Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Etiquette

Hadith 4491

Chapter on Greeting

In this book

Current reading

Etiquette

Chapter on Greeting

Zujajat al-Masabih 4491Volume 4

English

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: “A group of Jews sought permission to meet the Prophet (ﷺ) and said, ‘As-Sam ‘alaykum (Death be upon you).’ I said, ‘Rather, upon you be death and the curse!’ He said, ‘O Aisha, indeed Allah is gentle and loves gentleness in all matters.’ I said, ‘Did you not hear what they said?’ He replied, ‘I said, “And upon you.”’” In another narration: “Upon you,” without mentioning the conjunction “and.” [Agreed Upon] In a narration by Bukhari, she said: “The Jews came to the Prophet (ﷺ) and said, ‘As-Sam ‘alaykum.’ He said, ‘And upon you.’ Aisha said, ‘Death be upon you, and may Allah curse you and be angry with you.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said, ‘Take it easy, O Aisha, practice gentleness and beware of harshness or obscenity.’ She said, ‘Did you not hear what they said?’ He said, ‘Did you not hear what I said? I responded to them, and my response against them is accepted, while theirs against me is not.’” In a narration by Muslim, he said: “Do not be obscene, for indeed Allah does not love obscenity or indecency.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٤٩١ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ رَهْطُ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقُلْتُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ»، قُلْتُ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوْا ؟ قَالَ: «قَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ». وَفِي رِوَايَةٍ: عَلَيْكُمْ» وَلَمْ يَذْكُرْ الْوَاوَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: قَالَتْ: إِنَّ الْيَهُودَ أَتَوُا النَّبِيَّ ﷺ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ، وَقَالَ: وَعَلَيْكُمْ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ : السَّامُ عَلَيْكُمْ وَلَعَنَكُمُ اللهُ وَغَضِبَ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «مَهْلًا يَا عَائِشَةُ عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ، وَإِيَّاكِ وَالْعُنْفَ أَوْ الْفُحْشَ»، قَالَتْ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوْا؟ قَالَ: «أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ؟ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ، فَيُسْتَجَابُ لِي فِيهِمْ، وَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِي. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: قَالَ: «لَا تَكُوْنِي فَاحِشَةً؛ فَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُشَ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6044Noor 6045Noor 6046Noor 6047
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں: کہ یہودیوں کی ایک جماعت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حاضر ہونے کی اجازت طلب کی اور کہا: ”السّام عليكم“ (تم پر موت ہو) تو میں نے کہا: بلکہ تم پر موت ہو اور لعنت ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ رضی اللہ عنہا! اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے اور ہر کام میں نرمی کرنے کو پسند کرتا ہے، تو میں نے عرض کیا: کیا آپ نے نہیں سنا جو کچھ انہوں نے کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے ”وعليكم“ (اور تم پر ہو) کہہ دیا ہے۔ اور ایک روایت میں عليكم ہے (تم پر ہی ہو) واو کا ذکر نہیں ہے۔ (متفق علیہ)۔ اور بخاری کی روایت میں ہے وہ کہتی ہیں: کہ یہودی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور بولے: ”السّام عليك“ (تم پر موت ہو) حضورﷺ (نے جواب میں فرمایا) ”وعليكم“، پس عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”السّام عليكم......“ تم پر موت ہو تم پر اللہ کی لعنت ہو اور تم پر اس کا غضب ہو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو، اے عائشہ! تم نرمی اختیار کرو، سختی سے اور سخت کلام کرنے سے بچو تو انہوں نے عرض کیا: کیا آپ نے نہیں سنا جو کچھ انہوں نے کہا ہے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے نہیں سنا جو میں نے کہا ہے، میں نے ان پر لوٹا دیا ہے، پس میری بات ان کے بارے میں قبول کر لی جاتی ہے اور ان کی بات میرے بارے میں قبول نہیں کی جائے گی۔ مسلم شریف کی روایت میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم سخت کلام کرنے والی مت بنو، کیونکہ اللہ تعالیٰ سخت کلامی پسند نہیں کرتا تکلفاً بھی ہو تو پسند نہیں کرتا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6256 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2165a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.