Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Etiquette

Hadith 4894

Chapter on Gentleness, Modesty, and Good Character

In this book

Current reading

Etiquette

Chapter on Gentleness, Modesty, and Good Character

Zujajat al-Masabih 4894Volume 4

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that a man insulted Abu Bakr while the Prophet (ﷺ) was sitting, marveling and smiling. When the man persisted, Abu Bakr responded with some of his words. The Prophet (ﷺ) became angry and stood up. Abu Bakr followed him and said: “O Messenger of Allah! He was insulting me while you were sitting, but when I responded with some of his words, you became angry and stood up?” He said: “An angel was with you, responding on your behalf. When you responded with some of his words, Satan appeared.” Then he said: “O Abu Bakr, three things are all true: No servant is wronged and overlooks it for Allah’s sake except that Allah strengthens his support; no man opens the door of giving, seeking connection, except that Allah increases his abundance; and no man opens the door of asking, seeking abundance, except that Allah increases his poverty.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٨٩٤ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ ﷺ جَالِسٌ يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ فَغَضِبَ النَّبِيُّ ﷺ وَقَامَ ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ؟ قَالَ: «كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ وَقَعَ الشَّيْطَانُ ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ : مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ بِمَظْلَمَةٍ فَيُغْضِي عَنْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا أَعَزَّ اللَّهُ بِهَا نَصْرَهُ، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ يُرِيدُ بِهَا صِلَةً إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا كَثْرَةً، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا قِلَّةً». رَوَاهُ أَحْمَدُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6491
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کو برا کہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے تعجب کر رہے تھے اور مسکراتے جاتے تھے، پس جب وہ زیادہ برا بولنے لگا تو آپ نے اس کی ایک بات کا جواب دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور اٹھ گئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کئے: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم وہ تو مجھے برا بول رہا تھا اور آپ تشریف فرما تھے، پس جب میں اس کو اس کی ایک بات کا جواب دیا تو آپ ناراض ہو گئے اور اٹھ گئے، تو آپ نے فرمایا: تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا وہ اس کو جواب دے رہا تھا پس جب تم نے اس کو جواب دیا تو شیطان بیچ میں آگیا پھر آپ نے فرمایا: اے ابوبکر تین باتیں وہ ساری کی ساری حق ہیں(1) نہیں ہے کوئی بندہ جس پر کوئی ظلم کیا جائے اور وہ اللہ کے لئے درگزر کر دے مگر اس کی وجہ سے اللہ اس کی عزت بڑھاتا ہے(2) اور نہیں ہے کوئی آدمی جو داد و دہش کا دروازہ کھولتا صلہ رحمی کرنا چاہتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے مال میں اضافہ کرتا ہے(3) اور نہیں ہے کوئی آدمی جو مانگنے کا دروازہ کھولتا ہے اس کے ذریعہ مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس میں اور کمی کر دیتا ہے۔ (احمد)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 5102 (unverified) 88% confidence
  • Candidate: Musnad Ahmad 9624 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 5102

Confidence and text similarity are not editorial verification.