اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6214
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، پھر انہوں نے ایک طویل حدیث بیان
کی یہاں تک کہ کہا: میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے کچھ نصیحت کیجئے، آپ
نے فرمایا: میں تم کو اللہ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ وہ زیادہ زینت دینے والا ہے تیرے
تمام معاملات کو، میں نے عرض کیا: آپ مجھے مزید نصیحت فرمائیں، آپ نے ارشاد فرمایا:
تو قرآن مجید کی تلاوت اور اللہ بزرگ و برتر کے ذکر کو لازم کر لے کیونکہ وہ آسمان میں تیرے
لئے ذکر ہے اور زمین میں تیرے لئے نور ہے۔ میں نے عرض کیا: میرے لئے اس پر اضافہ
فرمایئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو طویل خاموشی کو لازم کر لے کیونکہ وہ شیطان
کو بھگانے کا ذریعہ ہے اور دین کے معاملہ میں تیرے لئے مدد ہے، میں نے عرض کیا: اور اضافہ
فرمایئے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم زیادہ ہنسی سے بچو، کیونکہ وہ دل کو مردہ کر دیتی ہے
اور تیرے چہرے کے نور کو دور کر دیتی ہے، میں نے عرض کیا: میرے لئے اس پر اضافہ فرمائیں،
آپ ﷺ نے فرمایا تم حق بات بولا کر اگرچہ وہ کڑوی ہو، میں نے عرض کیا: میرے لئے اس پر اور
اضافہ فرمائیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے
مت ڈرو، میں نے عرض کیا: آپ میرے لئے اس میں اور اضافہ فرمائیں، آپ نے فرمایا: تیرے
عیوب جس کو تو جانتا1 ہے لوگوں کے برائیاں سے روک دیں۔ (بیہقی شعب الایمان)۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: “Let what you know of your own faults prevent you from [focusing on] the faults of others”: meaning, let your awareness of your own shortcomings deter you from focusing on others’ flaws, as narrated by Anas, reported by Ad-Daylami: “Blessed is the one whose own faults preoccupy him from the faults of others.” (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: ليحجزك إلخ : أي ليمنعك عن الناس، أي ليمنعك عن الناس، أي عيوبهم ما تعلم من نفسك، أي من عيوبها، كما ورد عن أنس أخرجه الديلمي : طوبى لمن شغله عيبه عن عيوب الناس. كذا في «المرقاة».