اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6307
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: میں جنت میں گیا تو میں نے اس میں قراءت سنی تو میں نے کہا یہ کون ہیں؟ تو فرشتوں نے
کہا: یہ حارثہ بن نعمان ہیں، ماں باپ کے ساتھ نیکی ایسی ہوتی ہے،1 ماں باپ کے ساتھ نیکی ایسی ہوتی
اور وہ اپنی ماں کے ساتھ سب سے زیادہ نیکی کرنے والے تھے۔ (شرح السنہ، بیہقی شعب الایمان)۔
اور ان کی ایک روایت میں ہے آپ نے فرمایا: میں سوگیا تو اپنے آپ کو جنت میں دیکھا یعنی
”دخلت الجنة“ کے بجائے ”نمت فرأيتني“ کے الفاظ آئے ہیں۔ (بیہقی)۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: “Such is righteousness”: Al-Tayyibi said: This refers to what preceded, addressed to the companions. He saw this vision and recounted it to his companions; when he reached “Harithah ibn An-Nu’man,” he alerted them to the reason for attaining that rank, saying: “Such is righteousness,” meaning such a rank is attained through righteousness. His statement: “he was the most righteous to his mother” is from the narrator. [Extracted from Al-Mirqat]
Note 1
(۱) قوله: كذلكم البر : قال الطيبي: المشار إليه ما سبق والمخاطبون الصحابة؛ فإنه رأى هذه الرؤيا وقص على أصحابه، فلما بلغ إلى قوله: حارثة بن النعمان نبههم على سبب نيل تلك الدرجة، فقال: كذلكم البر أي مثل تلك الدرجة تنال بسبب البر. وقوله : وكان أبر الناس بأمه هذا من كلام الراوي. التقطته من «المرقاة».