اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6239
سیدنا جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک بدوی
آیا اور اپنی سواری کو بٹھایا پھر اس کو باندھ دیا پھر مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے
نماز پڑھا، اور جب سلام پھیرا تو اپنی سواری کے پاس آیا اور اس کو کھول دیا اور سوار ہو گیا، پھر وہ بلند آواز
سے کہا: اے اللہ تو مجھ پر اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما اور ہماری رحمت میں کسی دوسرے کو
شریک مت کر، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم بول سکتے ہو کہ یہ زیادہ نادان2 ہے یا اس کا
اونٹ: کیا تم نے نہیں سنا اس بات کو جو اس نے کہی، تو صحابہ نے کہا: ہاں۔ (ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 4885 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: “he is more misguided than his camel…”: meaning, only an ignorant person would say this, unaware of Allah’s vast mercy, restricting what is boundless. In Al-Jazari’s Al-Hisn, it is said: Among the etiquettes of supplication is not to restrict it. [As stated in Al-Mirqat]
Note 1
(۱) قوله: هو أضل أم بعيره إلخ يعني لا يقول ما قال إلا جاهل بالله وسعة رحمته حيث يحجر الواسع. وفي «الحصن» للجزري: ومن جملة آداب الدعاء أن لا يتحجر. كذا في «المرقاة».