلیت کے زمانے کے الفاظ ہوتے تھے اس لئے لوگ دم کرنے سے رک گئے تھے۔ اور جب اس میں جاہلیت کے الفاظ نہیں رہے تو آپ نے اس کی اجازت دے دی۔ (مرقات) 1 قولہ: فغسل له عامر (تو عامر نے ان کے لئے اپنے اعضاء کو دھویا) صاحب رد المحتار نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ 1 قولہ: کان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول اذهب البأس الخ (اے لوگوں کے پروردگار تو تکلیف کو دور کر دے) صاحب تعلیق مجد نے کہا ہے یہ دعائیں جو اس روایت میں آئی ہیں اور اس جیسی دوسری دعائیں جو حدیث شریف کی کتابوں میں مذکور ہیں اور بہت سی دعائیں جو روحانی الٰہی علاجات کے بطور صاحب مواہب وغیرہ نے جمع کیا بہت مفید ہیں بلکہ طبعی علاجات کا بھی اثر پوری طرح اس کے بغیر نہیں ہوتا اور میں اس کا فائدہ اٹھایا ہوں اور مجھے متعدد مرتبہ مہلک بیماریاں لاحق ہوئی تھیں اطباء ان کے علاج سے عاجز آگئے تھے تو میں ان دعاؤں کے ذریعہ علاج کیا تو ایسا ہو گیا کہ میں بندھن سے کھل گیا۔ اس پر اللہ کا شکر ہے جس کا ایمان کامل ہو اور اعتقاد بھی اچھا ہو تو وہ بھی ایسا پائے گا جیسا میں پایا ہوں۔ (تعلیق مجد) 1 قولہ: فانه مستحب (تو وہ مستحب) تم اس بات کو جانو کہ تعویذ کی چند قسمیں ہیں ان میں سے بعض بزرگوں سے منقول ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ پانی پر دم کرنے پھر مریض کا اس سے علاج کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتی تھیں۔ 2 قولہ: التميمة الخ (تعویذ) شمنی میں ابن اثیر سے منقول ہے کہ ”تمائم“ ”تميمة“ کی جمع ہے۔ وہ منکے ہوتے تھے جن کو عرب اپنی اولاد پر لٹکایا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ اس کے ذریعہ نظر سے بچتے ہیں۔ تو اسلام نے اس کو باطل کر دیا۔ حمٰی اور حافظہ کے بازو پر تعویذیں باندھنا، اس میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ وہ لپٹے ہوئے ہوں۔ (ماخوذ از ردالمحتار) 3 قولہ: ما ابالى ما اتيت الخ (مجھے پروا نہیں جو میں کروں) ابن ملک نے کہا یعنی مجھ پر شطرنج کرنا حرام ہے اور اسی طرح تریاق پینا اور تعویذیں لٹکانا دونوں مجھ پر حرام ہے۔