اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6452
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ نے عقل کو پیدا کیا3تو اس سے
کہا: کھڑی ہوجا تو وہ کھڑی ہوگئی، پھر اس سے کہا: پیچھے جا تو وہ پیچھے گئی، پھر اس سے کہا: آگے آ، تو آگے
آگئی، پھر اس سے کہا: بیٹھ جا تو وہ بیٹھ گئی، پھر اس سے فرمایا: میں نے تجھ سے بہتر، تجھ سے بڑھ کر
فضیلت والی اور تجھ سے زیادہ اچھی کسی مخلوق کو پیدا نہیں کیا، تیرے ہی سبب گرفت کروں 1 گا اور
تیرے ہی سبب عطا کروں گا اور تیرے ہی ذریعہ میری معرفت ہوگی اور تیرے ہی سبب سرزنش کروں
گا اور تیرے ہی سبب ثواب ہے اور تیرے ہی بناء پر عتاب ہوگا۔ (بیہقی: شعب الایمان)۔
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement: “When Allah created intellect, etc.”: The relevance of mentioning this Hadith in the chapter on caution and deliberation in matters is clear from the outcomes of intellect. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: “Through you I take, etc.”: In Nur al-Anwar, it is said: “There is disagreement regarding the consideration of intellect. The Ash’arites said: Intellect has no weight without revelation, and when revelation comes, it takes precedence over intellect. Thus, good and evil, obligation, and prohibition are not understood through intellect. The faith of a rational child is not valid due to the absence of scriptural evidence, as per the saying of Allah: ‘And We do not punish until We send a messenger’ (Al-Isra: 15). The Mu’tazilites said: Intellect is the decisive cause for what it deems good and prohibits what it deems evil, above scriptural reasons, because scriptural reasons are mere indicators, not inherently binding, whereas rational reasons are inherently binding and not subject to abrogation. Thus, they did not accept through scripture what intellect cannot grasp, such as the vision of Allah, the torment of the grave, the balance, the bridge, and most matters of the Hereafter. They relied on the story of Ibrahim, who said to his father: ‘Indeed, I see you and your people in manifest error’ (Al-An’am: 74), which was based on intellect before revelation, as he said ‘I see’ and not ‘It was revealed to me.’ They said: There is no excuse for one who has intellect to refrain from seeking or abandoning faith. A rational child is obligated to have faith due to his intellect, even without revelation. One who grows up in isolation, like on a mountain peak, and neither believes nor disbelieves, is among the people of Hell due to the obligation of faith by intellect alone. In religious laws, he is excused until the proof is established against him. This is narrated from Abu Hanifah and Sheikh Abu Mansur. Thus, there is no difference between us and the Mu’tazilites except in derivation: they say intellect is binding, while we say it is a means of recognition, meaning the Shari’ah is binding, and intellect recognizes the rulings of the Shari’ah.” (As stated in Qamar al-Aqmar) However, the correct view from Sheikh Abu Mansur and the school of Abu Hanifah (may Allah have mercy on them) is what the author stated: “We say that one who has not received the call is not obligated by intellect alone. If he neither believes nor disbelieves, he is excused if he did not have time to reflect and deduce. But if Allah grants him experience and time to realize consequences, he is not excused, even if the call did not reach him, because time and reflection are like the call in awakening the heart from heedlessness through observing clear signs. There is no reliable evidence for the duration of this time, as it varies among individuals. Some rational people are guided quickly, while others are not. Its estimation is left to Allah. It is said to be three days, based on the time given to an apostate, but this is weak. The Ash’arites say: If one neglects belief until death or believes in idolatry without receiving the call, he is excused because the criterion for them is revelation, which is absent. Thus, killing such a person incurs liability, as his disbelief is excused. But killing him is forbidden before the call. The faith of a rational child is valid for us, though not obligatory, as obligation comes from divine address, which is lifted from him, as the Prophet said: ‘The pen is lifted from three: the child until he reaches puberty, the insane until he recovers, and the sleeper until he awakens.’”
Note 1
(۱) قوله : لما خلق الله العقل إلخ : ووجه ذكر هذا الحديث في باب الحذر والتأني في الأمور ظاهر من نتائج العقل. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: بك أخذ إلخ: قال في نور الأنوار»: اختلفوا في اعتبار العقل وعدمه، فقالت الأشعرية: لا عبرة للعقل دون السمع، وإذا جاء السمع فله العبرة دون العقل، فلا يفهم حسن شيء وقبحه وإيجابه وتحريمه به، ولا يصح إيمان صبي عاقل؛ لعدم ورود الشرع به، وهو قول الشافعي ، واحتجوا بقوله تعالى: ﴿وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا (الإسراء : (۱۵). وقالت المعتزلة: إنه علة موجبة لما استحسنه، ومحرمة لما استقبحه على القطع والثبات فوق العلل الشرعية؛ لأن العلل الشرعية أمارات ليست موجبة لذاتها، والعلل العقلية موجبة بنفسها، وغير قابلة للنسخ والتبديل، فلم يثبتوا بدليل الشرع ما لا يدركه العقل، مثل رؤية الله تعالى وعذاب القبر والميزان والصراط وعامة أحوال الآخرة، وتمسكوا في ذلك بقصة إبراهيم عليها، حيث قال لأبيه: إنّي أَرَتَكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴾ (الأنعام: ٧٤)، وكان هذا القول بالعقل قبل الوحي؛ لأنه قال: «أراك». ولم يقل: «أوحي إلي». وقالوا: لا عذر لمن عقل في الوقف عن الطلب وترك الإيمان، والصبي العاقل مكلف بالإيمان لأجل عقله، وإن لم يرد عليه السمع، ومن لم تبلغه الدعوة بأن نشأ على شاهق الجبل إذا لم يعتقد إيمانا ولا كفرا، كان من أهل النار؛ لوجوب الإيمان بمجرد العقل، وأما في الشرائع فمعذور، حتى تقوم عليه الحجة. وهذا مروي عن أبي حنيفة بالله وعن الشيخ أبي منصور الله أيضًا، وحينئذ لا فرق بيننا وبين المعتزلة إلا في التخريج، وهو أن العقل موجب عندهم ومعرف عندنا، يعني أن الموجب هو الشرع والعقل معرف للأحكام الشرعية. «قمر الأقمار». ولكن الصحيح من قول الشيخ أبي منصور ومذهب أبي حنيفة رحمهما الله تعالى ما ذكره المصنف بقوله: «نحن نقول في الذي لم تبلغه الدعوة أنه غير مكلف بمجرد العقل، فإذا لم يعتقد إيمانا ولا كفرا، كان معذورا إذا لم يصادف مدة يتمكن فيها من التأمل والاستدلال، وإذا أعانه الله تعالى بالتجربة وأمهله لدرك العواقب لم يكن معذورا، وإن لم تبلغه الدعوة؛ لأن الإمهال وإدراك مدة التأمل بمنزلة الدعوة في تنبيه القلب عن نوم الغفلة بالنظر في الآيات الظاهرة، وليس على حد الإمهال دليل يعتمد؛ لأنه يختلف باختلاف الأشخاص، فرب عاقل يهتدي في زمان قليل إلى ما لا يهتدي غيره، فيفوض تقديره إلى الله تعالى. وقيل: إنه مقدر بثلاثة أيام اعتبارًا بإمهال المرتد، وهو ضعيف. وعند الأشعرية إن غفل عن الاعتقاد حتى هلك، أو اعتقد الشرك، ولم تبلغه الدعوة كان معذورا؛ لأن المعتبر عندهم هو السمع ولم يوجد، ولهذا من قتل مثل هذا الشخص ضمن؛ لأن كفره معفو عندنا لم يضمن، وإن كان قتله حراما قبل الدعوة، ولا يصح إيمان الصبي العاقل عندهم، وعندنا يصح وإن لم يكن مكلفا به؛ لأن الوجوب بالخطاب، وهو ساقط عنه؛ لقوله: رفع القلم عن ثلاث عن الصبي حتى يحتلم، وعن المجنون حتى يفيق، وعن النائم حتى ييستيقظ».
Note 1
1 قولہ: بک آخذ (تیرے ہی سبب گرفت کروں گا) نور الانوار میں مذکور ہے کہ عقل کا اعتبار کرنے اور نہ کرنے کے بارے میں اختلاف ہے۔ چنانچہ اشعریہ کہتے ہیں: سمع کے بغیر عقل کا کوئی اعتبار نہیں اور جب سمع آئے تو اعتبار اسی کا ہوگا نہ کہ عقل کا۔ لہٰذا کسی چیز کا اچھا یا برا ہونا، اس کا واجب اور حرام ہونا، اسکے ذریعہ میں سمجھا جائیگا، اور عاقل لڑکے کا ایمان اسکے بارے میں شرع وارد نہ ہونے کی بناء پر صحیح نہ ہوگا اور یہ امام شافعی علیہ الرحمہ کا قول ہے، انہوں نے اللہ تعالیٰ کے قول وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُولًا کو حجت بنایا ہے، اور معتزلہ کہتے ہیں: کہ وہ (عقل) ایسی علت جو شئی علتوں سے بڑھ کر قطعی و یقینی طور پر جس کو وہ اچھا جانے واجب اور جس کو وہ برا جانے حرام کرنے والی ہے، کیونکہ علل شرعیہ علامات ہیں جو بالذات موجب نہیں ہیں اور علل عقلیہ بذات خود موجب اور ناقابل نسخ و تبدیل ہیں۔ لہٰذا وہ دلیل شرعی کے ذریعہ اس چیز کو ثابت نہیں کرتے جس کا عقل ادراک نہ کرسکتی ہو مثلاً اللہ تعالیٰ کی رؤیت، عذاب قبر، میزان، پل صراط اور آخرت کے عمومی احوال، اور انہوں نے اس بارے میں ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ سے استدلال کیا ہے۔ آپ علیہ السلام نے اپنے والد سے کہا: (إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ*) (میں دیکھتا ہوں کہ تم اور تمہاری قوم کھلی گمراہی میں بتلائے) اور یہ قول وحی سے پہلے عقل کے ذریعہ تھا اسی لئے آپ نے ”اراک“ (میں دیکھ رہا ہوں) فرمایا: ”اوحی الی“ (میری طرف وحی کی گئی ہے) نہیں فرمایا: اور وہ کہتے ہیں: صاحب عقل کے لئے طلب سے رکنے اور ایمان کے ترک کرنے میں کوئی عذر نہیں ہے، اور عاقل پر اپنی عقل کی وجہ سے ایمان کا مکلف ہے اگرچہ اس کو دلیل سمع نہ پہنچی ہو، اور جس کو دعوت نہ پہنچے اس طرح سے کہ وہ پہاڑ کی چوٹی پر پرورش پایا ہو، اگر وہ ایمان کا اعتقاد نہ رکھے اور نہ ہی کفر کا تو محض عقل کی وجہ سے ایمان واجب ہونے کی بناء پر وہ دوزخی ہوگا۔ اب رہا احکام شرعیہ کے معاملے میں تو وہ معذور ہے، یہاں تک کہ اسکے خلاف حجت قائم ہوجائے، اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ اور شیخ ابو منصور رحمہ اللہ تعالیٰ سے بھی یہی منقول ہے۔ اور ایسی صورت میں ہمارے اور معتزلہ کے درمیان سوائے طریق تخریج کے اور کوئی فرق نہ ہوگا، وہ یہ کہ عقل انکے نزدیک موجب ہے اور ہمارے پاس معرف ہے (معنی موجب تو شرعی ہی ہے اور عقل احکام کے معرف کا ذریعہ ہے) (قمر الاقمار) مگر شیخ ابو منصور اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کا صحیح قول و مذہب وہ ہے جسکو مصنف نے اپنے اس قول سے ذکر فرمایا ہے: جس شخص کو دعوت نہ پہنچی ہو اسکے بارے میں ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ محض عقل کی بناء پر مکلف نہیں ہے لہٰذا اگر وہ ایمان کا اعتقاد نہ رکھے اور نہ ہی کفر کا تو وہ معذور ہوگا کیونکہ وہ اتنا عرصہ بھی نہیں پایا کہ جس میں وہ غور و فکر اور استدلال کرسکے اور جب تجربہ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی ایسی مدح و ثناء اور نتائج کے حصول کی اسکو مہلت دے، تب وہ معذور نہیں رہیگا اگرچہ اسکو دعوت نہ پہنچی ہو۔ اس لئے کہ مہلت دینا اور غور و تامل کی مدت کا پایا جانا ظاہری نشانیوں میں غور و فکر کے ذریعہ دل کو غفلت کی نیند سے بیدار کرنے میں دعوت کے قائم مقام ہے، اور مہلت کی مدت پر کوئی قابل اعتماد دلیل نہیں ہے اس لئے کہ وہ مختلف اشخاص کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے۔ اس وجہ سے بہت سے عقل مند مختصر عرصہ میں اس چیز کی راہ پاتے ہیں جسکی دوسرے نہیں پاتے، لہٰذا اسکی تعیین اللہ تعالیٰ کے حوالہ کردی جائے۔ اور کہا گیا کہ مردہ کی مہلت کا لحاظ کرتے ہوئے اسکی مدت 3 دن مانی گئی ہے اور وہ ضعیف ہے، اور اشعریہ کے نزدیک وہ اعتقاد سے غافل رہے حتی کہ ہلاک ہوجائے یا شرک کا اعتقاد رکھے اور اسکو دعوت نہ پہنچی ہو تو وہ معذور ہوگا کیونکہ ان کے پاس اعتبار دلیل نقلی کا ہے اور وہ نہیں پائی گئی لہٰذا اگر کوئی اس جیسے شخص کو قتل کردے تو وہ ضامن ہوگا کیونکہ اسکا کفر معاف ہے۔ اور ہمارے نزدیک وہ ضامن نہیں ہے اگرچہ دعوت سے قبل اسکو قتل کرنا حرام ہے۔ اور انکے پاس عقل مند بچے کا ایمان درست نہیں ہے اور ہمارے پاس درست ہے اگرچہ کہ وہ بلا مکلف نہیں ہے کیونکہ وجوب خطاب سے ثابت ہوتا ہے اور یہ وجوب اس سے ساقط ہے۔ اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رفع القلم عن ثلاث عن الصبي حتى يحتلم وعن المجنون حتى يفيق وعن النائم حتى يستيقظ (تین اشخاص پر مرفوع القلم ہیں بچہ یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے، دیوانہ یہاں تک کہ وہ افاقہ پاجائے، اور سونے والا یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے۔ 1 قوله: لا عقل كالتدبير (کوئی عقل تدبیر کے مانند نہیں ہے) تو اسکے معنی یہ ہیں کہ کوئی عقل تدبیر والی عقل کی طرح نہیں یعنی اس عقل کے مانند جسکے ساتھ تدبیر ہو، اور وہ وہ ہے جو معاملے کے آخر اور انجام پر نظر رکھتی ہے اور آخرت میں قابل تعریف اور قابل مذمت چیزوں میں تمیز کرتی ہے۔ (مرقات) 2 قوله: لا ورع كالكف (برائیوں سے رکنے کی طرح کوئی پرہیزگاری نہیں ہے) نہایہ میں مذکور ہے کہ: ”ورع“ دراصل ممنوعات سے باز رہنا اور ان سے بچنا ہے، پھر حلال و مباح سے باز رہنے کیلئے اس کا استعمال کیا گیا، میں کہتا ہوں: حدیث میں ورع سے مراد اسکے اصلی معنی اور ”کف“ سے اسکے عرفی معنی مراد ہیں۔ (مرقات) 3 قوله: لا حسب كحسن الخلق (کوئی حسب خوش خلقی کی طرح نہیں ہے) یعنی مخلوق کے ساتھ حسن خلق جیسی کوئی بھی شرافت نہیں ہے۔ پہلی چیز یعنی حسب عام ہے اور دوسری چیز یعنی حسن خلق خاص ہے۔ 4 قوله: خذ الامر بالتدبير (کام کو تدبیر سے اختیار کرو) یعنی اسکے انجام میں سوچ بچار کر کے اور اسکے فائدوں اور نقصانات کے بارے میں غور و فکر کر کے اور اس معاملے کے انجام پر نظر ڈال کر اختیار کرو۔ (مرقات)