Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Etiquette

Hadith 4633

بَابُ حِفْظِ اللِّسَانِ وَالْغِيبَةِ وَالشَّتْمِ ختم ہوا

In this book

Current reading

Etiquette

بَابُ حِفْظِ اللِّسَانِ وَالْغِيبَةِ وَالشَّتْمِ ختم ہوا

Zujajat al-Masabih 4633Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6214
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، پھر انہوں نے ایک طویل حدیث بیان کی یہاں تک کہ کہا: میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے کچھ نصیحت کیجئے، آپ نے فرمایا: میں تم کو اللہ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ وہ زیادہ زینت دینے والا ہے تیرے تمام معاملات کو، میں نے عرض کیا: آپ مجھے مزید نصیحت فرمائیں، آپ نے ارشاد فرمایا: تو قرآن مجید کی تلاوت اور اللہ بزرگ و برتر کے ذکر کو لازم کر لے کیونکہ وہ آسمان میں تیرے لئے ذکر ہے اور زمین میں تیرے لئے نور ہے۔ میں نے عرض کیا: میرے لئے اس پر اضافہ فرمایئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو طویل خاموشی کو لازم کر لے کیونکہ وہ شیطان کو بھگانے کا ذریعہ ہے اور دین کے معاملہ میں تیرے لئے مدد ہے، میں نے عرض کیا: اور اضافہ فرمایئے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم زیادہ ہنسی سے بچو، کیونکہ وہ دل کو مردہ کر دیتی ہے اور تیرے چہرے کے نور کو دور کر دیتی ہے، میں نے عرض کیا: میرے لئے اس پر اضافہ فرمائیں، آپ ﷺ نے فرمایا تم حق بات بولا کر اگرچہ وہ کڑوی ہو، میں نے عرض کیا: میرے لئے اس پر اور اضافہ فرمائیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے مت ڈرو، میں نے عرض کیا: آپ میرے لئے اس میں اور اضافہ فرمائیں، آپ نے فرمایا: تیرے عیوب جس کو تو جانتا1 ہے لوگوں کے برائیاں سے روک دیں۔ (بیہقی شعب الایمان)۔

[Narrated by Al-Bayhaqi in Shu’ab Al-Iman]

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Let what you know of your own faults prevent you from [focusing on] the faults of others

(1) His statement: “Let what you know of your own faults prevent you from [focusing on] the faults of others”: meaning, let your awareness of your own shortcomings deter you from focusing on others’ flaws, as narrated by Anas, reported by Ad-Daylami: “Blessed is the one whose own faults preoccupy him from the faults of others.” (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: ليحجزك إلخ : أي ليمنعك عن الناس، أي ليمنعك عن الناس، أي عيوبهم ما تعلم من نفسك، أي من عيوبها، كما ورد عن أنس أخرجه الديلمي : طوبى لمن شغله عيبه عن عيوب الناس. كذا في «المرقاة».