اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6491
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا
ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کو برا کہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے تعجب کر رہے تھے اور
مسکراتے جاتے تھے، پس جب وہ زیادہ برا بولنے لگا تو آپ نے اس کی ایک بات کا جواب دیا، نبی
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور اٹھ گئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ حضور کی خدمت میں حاضر
ہوئے اور عرض کئے: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم وہ تو مجھے برا بول رہا تھا اور آپ تشریف
فرما تھے، پس جب میں اس کو اس کی ایک بات کا جواب دیا تو آپ ناراض ہو گئے اور اٹھ گئے،
تو آپ نے فرمایا: تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا وہ اس کو جواب دے رہا تھا پس جب تم نے اس کو
جواب دیا تو شیطان بیچ میں آگیا پھر آپ نے فرمایا: اے ابوبکر تین باتیں وہ ساری کی ساری حق
ہیں(1) نہیں ہے کوئی بندہ جس پر کوئی ظلم کیا جائے اور وہ اللہ کے لئے درگزر کر دے مگر اس کی وجہ
سے اللہ اس کی عزت بڑھاتا ہے(2) اور نہیں ہے کوئی آدمی جو داد و دہش کا دروازہ کھولتا صلہ رحمی کرنا
چاہتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے مال میں اضافہ کرتا ہے(3) اور نہیں ہے کوئی آدمی جو
مانگنے کا دروازہ کھولتا ہے اس کے ذریعہ مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس
میں اور کمی کر دیتا ہے۔ (احمد)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 5102 (unverified) 88% confidence
- Candidate: Musnad Ahmad 9624 (unverified) 30% confidence
Mishkat (candidate) 5102
Confidence and text similarity are not editorial verification.