اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 5978
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
کے انصار صحابہ میں سے ایک صاحب نے خبر دی ہے کہ وہ سب ایک رات اس اثناء میں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ایک ستارہ ٹوٹا اور روشنی پھیلی، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم جاہلیت میں جب اس جیسا ستارہ ٹوٹتا تو کیا کہتے تھے؟ انہوں نے عرض
کیا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں ہم کہتے تھے آج رات ایک بڑا آدمی پیدا
ہوا اور ایک بڑے آدمی کی موت واقع ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہ کسی کی
موت کی وجہ سے وہ ٹوٹتا ہے اور نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے لیکن ہمارا رب جس کا نام بابرکت ہے
جب کسی امر کا فیصلہ فرماتا ہے تو حاملین عرش تسبیح کرتے ہیں پھر ان سے متصل آسمان والے تسبیح
کرتے ہیں یہاں تک کہ تسبیح اس آسمان دنیا والوں تک پہنچ جاتی ہے پھر حاملین عرش سے قریب
والے ہیں حاملین عرش سے پوچھتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ تو جو اس نے فرمایا ہے وہ ان کو
بتلاتے ہیں پھر آسمانوں والے بعض فرشتے بعض سے دریافت کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس آسمان
دنیا تک پہنچ جاتی ہے تو جنات اس سنی ہوئی بات کو اچک لیتے ہیں اور اپنے دوستوں کی طرف ڈال
دیتے ہیں تو یہ لوگ اس کے مطابق بیان کریں تو وہ صحیح ہے۔ لیکن یہ لوگ جھوٹی باتیں شامل کرتے اور
اضافہ کر دیتے ہیں۔ (مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2229a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.